‏زندگی ایک نوٹ بک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏زندگی ایک نوٹ بک لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 4 اکتوبر، 2026

زندگی ایک نوٹ بک – قسط ۴ – کردار جو چند صفحات بعد چلے گئے

کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایسے آتے ہیں
جیسے کتاب میں کوئی خوبصورت کردار داخل ہوا ہو۔

ہمیں لگتا ہے،
یہ کردار اب آخری صفحے تک ساتھ رہے گا۔

ہم اس کے ساتھ آنے والے صفحات کا تصور کرنے لگتے ہیں،
اس کے نام سے کئی جملے جوڑ لیتے ہیں،
اور جانے انجانے میں
اپنی کہانی کا ایک حصہ اس کے نام کر دیتے ہیں۔

مگر زندگی کی کتاب
ہماری مرضی سے نہیں لکھی جاتی۔

کچھ کردار
صرف چند صفحات کے لیے آتے ہیں۔

کچھ ہمیں ہنسانے کے لیے،
کچھ ہمیں رلانے کے لیے،
کچھ ہمیں محبت سکھانے کے لیے،
اور کچھ ہمیں یہ سمجھانے کے لیے
کہ ہر تعلق کا انجام ساتھ رہنا نہیں ہوتا۔

جب کوئی چلا جاتا ہے

سب سے مشکل جدائی شاید وہ نہیں ہوتی
جب کوئی چلا جاتا ہے۔

مشکل یہ سمجھنا ہوتا ہے
کہ جو شخص کل ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھا،
آج وہ صرف ایک یاد کیوں رہ گیا؟

کل جس سے بات کیے بغیر دن ادھورا لگتا تھا،
آج اسی کے بغیر دن گزر جاتا ہے۔

مگر دل فوراً یہ تبدیلی قبول نہیں کرتا۔

وہ پرانے صفحات بار بار کھولتا ہے،
پرانے جملے پڑھتا ہے،
وہ لمحے ڈھونڈتا ہے
جہاں شاید کہانی کا رخ بدل سکتا تھا۔

ہم سوچتے ہیں،
کاش ہم کچھ اور کہتے…
کاش کچھ اور سمجھتے…
کاش وہ رک جاتا…
کاش ہم اسے روک سکتے۔

مگر کچھ "کاش"
زندگی کی کتاب میں
صرف سوال بن کر رہ جاتے ہیں۔

شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں
کہ کسی کا ہماری زندگی میں آنا
ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا
کہ وہ ہماری زندگی میں ہمیشہ رہے گا۔

کچھ لوگ منزل نہیں ہوتے،
راستے کا ایک ضروری موڑ ہوتے ہیں۔

وہ ہمیں کچھ دے کر جاتے ہیں۔

کبھی ایک سبق،
کبھی ایک یاد،
کبھی ایک زخم،
اور کبھی اپنے اندر جھانکنے کی وہ وجہ
جو ان کے بغیر شاید کبھی پیدا نہ ہوتی۔

اور عجیب بات یہ ہے
کہ جب کوئی شخص چلا جاتا ہے
تو صرف وہ نہیں جاتا۔

اس کے ساتھ ہماری زندگی کا ایک پرانا روپ بھی چلا جاتا ہے۔

وہ انسان
جو ہم اس شخص کے ساتھ ہوا کرتے تھے،
وہ ہنسی،
وہ انتظار،
وہ عادتیں،
وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں…
سب ایک پرانے صفحے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

پھر ایک دن
ہم وہی کتاب کھولتے ہیں
اور محسوس کرتے ہیں
کہ کردار تو جا چکا ہے،
مگر اس کے چھوڑے ہوئے الفاظ
اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔

یاد رکھنا اور واپس چاہنا

تب شاید ہمیں سمجھ آتا ہے
کہ ہر جدائی مٹانے کے لیے نہیں ہوتی۔

کچھ جدائیاں
صرف یہ سکھانے آتی ہیں
کہ یاد رکھنا اور واپس چاہنا
ایک ہی بات نہیں۔

کسی کو یاد کیا جا سکتا ہے
بغیر اس کے لوٹنے کی خواہش کے۔

کسی کے لیے دعا کی جا سکتی ہے
بغیر دوبارہ اس کا حصہ بنے۔

اور کسی کو دل میں عزت سے رکھا جا سکتا ہے
بغیر اپنی زندگی کو
اسی ایک صفحے پر روکے۔

کیونکہ زندگی ایک نوٹ بک ہے۔

اور اگر ہم ہر اس کردار کے جانے کے بعد
قلم رکھ دیں
جو ہمیں عزیز تھا،
تو ہماری کتاب کبھی آگے نہیں بڑھے گی۔

شاید اللہ نے کچھ لوگوں کو
ہماری کتاب میں ہمیشہ کے لیے نہیں،
بلکہ ہمیں بدلنے کے لیے لکھا تھا۔

اختیار کی بات

ہمیں یہ اختیار نہیں
کہ کون کب آئے گا،
کون کب جائے گا،
اور کون آخری صفحے تک ہمارے ساتھ رہے گا۔

مگر ہمارے پاس ایک اختیار ضرور ہے—

کہ کسی کے چلے جانے کے بعد
ہم اپنے اندر کیا باقی رکھتے ہیں۔

تلخی؟
یا سبق؟

شکایت؟
یا شکر؟

خالی پن؟
یا ایک نئی سمجھ؟

شاید ہر جانے والا شخص
ہماری کہانی کا نقصان نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ
ہماری کہانی کے وہ صفحات ہوتے ہیں
جنہیں ہم کبھی دوبارہ نہیں لکھ سکتے،
مگر جن کے بغیر
ہم وہ انسان بھی نہیں بن سکتے
جو بعد کے صفحات پر نظر آتا ہے۔

اور شاید زندگی کا ایک گہرا راز یہ ہے
کہ ہمیں ہر کردار کا اختتام سمجھنا ضروری نہیں۔

کچھ لوگ کیوں آئے؟
کچھ کیوں چلے گئے؟
کچھ اتنے قریب آ کر اجنبی کیوں ہو گئے؟

ہو سکتا ہے
ان سب سوالوں کے جواب
ہمیں اسی کتاب کے اندر نہ ملیں۔

کچھ جواب
وقت کے پاس ہوتے ہیں،
اور کچھ صرف اللہ کے پاس۔

ہم صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں،
وہ پوری کتاب جانتا ہے۔

اس لیے شاید کسی کے چلے جانے کو
اپنی پوری کہانی کا اختتام سمجھ لینا
انصاف نہیں۔

وہ شخص جا چکا ہے،
مگر کتاب ابھی باقی ہے۔

ایک کردار ختم ہوا ہے،
کہانی نہیں۔

کتاب کے آخری صفحات

اور شاید کسی دن
جب ہم اپنی کتاب کے آخری صفحات پلٹیں گے،
تو پیچھے مڑ کر دیکھیں گے
اور سمجھیں گے کہ

کچھ لوگ ہمارے ساتھ چلنے کے لیے نہیں آئے تھے،
وہ ہمیں کچھ دور تک چلنا سکھانے آئے تھے۔

کچھ نے ہاتھ تھاما،
کچھ نے ہاتھ چھوڑ دیا،
اور کچھ نے ہمیں یہ سکھایا
کہ ہر ہاتھ ہمیشہ تھاما نہیں رہتا۔

مگر زندگی کا کمال شاید یہی ہے
کہ جانے والوں کے بعد بھی
انسان قلم نہیں چھوڑتا۔

وہ آنکھیں پونچھتا ہے،
پرانی سطروں کو قبول کرتا ہے،
اور اگلے خالی صفحے پر
ایک نئی سطر لکھ دیتا ہے۔

کیونکہ ہر وہ شخص
جو ہماری زندگی سے چلا گیا،
ہماری کتاب سے بھی نہیں مٹا۔

وہ کہیں نہ کہیں
ہماری شخصیت کے کسی جملے میں،
کسی خاموشی میں،
کسی دعا میں،
یا کسی سبق میں
اب بھی موجود ہے۔

شاید کچھ کردار چند صفحات بعد اس لیے چلے جاتے ہیں
کہ ہمیں یہ سمجھ آ سکے—
کتاب خوبصورت صرف کرداروں کے رہنے سے نہیں بنتی،
بلکہ ان کے جانے کے بعد بھی
کہانی کو سچائی سے آگے بڑھانے سے بنتی ہے۔

اور شاید…
کچھ لوگ ہماری زندگی کے لیے نہیں،
ہماری زندگی کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں۔

• • •

جو ہم نے ڈھونڈا، اور جو ہمیں ملا

شاید ہم زندگی بھر
ان لوگوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں
جو ہمیں چھوڑ گئے،
اور یہ سمجھنے میں دیر کر دیتے ہیں
کہ کچھ لوگ واپس آنے کے لیے نہیں،
ہمیں آگے بڑھنا سکھانے کے لیے جاتے ہیں۔

ہر جدائی کا مطلب یہ نہیں
کہ محبت ختم ہو گئی۔

کبھی کبھی محبت اپنی آخری شکل میں
صرف ایک دعا بن جاتی ہے—
ایسی دعا
جس میں واپسی کی خواہش نہیں ہوتی،
صرف خیر کی خواہش ہوتی ہے۔

اور شاید یہی پختگی ہے؛
کسی کو کھونے کے بعد بھی
اس کے خلاف دل میں عدالت نہ لگانا۔

کیونکہ آخرکار
ہمیں یہ فیصلہ نہیں کرنا ہوتا
کہ وہ شخص ہماری زندگی میں کیوں آیا تھا۔

کچھ سوال
انسان کے لیے نہیں ہوتے۔

کچھ کردار
اللہ کی حکمت میں لکھے جاتے ہیں،
ہماری سمجھ میں نہیں۔

ہم نے ایک صفحہ دیکھا،
وہ پوری کتاب جانتا تھا۔

ہم نے جدائی دیکھی،
وہ شاید اس کے بعد کے صفحات بھی دیکھ رہا تھا۔

اس لیے ممکن ہے
جسے ہم اپنی کہانی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ رہے ہوں،
وہ ہماری کتاب کا وہ موڑ ہو
جہاں سے ہم پہلی بار
اپنے آپ کو سمجھنا شروع کریں۔

کچھ لوگ ہمیں چھوڑ کر نہیں جاتے،
وہ ہماری ذات میں اپنا ایک صفحہ چھوڑ جاتے ہیں۔

پھر وقت گزرتا ہے،
ہم کتاب آگے بڑھاتے ہیں،
اور ایک دن اچانک محسوس ہوتا ہے—

ہم انہیں بھولے نہیں تھے،
ہم صرف ان کے بغیر جینا سیکھ گئے تھے۔

تب سمجھ آتا ہے
کہ ہر تعلق کی آخری منزل
ساتھ رہنا نہیں ہوتی۔

کچھ لوگ
ہماری زندگی میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں،
ہماری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدلنے آتے ہیں۔

اور شاید انسان کی پوری زندگی بھی ایسی ہی ہے—

کچھ چہرے آتے ہیں،
کچھ چہرے چلے جاتے ہیں،
کچھ نام وقت کے ساتھ دھندلے ہو جاتے ہیں،
مگر ہر شخص
ہماری کتاب میں
اپنی ایک سطر چھوڑ جاتا ہے۔

آخر میں
کتاب بند ہو جائے گی۔

تمام کردار اپنے اپنے مقام پر رک جائیں گے۔

تب شاید ہم یہ نہیں گنیں گے
کہ کتنے لوگ ہمارے ساتھ رہے،
بلکہ یہ دیکھیں گے
کہ جنہیں اللہ نے ہماری کتاب کے چند صفحات میں رکھا،
ہم نے ان کے ساتھ کیا لکھا۔

کیونکہ شاید زندگی کا اصل فلسفہ
لوگوں کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا نہیں،
بلکہ ان کے گزر جانے کے بعد بھی
اپنے دل کو انسان رکھنا ہے۔

اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے—

کچھ لوگ ہماری کہانی کا اختتام نہیں ہوتے،
وہ صرف وہ صفحہ ہوتے ہیں
جس کے بعد ہم
پہلی بار اپنی کہانی کو
اپنی آنکھوں سے پڑھنا شروع کرتے ہیں۔

جاری ہے…

فقط
ایلاف

بدھ، 30 ستمبر، 2026

زندگی ایک نوٹ بک: قسط ۳ کچھ صفحات ہمارے نہیں ہوتے

زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر لکھنے سے پہلے ہی سیاہی پھیل چکی ہوتی ہے۔

ہم قلم ہاتھ میں لیے بیٹھے ہوتے ہیں،
مگر اچانک کوئی واقعہ آتا ہے…
اور ہماری انگلیوں سے قلم چھین کر
ہماری کہانی میں ایک ایسا جملہ لکھ دیتا ہے
جسے ہم کبھی لکھنا نہیں چاہتے تھے۔

کسی کی جدائی۔

کسی خواب کا ٹوٹ جانا۔

کسی اپنے کا بدل جانا۔

کسی راستے کا اچانک بند ہو جانا۔

یا کبھی ایسا موڑ
جہاں انسان کے پاس سوال تو بہت ہوتے ہیں،
مگر جواب ایک بھی نہیں۔

ہم ان صفحات کو دیکھ کر اکثر کہتے ہیں:

“یہ میرے ساتھ کیوں ہوا؟”

مگر شاید زندگی کا ہر واقعہ اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم اسے سمجھ سکیں۔

کچھ واقعات صرف گزرنے کے لیے آتے ہیں،
کچھ ہمیں بدلنے کے لیے،
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کا مطلب
ہمیں اسی وقت نہیں،
بہت برس بعد سمجھ آتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ زندگی ہماری مرضی سے چلے۔

جسے چاہیں وہ ہمارے ساتھ رہے،
جس خواب کو چاہیں وہ پورا ہو،
جس راستے کو چنیں وہ منزل تک پہنچے۔

مگر زندگی ہمیں بہت جلد یہ سکھا دیتی ہے کہ
چاہنا اور ہونا، دو مختلف حقیقتیں ہیں۔

ہم کسی کو اپنی پوری محبت دے سکتے ہیں،
مگر اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ نہیں لکھ سکتے۔

ہم کسی خواب کے لیے پوری محنت کر سکتے ہیں،
مگر اس کے نتیجے کی ضمانت نہیں لے سکتے۔

ہم کسی رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر سکتے ہیں،
مگر کسی دوسرے انسان کے فیصلے اپنے ہاتھ میں نہیں رکھ سکتے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے
جہاں انسان کو پہلی بار اختیار اور تقدیر کے درمیان فرق سمجھ آتا ہے۔

کچھ صفحات ہمارے ہوتے ہیں۔

ہم ان پر کیا لکھیں گے،
یہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔

مگر کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں
جن پر واقعہ پہلے لکھا جاتا ہے
اور ہمیں بعد میں صرف یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے
کہ اس کے نیچے اپنی اگلی سطر کیا لکھنی ہے۔

یہی زندگی کی سب سے خاموش آزمائش ہے۔

واقعہ ہمارے اختیار میں نہیں،
مگر واقعے کے بعد ہمارا وجود کس طرف جائے گا،
یہ فیصلہ کہیں نہ کہیں ہمارا ہوتا ہے۔

ایک شخص چلا گیا۔

یہ صفحہ شاید ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔

مگر اس کے جانے کے بعد
ہم اپنے اندر نفرت لکھیں گے یا دعا،
تلخی لکھیں گے یا قبولیت،
یہ اگلی سطر شاید ہمارے ہاتھ میں ہے۔

ایک خواب ٹوٹ گیا۔

یہ شاید ہمارے اختیار سے باہر تھا۔

مگر ہم اس ٹوٹے ہوئے خواب کو
اپنی پوری زندگی کا ماتم بنا دیں گے
یا اسی کے ملبے سے کوئی نئی سمت تلاش کریں گے،
یہ فیصلہ ہمارے پاس باقی رہتا ہے۔

شاید اسی لیے ہر دکھ کو سزا سمجھ لینا بھی درست نہیں۔

کبھی دکھ صرف دکھ ہوتا ہے۔

نہ فوراً اس میں کوئی خوبصورت حکمت نظر آتی ہے،
نہ ہر زخم کا مطلب اسی وقت سمجھ میں آتا ہے۔

کچھ درد بس برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

کچھ سوالوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔

اور کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں
جنہیں پڑھتے ہوئے انسان صرف اتنا کہہ پاتا ہے:

“یا اللہ، مجھے سمجھ نہیں آ رہا…
مگر مجھے سنبھال لے۔”

شاید یہ بھی ایمان کی ایک شکل ہے۔

ہر چیز کو سمجھ لینا ایمان نہیں۔
کبھی کبھی نہ سمجھ آنے کے باوجود اپنے رب پر بھروسا رکھنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے۔

ہم ایک صفحہ دیکھتے ہیں،
اللہ پوری کتاب جانتا ہے۔

ہم ایک لمحے میں کھڑے ہوتے ہیں،
وہ ہمارے کل، آج اور آنے والے تمام موڑ جانتا ہے۔

ہم کسی بند دروازے کو دیکھ کر کہتے ہیں:

“میرا راستہ ختم ہو گیا۔”

اور شاید کتاب ابھی صرف صفحہ پلٹ رہی ہوتی ہے۔

کبھی ہمیں لگتا ہے کہ کسی شخص کا ہماری زندگی سے نکل جانا ہماری کہانی کا اختتام ہے،
مگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک باب تھا۔

کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ایک خواب کا ٹوٹ جانا ہماری شکست ہے،
مگر برسوں بعد وہی شکست ہمیں اس راستے تک لے آتی ہے
جس کا تصور بھی ہم نے نہیں کیا تھا۔

اور کبھی…
کبھی کوئی واقعہ اتنا گہرا نشان چھوڑ جاتا ہے
کہ انسان پہلے جیسا رہ ہی نہیں پاتا۔

مگر شاید ہر تبدیلی بری نہیں ہوتی۔

کچھ صفحات ہمیں توڑتے نہیں،
ہماری پرانی شکل توڑتے ہیں۔

اور پھر انہی ٹوٹے ہوئے حصوں سے
ایک ایسا انسان نکلتا ہے
جو پہلے سے زیادہ خاموش،
زیادہ سمجھ دار،
اور اپنے رب کے سامنے زیادہ جھکا ہوا ہوتا ہے۔

ہم زندگی سے اکثر پوچھتے ہیں:

“میرے ساتھ ہی کیوں؟”

شاید ایک دن یہی سوال بدل کر ہو جائے:

“میرے ساتھ جو ہوا،
اس کے بعد مجھے کیا بننا ہے؟”

یہی تبدیلی شفا کی ابتدا ہے۔

کیونکہ جو ہو چکا،
اسے دوبارہ لکھنا ہمارے اختیار میں نہیں۔

گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔

لوگ ہمیشہ نہیں رہتے۔

ہر دعا ہماری خواہش کے مطابق پوری نہیں ہوتی۔

ہر دروازہ ہمارے لیے نہیں کھلتا۔

اور ہر خالی کرسی دوبارہ کسی کے آنے سے نہیں بھرتی۔

لیکن زندگی کی کتاب میں ایک عجیب خوبصورتی ہے:

ایک صفحہ ختم ہونے کے بعد دوسرا صفحہ پھر بھی کھل جاتا ہے۔

اور ہمیں ہر صفحے کا مطلب جاننا ضروری نہیں۔

کچھ صفحات کو صرف قبول کرنا ہوتا ہے۔

کچھ کو آنسوؤں کے ساتھ پڑھنا ہوتا ہے۔

کچھ کو دعا کے ساتھ بند کرنا ہوتا ہے۔

اور کچھ کو…
خاموشی سے پیچھے چھوڑ دینا ہوتا ہے۔

کیونکہ ہر چیز کو ساتھ لے کر چلنے والا انسان
کبھی ہلکا نہیں ہو سکتا۔

کچھ یادیں رہیں گی،
مگر ہمیں ان میں رہنا ضروری نہیں۔

کچھ لوگ دل میں رہیں گے،
مگر زندگی میں نہیں۔

کچھ خواب یاد رہیں گے،
مگر ان کے پیچھے چلنا ضروری نہیں۔

اور کچھ صفحات ہمیشہ ہماری کتاب کا حصہ رہیں گے،
مگر ان کا مطلب ہماری پوری زندگی نہیں ہوگا۔

پختگی یہی ہے کہ انسان ماضی کو مٹانے کی کوشش چھوڑ دے
اور اسے سمجھ کر آگے بڑھنا سیکھ لے۔

کیونکہ زندگی کی نوٹ بک میں
ہر صفحہ ہماری مرضی سے نہیں لکھا جاتا۔

کچھ صفحات وقت لکھتا ہے،
کچھ حالات،
کچھ لوگ،
اور کچھ… تقدیر۔

مگر اگلی سطر اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہو سکتی ہے۔

اس لیے اگر آج زندگی نے ہمارے سامنے کوئی ایسا صفحہ کھول دیا ہے
جسے ہم نے کبھی لکھنا نہیں چاہا تھا،
تو اسے اپنی پوری کتاب سمجھ لینا درست نہیں۔

یہ صرف ایک صفحہ ہے۔

دردناک ہو سکتا ہے…
مگر آخری نہیں۔

کیونکہ بعض اوقات زندگی ہماری پسند کا صفحہ نہیں لکھتی،
مگر اسی صفحے کے بعد
ہمیں وہ انسان بنا دیتی ہے
جس کا وجود ہماری اپنی پسند سے کبھی پیدا نہ ہوتا۔

زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ شاید یہی ہے کہ ہم ہر اس صفحے کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں جسے ہم نے خود نہیں لکھا۔

کچھ واقعات کا مطلب وقت بتاتا ہے، کچھ کا خاموشی، اور کچھ کا مطلب کبھی نہیں ملتا۔

ہر سوال کا جواب مل جانا ضروری بھی نہیں۔
کچھ سوال انسان کو جواب دینے کے لیے نہیں، بدلنے کے لیے ملتے ہیں۔

ہم اپنی کتاب کے ہر صفحے کے مصنف نہیں،
مگر ہر صفحے کے بعد بننے والے انسان کے ذمہ دار ضرور ہیں۔

جو صفحہ ہماری مرضی کے بغیر لکھ دیا گیا،
ہم اسے اپنی پوری کہانی نہ سمجھیں۔
ہو سکتا ہے وہ ہماری پسند کا نہ ہو،
مگر اس کے بعد لکھی جانے والی سطر میں ہمارا اصل وجود چھپا ہو۔

اور ایک دن، جب پوری کتاب بند ہو جائے گی،
ہمیں یہ نہیں سوچنا ہوگا کہ کون سا صفحہ ہمارے اختیار میں تھا اور کون سا نہیں،
بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ
جو کچھ ہمارے اختیار میں تھا، ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا۔

کیونکہ تقدیر نے کچھ صفحات لکھے تھے،
مگر ان صفحات کے درمیان انسان بننا اب بھی ہمارا انتخاب تھا۔

جاری ہے…

فقط
ایلاف

زندگی ایک نوٹ بک — قسط 5: ادھوری دعائیں

  قسط 5 — ادھوری دعائیں وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔ زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ...