بدھ، 30 ستمبر، 2026

زندگی ایک نوٹ بک: قسط ۳ کچھ صفحات ہمارے نہیں ہوتے

زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر لکھنے سے پہلے ہی سیاہی پھیل چکی ہوتی ہے۔

ہم قلم ہاتھ میں لیے بیٹھے ہوتے ہیں،
مگر اچانک کوئی واقعہ آتا ہے…
اور ہماری انگلیوں سے قلم چھین کر
ہماری کہانی میں ایک ایسا جملہ لکھ دیتا ہے
جسے ہم کبھی لکھنا نہیں چاہتے تھے۔

کسی کی جدائی۔

کسی خواب کا ٹوٹ جانا۔

کسی اپنے کا بدل جانا۔

کسی راستے کا اچانک بند ہو جانا۔

یا کبھی ایسا موڑ
جہاں انسان کے پاس سوال تو بہت ہوتے ہیں،
مگر جواب ایک بھی نہیں۔

ہم ان صفحات کو دیکھ کر اکثر کہتے ہیں:

“یہ میرے ساتھ کیوں ہوا؟”

مگر شاید زندگی کا ہر واقعہ اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم اسے سمجھ سکیں۔

کچھ واقعات صرف گزرنے کے لیے آتے ہیں،
کچھ ہمیں بدلنے کے لیے،
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کا مطلب
ہمیں اسی وقت نہیں،
بہت برس بعد سمجھ آتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ زندگی ہماری مرضی سے چلے۔

جسے چاہیں وہ ہمارے ساتھ رہے،
جس خواب کو چاہیں وہ پورا ہو،
جس راستے کو چنیں وہ منزل تک پہنچے۔

مگر زندگی ہمیں بہت جلد یہ سکھا دیتی ہے کہ
چاہنا اور ہونا، دو مختلف حقیقتیں ہیں۔

ہم کسی کو اپنی پوری محبت دے سکتے ہیں،
مگر اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ نہیں لکھ سکتے۔

ہم کسی خواب کے لیے پوری محنت کر سکتے ہیں،
مگر اس کے نتیجے کی ضمانت نہیں لے سکتے۔

ہم کسی رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر سکتے ہیں،
مگر کسی دوسرے انسان کے فیصلے اپنے ہاتھ میں نہیں رکھ سکتے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے
جہاں انسان کو پہلی بار اختیار اور تقدیر کے درمیان فرق سمجھ آتا ہے۔

کچھ صفحات ہمارے ہوتے ہیں۔

ہم ان پر کیا لکھیں گے،
یہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔

مگر کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں
جن پر واقعہ پہلے لکھا جاتا ہے
اور ہمیں بعد میں صرف یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے
کہ اس کے نیچے اپنی اگلی سطر کیا لکھنی ہے۔

یہی زندگی کی سب سے خاموش آزمائش ہے۔

واقعہ ہمارے اختیار میں نہیں،
مگر واقعے کے بعد ہمارا وجود کس طرف جائے گا،
یہ فیصلہ کہیں نہ کہیں ہمارا ہوتا ہے۔

ایک شخص چلا گیا۔

یہ صفحہ شاید ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔

مگر اس کے جانے کے بعد
ہم اپنے اندر نفرت لکھیں گے یا دعا،
تلخی لکھیں گے یا قبولیت،
یہ اگلی سطر شاید ہمارے ہاتھ میں ہے۔

ایک خواب ٹوٹ گیا۔

یہ شاید ہمارے اختیار سے باہر تھا۔

مگر ہم اس ٹوٹے ہوئے خواب کو
اپنی پوری زندگی کا ماتم بنا دیں گے
یا اسی کے ملبے سے کوئی نئی سمت تلاش کریں گے،
یہ فیصلہ ہمارے پاس باقی رہتا ہے۔

شاید اسی لیے ہر دکھ کو سزا سمجھ لینا بھی درست نہیں۔

کبھی دکھ صرف دکھ ہوتا ہے۔

نہ فوراً اس میں کوئی خوبصورت حکمت نظر آتی ہے،
نہ ہر زخم کا مطلب اسی وقت سمجھ میں آتا ہے۔

کچھ درد بس برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

کچھ سوالوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔

اور کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں
جنہیں پڑھتے ہوئے انسان صرف اتنا کہہ پاتا ہے:

“یا اللہ، مجھے سمجھ نہیں آ رہا…
مگر مجھے سنبھال لے۔”

شاید یہ بھی ایمان کی ایک شکل ہے۔

ہر چیز کو سمجھ لینا ایمان نہیں۔
کبھی کبھی نہ سمجھ آنے کے باوجود اپنے رب پر بھروسا رکھنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے۔

ہم ایک صفحہ دیکھتے ہیں،
اللہ پوری کتاب جانتا ہے۔

ہم ایک لمحے میں کھڑے ہوتے ہیں،
وہ ہمارے کل، آج اور آنے والے تمام موڑ جانتا ہے۔

ہم کسی بند دروازے کو دیکھ کر کہتے ہیں:

“میرا راستہ ختم ہو گیا۔”

اور شاید کتاب ابھی صرف صفحہ پلٹ رہی ہوتی ہے۔

کبھی ہمیں لگتا ہے کہ کسی شخص کا ہماری زندگی سے نکل جانا ہماری کہانی کا اختتام ہے،
مگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک باب تھا۔

کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ایک خواب کا ٹوٹ جانا ہماری شکست ہے،
مگر برسوں بعد وہی شکست ہمیں اس راستے تک لے آتی ہے
جس کا تصور بھی ہم نے نہیں کیا تھا۔

اور کبھی…
کبھی کوئی واقعہ اتنا گہرا نشان چھوڑ جاتا ہے
کہ انسان پہلے جیسا رہ ہی نہیں پاتا۔

مگر شاید ہر تبدیلی بری نہیں ہوتی۔

کچھ صفحات ہمیں توڑتے نہیں،
ہماری پرانی شکل توڑتے ہیں۔

اور پھر انہی ٹوٹے ہوئے حصوں سے
ایک ایسا انسان نکلتا ہے
جو پہلے سے زیادہ خاموش،
زیادہ سمجھ دار،
اور اپنے رب کے سامنے زیادہ جھکا ہوا ہوتا ہے۔

ہم زندگی سے اکثر پوچھتے ہیں:

“میرے ساتھ ہی کیوں؟”

شاید ایک دن یہی سوال بدل کر ہو جائے:

“میرے ساتھ جو ہوا،
اس کے بعد مجھے کیا بننا ہے؟”

یہی تبدیلی شفا کی ابتدا ہے۔

کیونکہ جو ہو چکا،
اسے دوبارہ لکھنا ہمارے اختیار میں نہیں۔

گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔

لوگ ہمیشہ نہیں رہتے۔

ہر دعا ہماری خواہش کے مطابق پوری نہیں ہوتی۔

ہر دروازہ ہمارے لیے نہیں کھلتا۔

اور ہر خالی کرسی دوبارہ کسی کے آنے سے نہیں بھرتی۔

لیکن زندگی کی کتاب میں ایک عجیب خوبصورتی ہے:

ایک صفحہ ختم ہونے کے بعد دوسرا صفحہ پھر بھی کھل جاتا ہے۔

اور ہمیں ہر صفحے کا مطلب جاننا ضروری نہیں۔

کچھ صفحات کو صرف قبول کرنا ہوتا ہے۔

کچھ کو آنسوؤں کے ساتھ پڑھنا ہوتا ہے۔

کچھ کو دعا کے ساتھ بند کرنا ہوتا ہے۔

اور کچھ کو…
خاموشی سے پیچھے چھوڑ دینا ہوتا ہے۔

کیونکہ ہر چیز کو ساتھ لے کر چلنے والا انسان
کبھی ہلکا نہیں ہو سکتا۔

کچھ یادیں رہیں گی،
مگر ہمیں ان میں رہنا ضروری نہیں۔

کچھ لوگ دل میں رہیں گے،
مگر زندگی میں نہیں۔

کچھ خواب یاد رہیں گے،
مگر ان کے پیچھے چلنا ضروری نہیں۔

اور کچھ صفحات ہمیشہ ہماری کتاب کا حصہ رہیں گے،
مگر ان کا مطلب ہماری پوری زندگی نہیں ہوگا۔

پختگی یہی ہے کہ انسان ماضی کو مٹانے کی کوشش چھوڑ دے
اور اسے سمجھ کر آگے بڑھنا سیکھ لے۔

کیونکہ زندگی کی نوٹ بک میں
ہر صفحہ ہماری مرضی سے نہیں لکھا جاتا۔

کچھ صفحات وقت لکھتا ہے،
کچھ حالات،
کچھ لوگ،
اور کچھ… تقدیر۔

مگر اگلی سطر اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہو سکتی ہے۔

اس لیے اگر آج زندگی نے ہمارے سامنے کوئی ایسا صفحہ کھول دیا ہے
جسے ہم نے کبھی لکھنا نہیں چاہا تھا،
تو اسے اپنی پوری کتاب سمجھ لینا درست نہیں۔

یہ صرف ایک صفحہ ہے۔

دردناک ہو سکتا ہے…
مگر آخری نہیں۔

کیونکہ بعض اوقات زندگی ہماری پسند کا صفحہ نہیں لکھتی،
مگر اسی صفحے کے بعد
ہمیں وہ انسان بنا دیتی ہے
جس کا وجود ہماری اپنی پسند سے کبھی پیدا نہ ہوتا۔

زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ شاید یہی ہے کہ ہم ہر اس صفحے کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں جسے ہم نے خود نہیں لکھا۔

کچھ واقعات کا مطلب وقت بتاتا ہے، کچھ کا خاموشی، اور کچھ کا مطلب کبھی نہیں ملتا۔

ہر سوال کا جواب مل جانا ضروری بھی نہیں۔
کچھ سوال انسان کو جواب دینے کے لیے نہیں، بدلنے کے لیے ملتے ہیں۔

ہم اپنی کتاب کے ہر صفحے کے مصنف نہیں،
مگر ہر صفحے کے بعد بننے والے انسان کے ذمہ دار ضرور ہیں۔

جو صفحہ ہماری مرضی کے بغیر لکھ دیا گیا،
ہم اسے اپنی پوری کہانی نہ سمجھیں۔
ہو سکتا ہے وہ ہماری پسند کا نہ ہو،
مگر اس کے بعد لکھی جانے والی سطر میں ہمارا اصل وجود چھپا ہو۔

اور ایک دن، جب پوری کتاب بند ہو جائے گی،
ہمیں یہ نہیں سوچنا ہوگا کہ کون سا صفحہ ہمارے اختیار میں تھا اور کون سا نہیں،
بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ
جو کچھ ہمارے اختیار میں تھا، ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا۔

کیونکہ تقدیر نے کچھ صفحات لکھے تھے،
مگر ان صفحات کے درمیان انسان بننا اب بھی ہمارا انتخاب تھا۔

جاری ہے…

فقط
ایلاف

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

زندگی ایک نوٹ بک — قسط 5: ادھوری دعائیں

  قسط 5 — ادھوری دعائیں وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔ زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ...