کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایسے آتے ہیں
جیسے کتاب میں کوئی خوبصورت کردار داخل ہوا ہو۔
ہمیں لگتا ہے،
یہ کردار اب آخری صفحے تک ساتھ رہے گا۔
ہم اس کے ساتھ آنے والے صفحات کا تصور کرنے لگتے ہیں،
اس کے نام سے کئی جملے جوڑ لیتے ہیں،
اور جانے انجانے میں
اپنی کہانی کا ایک حصہ اس کے نام کر دیتے ہیں۔
مگر زندگی کی کتاب
ہماری مرضی سے نہیں لکھی جاتی۔
کچھ کردار
صرف چند صفحات کے لیے آتے ہیں۔
کچھ ہمیں ہنسانے کے لیے،
کچھ ہمیں رلانے کے لیے،
کچھ ہمیں محبت سکھانے کے لیے،
اور کچھ ہمیں یہ سمجھانے کے لیے
کہ ہر تعلق کا انجام ساتھ رہنا نہیں ہوتا۔
جب کوئی چلا جاتا ہے
سب سے مشکل جدائی شاید وہ نہیں ہوتی
جب کوئی چلا جاتا ہے۔
مشکل یہ سمجھنا ہوتا ہے
کہ جو شخص کل ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھا،
آج وہ صرف ایک یاد کیوں رہ گیا؟
کل جس سے بات کیے بغیر دن ادھورا لگتا تھا،
آج اسی کے بغیر دن گزر جاتا ہے۔
مگر دل فوراً یہ تبدیلی قبول نہیں کرتا۔
وہ پرانے صفحات بار بار کھولتا ہے،
پرانے جملے پڑھتا ہے،
وہ لمحے ڈھونڈتا ہے
جہاں شاید کہانی کا رخ بدل سکتا تھا۔
ہم سوچتے ہیں،
کاش ہم کچھ اور کہتے…
کاش کچھ اور سمجھتے…
کاش وہ رک جاتا…
کاش ہم اسے روک سکتے۔
مگر کچھ "کاش"
زندگی کی کتاب میں
صرف سوال بن کر رہ جاتے ہیں۔
شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں
کہ کسی کا ہماری زندگی میں آنا
ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا
کہ وہ ہماری زندگی میں ہمیشہ رہے گا۔
کچھ لوگ منزل نہیں ہوتے،
راستے کا ایک ضروری موڑ ہوتے ہیں۔
وہ ہمیں کچھ دے کر جاتے ہیں۔
کبھی ایک سبق،
کبھی ایک یاد،
کبھی ایک زخم،
اور کبھی اپنے اندر جھانکنے کی وہ وجہ
جو ان کے بغیر شاید کبھی پیدا نہ ہوتی۔
اور عجیب بات یہ ہے
کہ جب کوئی شخص چلا جاتا ہے
تو صرف وہ نہیں جاتا۔
اس کے ساتھ ہماری زندگی کا ایک پرانا روپ بھی چلا جاتا ہے۔
وہ انسان
جو ہم اس شخص کے ساتھ ہوا کرتے تھے،
وہ ہنسی،
وہ انتظار،
وہ عادتیں،
وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں…
سب ایک پرانے صفحے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
پھر ایک دن
ہم وہی کتاب کھولتے ہیں
اور محسوس کرتے ہیں
کہ کردار تو جا چکا ہے،
مگر اس کے چھوڑے ہوئے الفاظ
اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔
یاد رکھنا اور واپس چاہنا
تب شاید ہمیں سمجھ آتا ہے
کہ ہر جدائی مٹانے کے لیے نہیں ہوتی۔
کچھ جدائیاں
صرف یہ سکھانے آتی ہیں
کہ یاد رکھنا اور واپس چاہنا
ایک ہی بات نہیں۔
کسی کو یاد کیا جا سکتا ہے
بغیر اس کے لوٹنے کی خواہش کے۔
کسی کے لیے دعا کی جا سکتی ہے
بغیر دوبارہ اس کا حصہ بنے۔
اور کسی کو دل میں عزت سے رکھا جا سکتا ہے
بغیر اپنی زندگی کو
اسی ایک صفحے پر روکے۔
کیونکہ زندگی ایک نوٹ بک ہے۔
اور اگر ہم ہر اس کردار کے جانے کے بعد
قلم رکھ دیں
جو ہمیں عزیز تھا،
تو ہماری کتاب کبھی آگے نہیں بڑھے گی۔
شاید اللہ نے کچھ لوگوں کو
ہماری کتاب میں ہمیشہ کے لیے نہیں،
بلکہ ہمیں بدلنے کے لیے لکھا تھا۔
اختیار کی بات
ہمیں یہ اختیار نہیں
کہ کون کب آئے گا،
کون کب جائے گا،
اور کون آخری صفحے تک ہمارے ساتھ رہے گا۔
مگر ہمارے پاس ایک اختیار ضرور ہے—
کہ کسی کے چلے جانے کے بعد
ہم اپنے اندر کیا باقی رکھتے ہیں۔
تلخی؟
یا سبق؟
شکایت؟
یا شکر؟
خالی پن؟
یا ایک نئی سمجھ؟
شاید ہر جانے والا شخص
ہماری کہانی کا نقصان نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ
ہماری کہانی کے وہ صفحات ہوتے ہیں
جنہیں ہم کبھی دوبارہ نہیں لکھ سکتے،
مگر جن کے بغیر
ہم وہ انسان بھی نہیں بن سکتے
جو بعد کے صفحات پر نظر آتا ہے۔
اور شاید زندگی کا ایک گہرا راز یہ ہے
کہ ہمیں ہر کردار کا اختتام سمجھنا ضروری نہیں۔
کچھ لوگ کیوں آئے؟
کچھ کیوں چلے گئے؟
کچھ اتنے قریب آ کر اجنبی کیوں ہو گئے؟
ہو سکتا ہے
ان سب سوالوں کے جواب
ہمیں اسی کتاب کے اندر نہ ملیں۔
کچھ جواب
وقت کے پاس ہوتے ہیں،
اور کچھ صرف اللہ کے پاس۔
ہم صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں،
وہ پوری کتاب جانتا ہے۔
اس لیے شاید کسی کے چلے جانے کو
اپنی پوری کہانی کا اختتام سمجھ لینا
انصاف نہیں۔
وہ شخص جا چکا ہے،
مگر کتاب ابھی باقی ہے۔
ایک کردار ختم ہوا ہے،
کہانی نہیں۔
کتاب کے آخری صفحات
اور شاید کسی دن
جب ہم اپنی کتاب کے آخری صفحات پلٹیں گے،
تو پیچھے مڑ کر دیکھیں گے
اور سمجھیں گے کہ
کچھ لوگ ہمارے ساتھ چلنے کے لیے نہیں آئے تھے،
وہ ہمیں کچھ دور تک چلنا سکھانے آئے تھے۔
کچھ نے ہاتھ تھاما،
کچھ نے ہاتھ چھوڑ دیا،
اور کچھ نے ہمیں یہ سکھایا
کہ ہر ہاتھ ہمیشہ تھاما نہیں رہتا۔
مگر زندگی کا کمال شاید یہی ہے
کہ جانے والوں کے بعد بھی
انسان قلم نہیں چھوڑتا۔
وہ آنکھیں پونچھتا ہے،
پرانی سطروں کو قبول کرتا ہے،
اور اگلے خالی صفحے پر
ایک نئی سطر لکھ دیتا ہے۔
کیونکہ ہر وہ شخص
جو ہماری زندگی سے چلا گیا،
ہماری کتاب سے بھی نہیں مٹا۔
وہ کہیں نہ کہیں
ہماری شخصیت کے کسی جملے میں،
کسی خاموشی میں،
کسی دعا میں،
یا کسی سبق میں
اب بھی موجود ہے۔
شاید کچھ کردار چند صفحات بعد اس لیے چلے جاتے ہیں
کہ ہمیں یہ سمجھ آ سکے—
کتاب خوبصورت صرف کرداروں کے رہنے سے نہیں بنتی،
بلکہ ان کے جانے کے بعد بھی
کہانی کو سچائی سے آگے بڑھانے سے بنتی ہے۔
اور شاید…
کچھ لوگ ہماری زندگی کے لیے نہیں،
ہماری زندگی کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں۔
جو ہم نے ڈھونڈا، اور جو ہمیں ملا
شاید ہم زندگی بھر
ان لوگوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں
جو ہمیں چھوڑ گئے،
اور یہ سمجھنے میں دیر کر دیتے ہیں
کہ کچھ لوگ واپس آنے کے لیے نہیں،
ہمیں آگے بڑھنا سکھانے کے لیے جاتے ہیں۔
ہر جدائی کا مطلب یہ نہیں
کہ محبت ختم ہو گئی۔
کبھی کبھی محبت اپنی آخری شکل میں
صرف ایک دعا بن جاتی ہے—
ایسی دعا
جس میں واپسی کی خواہش نہیں ہوتی،
صرف خیر کی خواہش ہوتی ہے۔
اور شاید یہی پختگی ہے؛
کسی کو کھونے کے بعد بھی
اس کے خلاف دل میں عدالت نہ لگانا۔
کیونکہ آخرکار
ہمیں یہ فیصلہ نہیں کرنا ہوتا
کہ وہ شخص ہماری زندگی میں کیوں آیا تھا۔
کچھ سوال
انسان کے لیے نہیں ہوتے۔
کچھ کردار
اللہ کی حکمت میں لکھے جاتے ہیں،
ہماری سمجھ میں نہیں۔
ہم نے ایک صفحہ دیکھا،
وہ پوری کتاب جانتا تھا۔
ہم نے جدائی دیکھی،
وہ شاید اس کے بعد کے صفحات بھی دیکھ رہا تھا۔
اس لیے ممکن ہے
جسے ہم اپنی کہانی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ رہے ہوں،
وہ ہماری کتاب کا وہ موڑ ہو
جہاں سے ہم پہلی بار
اپنے آپ کو سمجھنا شروع کریں۔
کچھ لوگ ہمیں چھوڑ کر نہیں جاتے،
وہ ہماری ذات میں اپنا ایک صفحہ چھوڑ جاتے ہیں۔
پھر وقت گزرتا ہے،
ہم کتاب آگے بڑھاتے ہیں،
اور ایک دن اچانک محسوس ہوتا ہے—
ہم انہیں بھولے نہیں تھے،
ہم صرف ان کے بغیر جینا سیکھ گئے تھے۔
تب سمجھ آتا ہے
کہ ہر تعلق کی آخری منزل
ساتھ رہنا نہیں ہوتی۔
کچھ لوگ
ہماری زندگی میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں،
ہماری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدلنے آتے ہیں۔
اور شاید انسان کی پوری زندگی بھی ایسی ہی ہے—
کچھ چہرے آتے ہیں،
کچھ چہرے چلے جاتے ہیں،
کچھ نام وقت کے ساتھ دھندلے ہو جاتے ہیں،
مگر ہر شخص
ہماری کتاب میں
اپنی ایک سطر چھوڑ جاتا ہے۔
آخر میں
کتاب بند ہو جائے گی۔
تمام کردار اپنے اپنے مقام پر رک جائیں گے۔
تب شاید ہم یہ نہیں گنیں گے
کہ کتنے لوگ ہمارے ساتھ رہے،
بلکہ یہ دیکھیں گے
کہ جنہیں اللہ نے ہماری کتاب کے چند صفحات میں رکھا،
ہم نے ان کے ساتھ کیا لکھا۔
کیونکہ شاید زندگی کا اصل فلسفہ
لوگوں کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا نہیں،
بلکہ ان کے گزر جانے کے بعد بھی
اپنے دل کو انسان رکھنا ہے۔
اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے—
کچھ لوگ ہماری کہانی کا اختتام نہیں ہوتے،
وہ صرف وہ صفحہ ہوتے ہیں
جس کے بعد ہم
پہلی بار اپنی کہانی کو
اپنی آنکھوں سے پڑھنا شروع کرتے ہیں۔
جاری ہے…
فقط
ایلاف

