جمعرات، 22 اکتوبر، 2026

زندگی ایک نوٹ بک — قسط 5: ادھوری دعائیں

 

قسط 5 — ادھوری دعائیں

وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔


زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں جن پر ہم اپنی خواہشیں لکھتے ہیں، اور پھر ان کے سامنے بیٹھ کر انتظار کرنے لگتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ اگر دل سے مانگا ہے تو مل بھی جائے گا۔ اگر آنکھیں نم ہوئی ہیں تو دعا قبول ہو جائے گی۔ اگر راتوں کی خاموشی میں کسی خواہش کو بار بار اللہ کے سامنے رکھا ہے تو ایک دن وہ خواہش حقیقت بن کر ہمارے سامنے آ کھڑی ہوگی۔

مگر زندگی ہمیشہ ہماری امیدوں کے مطابق نہیں لکھتی۔

کبھی ہم بہت مانگتے ہیں، مگر انتظار ختم نہیں ہوتا۔ کبھی دروازہ کھلتا ہی نہیں۔ اور کبھی وہ چیز مل جاتی ہے جس کے لیے ہم نے دعا نہیں کی ہوتی، جب کہ جسے ہم نے اپنی زندگی کا سب سے ضروری حصہ سمجھا تھا، وہ ہماری دسترس سے باہر رہتا ہے۔

تب انسان کے اندر ایک خاموش سوال جنم لیتا ہے:

"یا اللہ، میں نے تو یہی مانگا تھا، پھر مجھے یہ کیوں نہیں ملا؟"

یہ سوال ہمیشہ بے یقینی سے پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ ایک تھکے ہوئے دل کی آواز ہوتا ہے، جو سمجھ نہیں پاتا کہ جس چیز کو اس نے اپنے لیے خیر سمجھا، وہ اس کے حصے میں کیوں نہیں آئی۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ کوئی رشتہ قائم رہے، کوئی اپنا واپس آ جائے، کوئی خواب پورا ہو جائے، کسی مشکل کا خاتمہ ہو، یا زندگی کا کوئی بند دروازہ کھل جائے۔

ہم اپنے ذہن میں جواب کی ایک صورت بنا لیتے ہیں۔

ہم طے کر لیتے ہیں کہ خوشی کیسی دکھائی دے گی، مسئلہ کیسے حل ہوگا، اور ہماری زندگی کس موڑ پر جا کر آسان ہو جائے گی۔

پھر جب جواب ہماری بنائی ہوئی صورت میں نہیں آتا، تو ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہماری دعا ادھوری رہ گئی۔

لیکن کیا واقعی ہر وہ دعا ادھوری ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہماری خواہش جیسا نہ ہو؟

یا ہم نے دعا کے ساتھ ساتھ اس کے جواب کی شکل بھی خود مقرر کر رکھی ہوتی ہے؟

ہم بھول جاتے ہیں کہ دعا اللہ کے سامنے اپنی خواہش رکھنے کا نام ہے، مگر اس کے جواب کی صورت اور وقت ہمارے بس میں نہیں۔

ہم مانگ سکتے ہیں، مگر ہر چیز کو اپنے حق میں طے نہیں کر سکتے۔

ہم چاہ سکتے ہیں، مگر چاہنے سے حقیقت پر ہمارا زور قائم نہیں ہو جاتا۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں دعا صرف مانگنے کا عمل نہیں رہتی، بلکہ انسان کو اپنی حد پہچاننے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔


کچھ دعائیں وقت کے ساتھ قبولیت کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

کچھ کے جواب ہمیں بہت دیر بعد سمجھ آتے ہیں۔

اور کچھ خواہشوں کے بارے میں ہمیں شاید کبھی معلوم نہ ہو کہ وہ پوری کیوں نہیں ہوئیں۔

انسان کے لیے سب سے مشکل بات صرف انتظار کرنا نہیں، بلکہ انتظار کے دوران اپنے یقین کو سنبھالے رکھنا ہے۔

کیونکہ جب دن مہینوں میں، اور مہینے برسوں میں بدلنے لگیں تو دل سوال کرنے لگتا ہے۔

کیا میری دعا سنی گئی؟

کیا میری خاموشی بے معنی تھی؟

کیا میری امید محض میری اپنی بنائی ہوئی کہانی تھی؟

ایسے لمحوں میں ہمیں اپنے دل کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ دیر سے ملنے یا نہ ملنے والی چیز کے بارے میں بھی ہم مکمل علم نہیں رکھتے، اور نہ ہی ہر محرومی کے پیچھے چھپی حکمت کو فوراً سمجھ سکتے ہیں۔

لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے: دعا کا جواب ہماری خواہش کے مطابق نہ آنا، اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہم اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔

اور کسی مشکل کا برقرار رہنا بھی یہ ثابت نہیں کرتا کہ ہماری دعا بے اثر رہی۔

کبھی انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ بدلنا پڑتا ہے۔ کبھی اسے اپنی خواہش پر دوبارہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اور کبھی اسے کسی ایسے سوال کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے جس کا جواب اس وقت اس کے پاس نہیں ہوتا۔

یہ سب آسان نہیں ہوتا۔

ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی سوال نہ کرے، کبھی اداس نہ ہو، یا کبھی انتظار سے تھکے ہی نہ۔

شاید ایمان یہ ہے کہ سوالوں کے باوجود اللہ سے اپنا تعلق قائم رکھا جائے؛ اپنی کمزوری کو بھی اسی کے سامنے رکھا جائے، اور اپنے دل کی الجھن کو چھپانے کے بجائے اسی سے رہنمائی مانگی جائے۔

کیونکہ اللہ سے بات کرنے کے لیے ہر بار مطمئن ہونا ضروری نہیں۔

کبھی انسان صرف اتنا کہہ پاتا ہے:

"یا اللہ، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میرے لیے بہتر کیا ہے۔ میں اپنی خواہش سے آگے نہیں دیکھ پا رہا۔ اگر میں کسی ایسی چیز کے پیچھے ہوں جو میرے حق میں بہتر نہیں، تو مجھے اس سے بہتر راستہ دکھا دے۔ اور اگر یہ انتظار میرے لیے ضروری ہے، تو مجھے اس انتظار میں سنبھال لے۔"

بعض اوقات یہی وہ دعا ہوتی ہے جس میں انسان اپنی خواہش کے ساتھ اپنی بے بسی بھی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔


زندگی ایک نوٹ بک ہے۔

اور اس نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر ہماری دعائیں لکھی ہوتی ہیں، مگر ان کے جواب کے لیے جگہ خالی رہ جاتی ہے۔

ہم اس خالی جگہ کو بار بار دیکھتے ہیں۔

کبھی وہاں امید لکھتے ہیں، کبھی مایوسی، کبھی شکوہ، اور کبھی ایک نیا سوال۔

مگر ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ خالی جگہ ہمیشہ محرومی کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ ہماری محدود سمجھ اور نامعلوم مستقبل کے درمیان موجود فاصلہ ہوتی ہے۔

ہمیں صرف اتنا دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے کیا مانگا تھا اور ہمیں کیا ملا۔

ہم یہ نہیں جانتے کہ اگر ہماری خواہش اسی وقت پوری ہو جاتی تو ہماری زندگی کس سمت جاتی، اور اگر کوئی دوسرا راستہ کھلتا ہے تو اس میں ہمارے لیے کیا امکانات موجود ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر محرومی لازماً کسی بڑی خوشی کی تمہید ہے، یا ہر درد کے پیچھے کوئی ایسا انعام ضرور ہے جسے ہم بعد میں دیکھ لیں گے۔

کچھ دکھ واقعی دکھ ہوتے ہیں۔ کچھ انتظار واقعی تھکا دیتے ہیں۔ اور کچھ سوال انسان کے ساتھ بہت طویل عرصے تک رہتے ہیں۔

مگر زندگی کا سارا مفہوم صرف اس بات میں بھی تو نہیں کہ ہماری ہر خواہش پوری ہو جائے۔

کبھی مفہوم اس میں ہوتا ہے کہ خواہش پوری نہ ہونے کے باوجود ہم اپنے اندر کی نرمی محفوظ رکھیں۔ کبھی اس میں کہ محرومی ہمیں دوسروں کے دکھ سمجھنا سکھا دے۔ اور کبھی اس میں کہ ہم اپنی پوری زندگی کو ایک نامکمل خواہش کے حوالے نہ کر دیں۔

ہر ادھوری دعا کے بعد زندگی ختم نہیں ہو جاتی، مگر بعض اوقات ہم اپنی زندگی کو اسی دعا کے جواب کے انتظار میں روک دیتے ہیں۔

ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس اب بھی کچھ صفحات باقی ہیں۔

کچھ رشتے جنہیں محبت چاہیے، کچھ ذمہ داریاں جنہیں ہماری توجہ درکار ہے، کچھ خوشیاں جو ہماری توقع سے مختلف صورت میں ہمارے سامنے آ سکتی ہیں، اور کچھ راستے جن پر ہم نے صرف اس لیے قدم نہیں رکھا کہ ہماری نظر اب بھی ایک بند دروازے پر جمی ہوئی ہے۔

دعا کرنا امید ہے، مگر زندگی کو صرف ایک نتیجے سے باندھ دینا اپنے لیے بہت تنگ جگہ بنا لینا ہے۔

مانگتے رہیے، کوشش کرتے رہیے، راستے تلاش کرتے رہیے؛ مگر اپنی زندگی کو اس شرط پر معطل نہ کیجیے کہ جب تک وہ ایک خاص دعا پوری نہیں ہوگی، آپ آگے نہیں بڑھیں گے۔

کیونکہ کبھی کبھی ہمیں اپنی خواہش کے لیے کوشش جاری رکھتے ہوئے بھی زندگی کے دوسرے صفحات لکھنے ہوتے ہیں۔


اور پھر ایک دن انسان اپنی نوٹ بک کے پرانے صفحات پلٹتا ہے۔

وہ کچھ دعاؤں کو دیکھتا ہے جن کے جواب اسے مل گئے تھے، کچھ کو جن کے جواب اس کی توقع سے مختلف تھے، اور کچھ کو جن کے بارے میں آج بھی وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

شاید اس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی صرف ان چیزوں کا مجموعہ نہیں تھی جو اسے مل گئیں۔

وہ ان دنوں سے بھی بنی تھی جن میں اس نے انتظار کیا، ان راستوں سے بھی جنہیں اسے بدلنا پڑا، اور ان فیصلوں سے بھی جن میں اس نے اپنی خواہش کے باوجود حقیقت کو قبول کرنا سیکھا۔

لیکن قبول کرنا، ہار مان لینا نہیں ہوتا۔

قبول کرنا کبھی کبھی یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ میں اپنی خواہش کو اہم سمجھ سکتا ہوں، اس کے لیے دعا بھی کر سکتا ہوں، مگر اپنی پوری زندگی کی قدر کو اس کے ملنے یا نہ ملنے سے طے نہیں کروں گا۔

اور دعا کے سفر میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے:

ابتدا میں ہم اللہ سے کہتے ہیں، "مجھے وہ دے دے جو میں چاہتا ہوں۔"

پھر وقت کے ساتھ کبھی ہماری دعا یہ بن جاتی ہے، "یا اللہ، مجھے وہ راستہ دکھا جس میں میرے لیے خیر ہو۔"

اور بعض لمحوں میں ہم صرف اتنا کہہ پاتے ہیں:

"یا اللہ، مجھے ہر جواب سمجھ نہیں آتا، مگر میں تجھ سے رہنمائی مانگتا ہوں۔ میرے لیے آسانی پیدا کر، مجھے درست فیصلہ کرنے کی توفیق دے، اور میرے دل کو مایوسی میں گم ہونے سے بچا۔"

یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں آتی۔

یہ کئی خاموش راتوں، کئی سوالوں اور کئی ایسے صفحات کے بعد آتی ہے جن پر ہم نے اپنی مرضی کا جواب نہیں دیکھا ہوتا۔

مگر پھر بھی ہم قلم اٹھاتے ہیں۔

کیونکہ ہماری نوٹ بک میں ابھی بہت کچھ لکھا جانا باقی ہوتا ہے۔


شاید ادھوری دعا کا سب سے گہرا سوال یہ نہیں کہ اللہ نے ہمیں وہ کیوں نہیں دیا جو ہم مانگتے رہے؛ بلکہ یہ ہے کہ جس چیز کے انتظار میں ہم نے اپنی زندگی کا کتنا حصہ گزار دیا، کیا ہم نے اس انتظار کے دوران زندگی کو جینا بھی یاد رکھا؟

ہماری خواہشیں اہم ہیں، مگر وہ ہماری پوری ذات نہیں۔

ہماری دعائیں قیمتی ہیں، مگر ہماری زندگی صرف ان کے جواب آنے تک محدود نہیں۔

اور بھروسا شاید یہ نہیں کہ ہمیں پہلے سے معلوم ہو کہ انجام کیا ہوگا؛ بلکہ یہ ہے کہ نامعلوم انجام کے باوجود ہم خیر مانگنا، درست کوشش کرنا، اور اپنی زندگی کو بامعنی بنانا نہ چھوڑیں۔

آخرکار، نوٹ بک بند ہونے سے پہلے ہمیں بہت سے صفحات ملیں گے جن پر ہماری خواہشیں پوری ہوئی ہوں گی، اور بہت سے ایسے بھی جن پر سوال باقی رہ گئے ہوں گے۔

تب ہمیں یہ سمجھ آئے گی کہ ہر سوال کا جواب جان لینا ہمارے بس میں نہیں تھا۔

مگر اپنے حصے کی زندگی کو صرف انتظار میں گزار دینا بھی ضروری نہیں تھا۔

کچھ دعائیں ہمیں وہ چیز نہیں دلا سکیں جسے ہم اپنی خوشی سمجھتے تھے؛ مگر ان کے انتظار میں ہمیں یہ سیکھنا تھا کہ خوشی، امید اور جینے کا حوصلہ کسی ایک خواہش کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

اور شاید سب سے اہم بات یہی ہے:

دعا کے جواب کا انتظار ضرور کیجیے، مگر اپنی زندگی کو جواب آنے تک خالی صفحہ مت رہنے دیجیے۔

کچھ صفحات آپ کی خواہش سے لکھے جائیں گے، کچھ آپ کی سمجھ سے باہر ہوں گے، اور کچھ کے معنی شاید آپ کو کبھی پوری طرح معلوم نہ ہوں۔

مگر جب تک قلم آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ کے پاس ایک انتخاب باقی ہے:

آپ انتظار کو اپنی پوری کہانی بناتے ہیں،
یا انتظار کے درمیان بھی
زندگی کی کوئی سچی سطر لکھ دیتے ہیں۔

کیونکہ ہر دعا کا جواب جان لینا شاید ضروری نہ ہو، مگر دعا کرتے ہوئے اپنے رب سے جڑے رہنا، اپنی کوشش جاری رکھنا، اور زندگی کی امانت کو بے معنی نہ ہونے دینا، یہ سب اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔

اور ادھوری دعا ہمیشہ ادھوری زندگی کی علامت نہیں ہوتی؛ کبھی وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری زندگی کا مفہوم صرف اس میں نہیں کہ ہمیں کیا ملا، بلکہ اس میں بھی ہے کہ جو نہیں ملا، اس کے باوجود ہم نے اپنے حصے کی زندگی کیسے گزاری۔

جاری ہے…

تحریر
ایلاف

اتوار، 4 اکتوبر، 2026

زندگی ایک نوٹ بک – قسط ۴ – کردار جو چند صفحات بعد چلے گئے

کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایسے آتے ہیں
جیسے کتاب میں کوئی خوبصورت کردار داخل ہوا ہو۔

ہمیں لگتا ہے،
یہ کردار اب آخری صفحے تک ساتھ رہے گا۔

ہم اس کے ساتھ آنے والے صفحات کا تصور کرنے لگتے ہیں،
اس کے نام سے کئی جملے جوڑ لیتے ہیں،
اور جانے انجانے میں
اپنی کہانی کا ایک حصہ اس کے نام کر دیتے ہیں۔

مگر زندگی کی کتاب
ہماری مرضی سے نہیں لکھی جاتی۔

کچھ کردار
صرف چند صفحات کے لیے آتے ہیں۔

کچھ ہمیں ہنسانے کے لیے،
کچھ ہمیں رلانے کے لیے،
کچھ ہمیں محبت سکھانے کے لیے،
اور کچھ ہمیں یہ سمجھانے کے لیے
کہ ہر تعلق کا انجام ساتھ رہنا نہیں ہوتا۔

جب کوئی چلا جاتا ہے

سب سے مشکل جدائی شاید وہ نہیں ہوتی
جب کوئی چلا جاتا ہے۔

مشکل یہ سمجھنا ہوتا ہے
کہ جو شخص کل ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھا،
آج وہ صرف ایک یاد کیوں رہ گیا؟

کل جس سے بات کیے بغیر دن ادھورا لگتا تھا،
آج اسی کے بغیر دن گزر جاتا ہے۔

مگر دل فوراً یہ تبدیلی قبول نہیں کرتا۔

وہ پرانے صفحات بار بار کھولتا ہے،
پرانے جملے پڑھتا ہے،
وہ لمحے ڈھونڈتا ہے
جہاں شاید کہانی کا رخ بدل سکتا تھا۔

ہم سوچتے ہیں،
کاش ہم کچھ اور کہتے…
کاش کچھ اور سمجھتے…
کاش وہ رک جاتا…
کاش ہم اسے روک سکتے۔

مگر کچھ "کاش"
زندگی کی کتاب میں
صرف سوال بن کر رہ جاتے ہیں۔

شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں
کہ کسی کا ہماری زندگی میں آنا
ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا
کہ وہ ہماری زندگی میں ہمیشہ رہے گا۔

کچھ لوگ منزل نہیں ہوتے،
راستے کا ایک ضروری موڑ ہوتے ہیں۔

وہ ہمیں کچھ دے کر جاتے ہیں۔

کبھی ایک سبق،
کبھی ایک یاد،
کبھی ایک زخم،
اور کبھی اپنے اندر جھانکنے کی وہ وجہ
جو ان کے بغیر شاید کبھی پیدا نہ ہوتی۔

اور عجیب بات یہ ہے
کہ جب کوئی شخص چلا جاتا ہے
تو صرف وہ نہیں جاتا۔

اس کے ساتھ ہماری زندگی کا ایک پرانا روپ بھی چلا جاتا ہے۔

وہ انسان
جو ہم اس شخص کے ساتھ ہوا کرتے تھے،
وہ ہنسی،
وہ انتظار،
وہ عادتیں،
وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں…
سب ایک پرانے صفحے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

پھر ایک دن
ہم وہی کتاب کھولتے ہیں
اور محسوس کرتے ہیں
کہ کردار تو جا چکا ہے،
مگر اس کے چھوڑے ہوئے الفاظ
اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔

یاد رکھنا اور واپس چاہنا

تب شاید ہمیں سمجھ آتا ہے
کہ ہر جدائی مٹانے کے لیے نہیں ہوتی۔

کچھ جدائیاں
صرف یہ سکھانے آتی ہیں
کہ یاد رکھنا اور واپس چاہنا
ایک ہی بات نہیں۔

کسی کو یاد کیا جا سکتا ہے
بغیر اس کے لوٹنے کی خواہش کے۔

کسی کے لیے دعا کی جا سکتی ہے
بغیر دوبارہ اس کا حصہ بنے۔

اور کسی کو دل میں عزت سے رکھا جا سکتا ہے
بغیر اپنی زندگی کو
اسی ایک صفحے پر روکے۔

کیونکہ زندگی ایک نوٹ بک ہے۔

اور اگر ہم ہر اس کردار کے جانے کے بعد
قلم رکھ دیں
جو ہمیں عزیز تھا،
تو ہماری کتاب کبھی آگے نہیں بڑھے گی۔

شاید اللہ نے کچھ لوگوں کو
ہماری کتاب میں ہمیشہ کے لیے نہیں،
بلکہ ہمیں بدلنے کے لیے لکھا تھا۔

اختیار کی بات

ہمیں یہ اختیار نہیں
کہ کون کب آئے گا،
کون کب جائے گا،
اور کون آخری صفحے تک ہمارے ساتھ رہے گا۔

مگر ہمارے پاس ایک اختیار ضرور ہے—

کہ کسی کے چلے جانے کے بعد
ہم اپنے اندر کیا باقی رکھتے ہیں۔

تلخی؟
یا سبق؟

شکایت؟
یا شکر؟

خالی پن؟
یا ایک نئی سمجھ؟

شاید ہر جانے والا شخص
ہماری کہانی کا نقصان نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ
ہماری کہانی کے وہ صفحات ہوتے ہیں
جنہیں ہم کبھی دوبارہ نہیں لکھ سکتے،
مگر جن کے بغیر
ہم وہ انسان بھی نہیں بن سکتے
جو بعد کے صفحات پر نظر آتا ہے۔

اور شاید زندگی کا ایک گہرا راز یہ ہے
کہ ہمیں ہر کردار کا اختتام سمجھنا ضروری نہیں۔

کچھ لوگ کیوں آئے؟
کچھ کیوں چلے گئے؟
کچھ اتنے قریب آ کر اجنبی کیوں ہو گئے؟

ہو سکتا ہے
ان سب سوالوں کے جواب
ہمیں اسی کتاب کے اندر نہ ملیں۔

کچھ جواب
وقت کے پاس ہوتے ہیں،
اور کچھ صرف اللہ کے پاس۔

ہم صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں،
وہ پوری کتاب جانتا ہے۔

اس لیے شاید کسی کے چلے جانے کو
اپنی پوری کہانی کا اختتام سمجھ لینا
انصاف نہیں۔

وہ شخص جا چکا ہے،
مگر کتاب ابھی باقی ہے۔

ایک کردار ختم ہوا ہے،
کہانی نہیں۔

کتاب کے آخری صفحات

اور شاید کسی دن
جب ہم اپنی کتاب کے آخری صفحات پلٹیں گے،
تو پیچھے مڑ کر دیکھیں گے
اور سمجھیں گے کہ

کچھ لوگ ہمارے ساتھ چلنے کے لیے نہیں آئے تھے،
وہ ہمیں کچھ دور تک چلنا سکھانے آئے تھے۔

کچھ نے ہاتھ تھاما،
کچھ نے ہاتھ چھوڑ دیا،
اور کچھ نے ہمیں یہ سکھایا
کہ ہر ہاتھ ہمیشہ تھاما نہیں رہتا۔

مگر زندگی کا کمال شاید یہی ہے
کہ جانے والوں کے بعد بھی
انسان قلم نہیں چھوڑتا۔

وہ آنکھیں پونچھتا ہے،
پرانی سطروں کو قبول کرتا ہے،
اور اگلے خالی صفحے پر
ایک نئی سطر لکھ دیتا ہے۔

کیونکہ ہر وہ شخص
جو ہماری زندگی سے چلا گیا،
ہماری کتاب سے بھی نہیں مٹا۔

وہ کہیں نہ کہیں
ہماری شخصیت کے کسی جملے میں،
کسی خاموشی میں،
کسی دعا میں،
یا کسی سبق میں
اب بھی موجود ہے۔

شاید کچھ کردار چند صفحات بعد اس لیے چلے جاتے ہیں
کہ ہمیں یہ سمجھ آ سکے—
کتاب خوبصورت صرف کرداروں کے رہنے سے نہیں بنتی،
بلکہ ان کے جانے کے بعد بھی
کہانی کو سچائی سے آگے بڑھانے سے بنتی ہے۔

اور شاید…
کچھ لوگ ہماری زندگی کے لیے نہیں،
ہماری زندگی کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں۔

• • •

جو ہم نے ڈھونڈا، اور جو ہمیں ملا

شاید ہم زندگی بھر
ان لوگوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں
جو ہمیں چھوڑ گئے،
اور یہ سمجھنے میں دیر کر دیتے ہیں
کہ کچھ لوگ واپس آنے کے لیے نہیں،
ہمیں آگے بڑھنا سکھانے کے لیے جاتے ہیں۔

ہر جدائی کا مطلب یہ نہیں
کہ محبت ختم ہو گئی۔

کبھی کبھی محبت اپنی آخری شکل میں
صرف ایک دعا بن جاتی ہے—
ایسی دعا
جس میں واپسی کی خواہش نہیں ہوتی،
صرف خیر کی خواہش ہوتی ہے۔

اور شاید یہی پختگی ہے؛
کسی کو کھونے کے بعد بھی
اس کے خلاف دل میں عدالت نہ لگانا۔

کیونکہ آخرکار
ہمیں یہ فیصلہ نہیں کرنا ہوتا
کہ وہ شخص ہماری زندگی میں کیوں آیا تھا۔

کچھ سوال
انسان کے لیے نہیں ہوتے۔

کچھ کردار
اللہ کی حکمت میں لکھے جاتے ہیں،
ہماری سمجھ میں نہیں۔

ہم نے ایک صفحہ دیکھا،
وہ پوری کتاب جانتا تھا۔

ہم نے جدائی دیکھی،
وہ شاید اس کے بعد کے صفحات بھی دیکھ رہا تھا۔

اس لیے ممکن ہے
جسے ہم اپنی کہانی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ رہے ہوں،
وہ ہماری کتاب کا وہ موڑ ہو
جہاں سے ہم پہلی بار
اپنے آپ کو سمجھنا شروع کریں۔

کچھ لوگ ہمیں چھوڑ کر نہیں جاتے،
وہ ہماری ذات میں اپنا ایک صفحہ چھوڑ جاتے ہیں۔

پھر وقت گزرتا ہے،
ہم کتاب آگے بڑھاتے ہیں،
اور ایک دن اچانک محسوس ہوتا ہے—

ہم انہیں بھولے نہیں تھے،
ہم صرف ان کے بغیر جینا سیکھ گئے تھے۔

تب سمجھ آتا ہے
کہ ہر تعلق کی آخری منزل
ساتھ رہنا نہیں ہوتی۔

کچھ لوگ
ہماری زندگی میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں،
ہماری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدلنے آتے ہیں۔

اور شاید انسان کی پوری زندگی بھی ایسی ہی ہے—

کچھ چہرے آتے ہیں،
کچھ چہرے چلے جاتے ہیں،
کچھ نام وقت کے ساتھ دھندلے ہو جاتے ہیں،
مگر ہر شخص
ہماری کتاب میں
اپنی ایک سطر چھوڑ جاتا ہے۔

آخر میں
کتاب بند ہو جائے گی۔

تمام کردار اپنے اپنے مقام پر رک جائیں گے۔

تب شاید ہم یہ نہیں گنیں گے
کہ کتنے لوگ ہمارے ساتھ رہے،
بلکہ یہ دیکھیں گے
کہ جنہیں اللہ نے ہماری کتاب کے چند صفحات میں رکھا،
ہم نے ان کے ساتھ کیا لکھا۔

کیونکہ شاید زندگی کا اصل فلسفہ
لوگوں کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا نہیں،
بلکہ ان کے گزر جانے کے بعد بھی
اپنے دل کو انسان رکھنا ہے۔

اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے—

کچھ لوگ ہماری کہانی کا اختتام نہیں ہوتے،
وہ صرف وہ صفحہ ہوتے ہیں
جس کے بعد ہم
پہلی بار اپنی کہانی کو
اپنی آنکھوں سے پڑھنا شروع کرتے ہیں۔

جاری ہے…

فقط
ایلاف

زندگی ایک نوٹ بک — قسط 5: ادھوری دعائیں

  قسط 5 — ادھوری دعائیں وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔ زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ...