منگل، 22 ستمبر، 2026

Note book by Elaf


زندگی ایک نوٹ بک

قسط دوم

"خالی صفحات"

کچھ عمر تک انسان کو لگتا ہے کہ زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات کوئی اور پلٹ رہا ہے۔

بچپن میں فیصلے ہمارے لیے کیے جاتے ہیں

کیا پہننا ہے، کہاں جانا ہے، کس وقت واپس آنا ہے، کس سے بات کرنی ہے، کس سے نہیں۔

ہمیں صرف جینا ہوتا ہے، سوچنا نہیں۔

پھر ایک عمر آتی ہے۔۔۔

جب اچانک زندگی ہمارے سامنے ایک خالی صفحہ رکھ دیتی ہے۔

نہ اس پر کوئی جملہ لکھا ہوتا ہے

نہ کوئی سمت نشان زد ہوتی ہے

نہ یہ بتایا جاتا ہے کہ اگلی سطر کہاں سے شروع کرنی ہے۔

بس ایک خاموش سوال ہوتا ہے

اب تم کیا لکھو گے؟


شاید یہی وہ عمر ہے جہاں انسان پہلی بار اپنے وجود کی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔

اس سے پہلے تک جو کچھ تھا، وہ بہت حد تک دوسروں کے فیصلوں کا حصہ تھا

پھر آہستہ آہستہ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کے انتخاب ہی اس کی شناخت بنیں گے۔

کس خواب کے پیچھے جانا ہے

کس راستے سے واپس آنا ہے

کس شخص کو اپنی کہانی میں جگہ دینی ہے

کس تعلق کو صرف ایک سبق سمجھ کر چھوڑ دینا ہے

کس درد کو اپنے اندر زہر بننے دینا ہے اور کس درد کو حکمت۔

خالی صفحہ خوبصورت بھی ہوتا ہے اور خوفناک بھی۔

خوبصورت اس لیے کہ اس پر ابھی کچھ خراب نہیں لکھا گیا۔

اور خوفناک اس لیے کہ اب غلطی کا الزام کسی اور پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

ہم اکثر زندگی میں اس مقام پر کھڑے ہو کر ڈر جاتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کوئی ہمیں بتا دے کہ صحیح کیا ہے۔

کوئی پہلے سے لکھا ہوا نقشہ ہمارے ہاتھ میں تھما دے۔

کوئی کہہ دے کہ یہ راستہ خوشی تک جاتا ہے

یہ شخص تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا

یہ خواب ضرور پورا ہوگا

یہ فیصلہ کبھی غلط ثابت نہیں ہوگا۔

مگر زندگی ایسی ضمانتیں نہیں دیتی۔

وہ صرف صفحات دیتی ہے۔

اور قلم ہمارے ہاتھ میں رکھ دیتی ہے۔

پھر ہم لکھتے ہیں۔

کبھی جلدی میں

کبھی جذبات میں

کبھی دوسروں کو خوش کرنے کے لیے

کبھی خود کو ثابت کرنے کے لیے۔

کبھی ایک ایسا فیصلہ کر بیٹھتے ہیں جسے برسوں بعد پڑھ کر سوچتے ہیں


"کاش میں نے یہ سطر نہ لکھی ہوتی"


مگر وقت کی کتاب میں "کاش" کے لیے الگ صفحہ نہیں ہوتا۔

جو لکھ دیا، وہ لکھ دیا۔

البتہ ایک چیز ہمیشہ باقی رہتی ہے

"اگلا صفحہ"

شاید زندگی کا سب سے بڑا رحم یہی ہے کہ انسان کو ہر غلطی کے بعد ایک نیا صفحہ ملتا ہے۔

ہم اپنے ایک غلط باب کو پوری کتاب سمجھ لیتے ہیں۔

ایک ناکامی ہوتی ہے اور ہم خود کو ناکام سمجھ لیتے ہیں۔

ایک رشتہ ختم ہوتا ہے اور ہمیں لگتا ہے محبت ختم ہوگئی۔

ایک خواب بکھرتا ہے اور ہمیں لگتا ہے ہمارے اندر خواب دیکھنے کی صلاحیت بھی مر گئی۔

ایک دعا پوری نہیں ہوتی اور ہم سمجھتے ہیں شاید ہماری دعا کی کوئی قدر نہیں۔

حالانکہ وہ صرف ایک صفحہ تھا۔

پوری کتاب نہیں۔

زندگی کے خالی صفحات ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہر چیز پہلے سے لکھی ہوئی محسوس ہونے کے باوجود ہمارے پاس انتخاب باقی رہتا ہے۔

ہم حالات کا انتخاب ہمیشہ نہیں کر سکتے

مگر اپنے ردِعمل کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

ہم یہ طے نہیں کر سکتے کہ کون ہمارے ساتھ رہے گا،

مگر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کسی کے چلے جانے کے بعد ہم اپنے اندر کیا باقی رکھیں گے۔

ہم یہ نہیں طے کر سکتے کہ کون سا خواب ٹوٹے گا،

مگر یہ ضرور طے کر سکتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے خواب کے ملبے پر بیٹھے رہنا ہے یا اسی سے کوئی نئی بنیاد بنانی ہے۔

اور شاید یہی بلوغت ہے۔

زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق لکھنا نہیں

بلکہ جو صفحہ ملے، اسے سمجھ داری سے مکمل کرنا۔

کبھی کبھی خالی صفحات ہمیں تنہائی دیتے ہیں۔

وہ وقت جب انسان کے پاس نہ کوئی واضح منزل ہوتی ہے، نہ کوئی ایسا شخص جس سے اپنے سارے سوال پوچھ سکے۔

وہ راتیں جب انسان اپنے ہی خیالات کے ساتھ بیٹھا رہتا ہے۔


اپنے مستقبل کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے

میں آخر بنوں گا کیا؟


میری زندگی کا مطلب کیا ہے؟

میں جو کر رہا ہوں، کیا واقعی یہی میرا راستہ ہے؟

شاید ہمیں ان سوالوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

کیونکہ ہر خالی صفحہ فوراً جواب مانگنے کے لیے نہیں ہوتا۔

کچھ صفحات صرف سوچنے کے لیے ہوتے ہیں۔

کچھ خاموشیاں انسان کو اپنے اندر کی آواز سنانے کے لیے آتی ہیں۔

اور کبھی کبھی جب دنیا کے سارے شور خاموش ہو جاتے ہیں، تب انسان پہلی بار اپنے رب کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے


یا اللّٰه ! میں اپنی زندگی میں کیا لکھوں؟

شاید یہ سوال خود ایک دعا ہے۔

کیونکہ جب انسان اپنی مرضی کی کہانی لکھنے سے آگے بڑھ کر اپنے رب سے سمت مانگتا ہے، تو خالی صفحہ اتنا خوفناک نہیں رہتا۔

پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر سطر کا نتیجہ جاننا ضروری نہیں

ضروری یہ ہے کہ نیت درست ہو، قدم درست سمت میں ہو، اور دل اپنے رب سے جڑا رہے۔

ہم اکثر اپنی زندگی کا بہترین صفحہ لکھنے کے چکر میں رہتے ہیں۔

مگر شاید زندگی ہم سے بہترین صفحہ نہیں مانگتی۔

وہ صرف سچا صفحہ مانگتی ہے۔

ایسا صفحہ جس پر ہماری اپنی خوشی ہو، ہماری اپنی غلطی ہو، ہماری اپنی توبہ ہو، ہماری اپنی کوشش ہو۔

ایسا صفحہ جسے پڑھتے ہوئے ہمیں یہ نہ کہنا پڑے

یہ زندگی تو میں نے دوسروں کی خواہش پر گزاری تھی۔

کیونکہ سب سے بڑا افسوس شاید ناکام ہونے کا نہیں ہوگا

سب سے بڑا افسوس یہ ہوگا کہ

ہمیں صفحات تو اپنے ملے تھے، مگر ہم نے پوری کتاب دوسروں کے ہاتھ میں دے دی۔

اس لیے اگر آج زندگی کا کوئی صفحہ خالی ہے تو اسے دیکھ کر پریشان مت ہوں۔

خالی ہونا ہمیشہ ادھورا ہونا نہیں ہوتا۔

کبھی خالی صفحہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ

کہانی ابھی باقی ہے۔

ابھی ایک خواب لکھا جا سکتا ہے۔

ابھی ایک معافی لکھی جا سکتی ہے۔

ابھی ایک دعا لکھی جا سکتی ہے۔

ابھی ایک نئی ابتدا ممکن ہے۔

اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ

کل کے صفحات جیسے بھی تھے

آج کا صفحہ ابھی آپ کے سامنے ہے۔

قلم اٹھائیے.....


مگر اس بار جلدی نہ کیجیے.....


سوچ کر لکھیے.....


کیونکہ زندگی کی نوٹ بک میں ہر صفحہ دوبارہ نہیں ملتا۔

اور شاید خالی صفحات ہمیں اس لیے نہیں دیے گئے کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی لکھیں

بلکہ اس لیے کہ ہم اپنے اختیار کو پہچان سکیں۔

زندگی کا کمال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے خوبصورت صفحات لکھے

بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے حصے کے اندھیروں میں بھی کیا لکھا۔

آخرکار کتاب بند ہو جائے گی

صفحات پلٹنا رک جائیں گے

اور ہمارے ہاتھ سے قلم بھی چھوٹ جائے گا۔

اس لیے جو صفحہ آج ہمارے سامنے ہے

اسے اتنا سچا لکھیں کہ کل اسے پڑھتے ہوئے

ہمیں اپنے آپ سے نظریں نہ چرانا پڑیں۔


جاری ہے

1 تبصرہ:

  1. زندگی کو نوٹ بک اور اس کے صفحات کو ہمارے فیصلوں سے جوڑنے کا خیال بہت خوبصورت لگا۔ خاص طور پر یہ بات کہ ایک غلط صفحہ پوری کتاب نہیں ہوتا، دل کو چھو گئی۔ تحریر بہت سادہ انداز میں زندگی، غلطیوں اور نئے آغاز کی ایک گہری بات کہہ گئی۔ 🤍

    جواب دیںحذف کریں

زندگی ایک نوٹ بک — قسط 5: ادھوری دعائیں

  قسط 5 — ادھوری دعائیں وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔ زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ...