جمعرات، 22 اکتوبر، 2026

زندگی ایک نوٹ بک — قسط 5: ادھوری دعائیں

 

قسط 5 — ادھوری دعائیں

وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔


زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں جن پر ہم اپنی خواہشیں لکھتے ہیں، اور پھر ان کے سامنے بیٹھ کر انتظار کرنے لگتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ اگر دل سے مانگا ہے تو مل بھی جائے گا۔ اگر آنکھیں نم ہوئی ہیں تو دعا قبول ہو جائے گی۔ اگر راتوں کی خاموشی میں کسی خواہش کو بار بار اللہ کے سامنے رکھا ہے تو ایک دن وہ خواہش حقیقت بن کر ہمارے سامنے آ کھڑی ہوگی۔

مگر زندگی ہمیشہ ہماری امیدوں کے مطابق نہیں لکھتی۔

کبھی ہم بہت مانگتے ہیں، مگر انتظار ختم نہیں ہوتا۔ کبھی دروازہ کھلتا ہی نہیں۔ اور کبھی وہ چیز مل جاتی ہے جس کے لیے ہم نے دعا نہیں کی ہوتی، جب کہ جسے ہم نے اپنی زندگی کا سب سے ضروری حصہ سمجھا تھا، وہ ہماری دسترس سے باہر رہتا ہے۔

تب انسان کے اندر ایک خاموش سوال جنم لیتا ہے:

"یا اللہ، میں نے تو یہی مانگا تھا، پھر مجھے یہ کیوں نہیں ملا؟"

یہ سوال ہمیشہ بے یقینی سے پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ ایک تھکے ہوئے دل کی آواز ہوتا ہے، جو سمجھ نہیں پاتا کہ جس چیز کو اس نے اپنے لیے خیر سمجھا، وہ اس کے حصے میں کیوں نہیں آئی۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ کوئی رشتہ قائم رہے، کوئی اپنا واپس آ جائے، کوئی خواب پورا ہو جائے، کسی مشکل کا خاتمہ ہو، یا زندگی کا کوئی بند دروازہ کھل جائے۔

ہم اپنے ذہن میں جواب کی ایک صورت بنا لیتے ہیں۔

ہم طے کر لیتے ہیں کہ خوشی کیسی دکھائی دے گی، مسئلہ کیسے حل ہوگا، اور ہماری زندگی کس موڑ پر جا کر آسان ہو جائے گی۔

پھر جب جواب ہماری بنائی ہوئی صورت میں نہیں آتا، تو ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہماری دعا ادھوری رہ گئی۔

لیکن کیا واقعی ہر وہ دعا ادھوری ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہماری خواہش جیسا نہ ہو؟

یا ہم نے دعا کے ساتھ ساتھ اس کے جواب کی شکل بھی خود مقرر کر رکھی ہوتی ہے؟

ہم بھول جاتے ہیں کہ دعا اللہ کے سامنے اپنی خواہش رکھنے کا نام ہے، مگر اس کے جواب کی صورت اور وقت ہمارے بس میں نہیں۔

ہم مانگ سکتے ہیں، مگر ہر چیز کو اپنے حق میں طے نہیں کر سکتے۔

ہم چاہ سکتے ہیں، مگر چاہنے سے حقیقت پر ہمارا زور قائم نہیں ہو جاتا۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں دعا صرف مانگنے کا عمل نہیں رہتی، بلکہ انسان کو اپنی حد پہچاننے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔


کچھ دعائیں وقت کے ساتھ قبولیت کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

کچھ کے جواب ہمیں بہت دیر بعد سمجھ آتے ہیں۔

اور کچھ خواہشوں کے بارے میں ہمیں شاید کبھی معلوم نہ ہو کہ وہ پوری کیوں نہیں ہوئیں۔

انسان کے لیے سب سے مشکل بات صرف انتظار کرنا نہیں، بلکہ انتظار کے دوران اپنے یقین کو سنبھالے رکھنا ہے۔

کیونکہ جب دن مہینوں میں، اور مہینے برسوں میں بدلنے لگیں تو دل سوال کرنے لگتا ہے۔

کیا میری دعا سنی گئی؟

کیا میری خاموشی بے معنی تھی؟

کیا میری امید محض میری اپنی بنائی ہوئی کہانی تھی؟

ایسے لمحوں میں ہمیں اپنے دل کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ دیر سے ملنے یا نہ ملنے والی چیز کے بارے میں بھی ہم مکمل علم نہیں رکھتے، اور نہ ہی ہر محرومی کے پیچھے چھپی حکمت کو فوراً سمجھ سکتے ہیں۔

لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے: دعا کا جواب ہماری خواہش کے مطابق نہ آنا، اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہم اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔

اور کسی مشکل کا برقرار رہنا بھی یہ ثابت نہیں کرتا کہ ہماری دعا بے اثر رہی۔

کبھی انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ بدلنا پڑتا ہے۔ کبھی اسے اپنی خواہش پر دوبارہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اور کبھی اسے کسی ایسے سوال کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے جس کا جواب اس وقت اس کے پاس نہیں ہوتا۔

یہ سب آسان نہیں ہوتا۔

ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی سوال نہ کرے، کبھی اداس نہ ہو، یا کبھی انتظار سے تھکے ہی نہ۔

شاید ایمان یہ ہے کہ سوالوں کے باوجود اللہ سے اپنا تعلق قائم رکھا جائے؛ اپنی کمزوری کو بھی اسی کے سامنے رکھا جائے، اور اپنے دل کی الجھن کو چھپانے کے بجائے اسی سے رہنمائی مانگی جائے۔

کیونکہ اللہ سے بات کرنے کے لیے ہر بار مطمئن ہونا ضروری نہیں۔

کبھی انسان صرف اتنا کہہ پاتا ہے:

"یا اللہ، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میرے لیے بہتر کیا ہے۔ میں اپنی خواہش سے آگے نہیں دیکھ پا رہا۔ اگر میں کسی ایسی چیز کے پیچھے ہوں جو میرے حق میں بہتر نہیں، تو مجھے اس سے بہتر راستہ دکھا دے۔ اور اگر یہ انتظار میرے لیے ضروری ہے، تو مجھے اس انتظار میں سنبھال لے۔"

بعض اوقات یہی وہ دعا ہوتی ہے جس میں انسان اپنی خواہش کے ساتھ اپنی بے بسی بھی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔


زندگی ایک نوٹ بک ہے۔

اور اس نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر ہماری دعائیں لکھی ہوتی ہیں، مگر ان کے جواب کے لیے جگہ خالی رہ جاتی ہے۔

ہم اس خالی جگہ کو بار بار دیکھتے ہیں۔

کبھی وہاں امید لکھتے ہیں، کبھی مایوسی، کبھی شکوہ، اور کبھی ایک نیا سوال۔

مگر ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ خالی جگہ ہمیشہ محرومی کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ ہماری محدود سمجھ اور نامعلوم مستقبل کے درمیان موجود فاصلہ ہوتی ہے۔

ہمیں صرف اتنا دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے کیا مانگا تھا اور ہمیں کیا ملا۔

ہم یہ نہیں جانتے کہ اگر ہماری خواہش اسی وقت پوری ہو جاتی تو ہماری زندگی کس سمت جاتی، اور اگر کوئی دوسرا راستہ کھلتا ہے تو اس میں ہمارے لیے کیا امکانات موجود ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر محرومی لازماً کسی بڑی خوشی کی تمہید ہے، یا ہر درد کے پیچھے کوئی ایسا انعام ضرور ہے جسے ہم بعد میں دیکھ لیں گے۔

کچھ دکھ واقعی دکھ ہوتے ہیں۔ کچھ انتظار واقعی تھکا دیتے ہیں۔ اور کچھ سوال انسان کے ساتھ بہت طویل عرصے تک رہتے ہیں۔

مگر زندگی کا سارا مفہوم صرف اس بات میں بھی تو نہیں کہ ہماری ہر خواہش پوری ہو جائے۔

کبھی مفہوم اس میں ہوتا ہے کہ خواہش پوری نہ ہونے کے باوجود ہم اپنے اندر کی نرمی محفوظ رکھیں۔ کبھی اس میں کہ محرومی ہمیں دوسروں کے دکھ سمجھنا سکھا دے۔ اور کبھی اس میں کہ ہم اپنی پوری زندگی کو ایک نامکمل خواہش کے حوالے نہ کر دیں۔

ہر ادھوری دعا کے بعد زندگی ختم نہیں ہو جاتی، مگر بعض اوقات ہم اپنی زندگی کو اسی دعا کے جواب کے انتظار میں روک دیتے ہیں۔

ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس اب بھی کچھ صفحات باقی ہیں۔

کچھ رشتے جنہیں محبت چاہیے، کچھ ذمہ داریاں جنہیں ہماری توجہ درکار ہے، کچھ خوشیاں جو ہماری توقع سے مختلف صورت میں ہمارے سامنے آ سکتی ہیں، اور کچھ راستے جن پر ہم نے صرف اس لیے قدم نہیں رکھا کہ ہماری نظر اب بھی ایک بند دروازے پر جمی ہوئی ہے۔

دعا کرنا امید ہے، مگر زندگی کو صرف ایک نتیجے سے باندھ دینا اپنے لیے بہت تنگ جگہ بنا لینا ہے۔

مانگتے رہیے، کوشش کرتے رہیے، راستے تلاش کرتے رہیے؛ مگر اپنی زندگی کو اس شرط پر معطل نہ کیجیے کہ جب تک وہ ایک خاص دعا پوری نہیں ہوگی، آپ آگے نہیں بڑھیں گے۔

کیونکہ کبھی کبھی ہمیں اپنی خواہش کے لیے کوشش جاری رکھتے ہوئے بھی زندگی کے دوسرے صفحات لکھنے ہوتے ہیں۔


اور پھر ایک دن انسان اپنی نوٹ بک کے پرانے صفحات پلٹتا ہے۔

وہ کچھ دعاؤں کو دیکھتا ہے جن کے جواب اسے مل گئے تھے، کچھ کو جن کے جواب اس کی توقع سے مختلف تھے، اور کچھ کو جن کے بارے میں آج بھی وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

شاید اس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی صرف ان چیزوں کا مجموعہ نہیں تھی جو اسے مل گئیں۔

وہ ان دنوں سے بھی بنی تھی جن میں اس نے انتظار کیا، ان راستوں سے بھی جنہیں اسے بدلنا پڑا، اور ان فیصلوں سے بھی جن میں اس نے اپنی خواہش کے باوجود حقیقت کو قبول کرنا سیکھا۔

لیکن قبول کرنا، ہار مان لینا نہیں ہوتا۔

قبول کرنا کبھی کبھی یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ میں اپنی خواہش کو اہم سمجھ سکتا ہوں، اس کے لیے دعا بھی کر سکتا ہوں، مگر اپنی پوری زندگی کی قدر کو اس کے ملنے یا نہ ملنے سے طے نہیں کروں گا۔

اور دعا کے سفر میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے:

ابتدا میں ہم اللہ سے کہتے ہیں، "مجھے وہ دے دے جو میں چاہتا ہوں۔"

پھر وقت کے ساتھ کبھی ہماری دعا یہ بن جاتی ہے، "یا اللہ، مجھے وہ راستہ دکھا جس میں میرے لیے خیر ہو۔"

اور بعض لمحوں میں ہم صرف اتنا کہہ پاتے ہیں:

"یا اللہ، مجھے ہر جواب سمجھ نہیں آتا، مگر میں تجھ سے رہنمائی مانگتا ہوں۔ میرے لیے آسانی پیدا کر، مجھے درست فیصلہ کرنے کی توفیق دے، اور میرے دل کو مایوسی میں گم ہونے سے بچا۔"

یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں آتی۔

یہ کئی خاموش راتوں، کئی سوالوں اور کئی ایسے صفحات کے بعد آتی ہے جن پر ہم نے اپنی مرضی کا جواب نہیں دیکھا ہوتا۔

مگر پھر بھی ہم قلم اٹھاتے ہیں۔

کیونکہ ہماری نوٹ بک میں ابھی بہت کچھ لکھا جانا باقی ہوتا ہے۔


شاید ادھوری دعا کا سب سے گہرا سوال یہ نہیں کہ اللہ نے ہمیں وہ کیوں نہیں دیا جو ہم مانگتے رہے؛ بلکہ یہ ہے کہ جس چیز کے انتظار میں ہم نے اپنی زندگی کا کتنا حصہ گزار دیا، کیا ہم نے اس انتظار کے دوران زندگی کو جینا بھی یاد رکھا؟

ہماری خواہشیں اہم ہیں، مگر وہ ہماری پوری ذات نہیں۔

ہماری دعائیں قیمتی ہیں، مگر ہماری زندگی صرف ان کے جواب آنے تک محدود نہیں۔

اور بھروسا شاید یہ نہیں کہ ہمیں پہلے سے معلوم ہو کہ انجام کیا ہوگا؛ بلکہ یہ ہے کہ نامعلوم انجام کے باوجود ہم خیر مانگنا، درست کوشش کرنا، اور اپنی زندگی کو بامعنی بنانا نہ چھوڑیں۔

آخرکار، نوٹ بک بند ہونے سے پہلے ہمیں بہت سے صفحات ملیں گے جن پر ہماری خواہشیں پوری ہوئی ہوں گی، اور بہت سے ایسے بھی جن پر سوال باقی رہ گئے ہوں گے۔

تب ہمیں یہ سمجھ آئے گی کہ ہر سوال کا جواب جان لینا ہمارے بس میں نہیں تھا۔

مگر اپنے حصے کی زندگی کو صرف انتظار میں گزار دینا بھی ضروری نہیں تھا۔

کچھ دعائیں ہمیں وہ چیز نہیں دلا سکیں جسے ہم اپنی خوشی سمجھتے تھے؛ مگر ان کے انتظار میں ہمیں یہ سیکھنا تھا کہ خوشی، امید اور جینے کا حوصلہ کسی ایک خواہش کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

اور شاید سب سے اہم بات یہی ہے:

دعا کے جواب کا انتظار ضرور کیجیے، مگر اپنی زندگی کو جواب آنے تک خالی صفحہ مت رہنے دیجیے۔

کچھ صفحات آپ کی خواہش سے لکھے جائیں گے، کچھ آپ کی سمجھ سے باہر ہوں گے، اور کچھ کے معنی شاید آپ کو کبھی پوری طرح معلوم نہ ہوں۔

مگر جب تک قلم آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ کے پاس ایک انتخاب باقی ہے:

آپ انتظار کو اپنی پوری کہانی بناتے ہیں،
یا انتظار کے درمیان بھی
زندگی کی کوئی سچی سطر لکھ دیتے ہیں۔

کیونکہ ہر دعا کا جواب جان لینا شاید ضروری نہ ہو، مگر دعا کرتے ہوئے اپنے رب سے جڑے رہنا، اپنی کوشش جاری رکھنا، اور زندگی کی امانت کو بے معنی نہ ہونے دینا، یہ سب اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔

اور ادھوری دعا ہمیشہ ادھوری زندگی کی علامت نہیں ہوتی؛ کبھی وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری زندگی کا مفہوم صرف اس میں نہیں کہ ہمیں کیا ملا، بلکہ اس میں بھی ہے کہ جو نہیں ملا، اس کے باوجود ہم نے اپنے حصے کی زندگی کیسے گزاری۔

جاری ہے…

تحریر
ایلاف

اتوار، 4 اکتوبر، 2026

زندگی ایک نوٹ بک – قسط ۴ – کردار جو چند صفحات بعد چلے گئے

کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایسے آتے ہیں
جیسے کتاب میں کوئی خوبصورت کردار داخل ہوا ہو۔

ہمیں لگتا ہے،
یہ کردار اب آخری صفحے تک ساتھ رہے گا۔

ہم اس کے ساتھ آنے والے صفحات کا تصور کرنے لگتے ہیں،
اس کے نام سے کئی جملے جوڑ لیتے ہیں،
اور جانے انجانے میں
اپنی کہانی کا ایک حصہ اس کے نام کر دیتے ہیں۔

مگر زندگی کی کتاب
ہماری مرضی سے نہیں لکھی جاتی۔

کچھ کردار
صرف چند صفحات کے لیے آتے ہیں۔

کچھ ہمیں ہنسانے کے لیے،
کچھ ہمیں رلانے کے لیے،
کچھ ہمیں محبت سکھانے کے لیے،
اور کچھ ہمیں یہ سمجھانے کے لیے
کہ ہر تعلق کا انجام ساتھ رہنا نہیں ہوتا۔

جب کوئی چلا جاتا ہے

سب سے مشکل جدائی شاید وہ نہیں ہوتی
جب کوئی چلا جاتا ہے۔

مشکل یہ سمجھنا ہوتا ہے
کہ جو شخص کل ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھا،
آج وہ صرف ایک یاد کیوں رہ گیا؟

کل جس سے بات کیے بغیر دن ادھورا لگتا تھا،
آج اسی کے بغیر دن گزر جاتا ہے۔

مگر دل فوراً یہ تبدیلی قبول نہیں کرتا۔

وہ پرانے صفحات بار بار کھولتا ہے،
پرانے جملے پڑھتا ہے،
وہ لمحے ڈھونڈتا ہے
جہاں شاید کہانی کا رخ بدل سکتا تھا۔

ہم سوچتے ہیں،
کاش ہم کچھ اور کہتے…
کاش کچھ اور سمجھتے…
کاش وہ رک جاتا…
کاش ہم اسے روک سکتے۔

مگر کچھ "کاش"
زندگی کی کتاب میں
صرف سوال بن کر رہ جاتے ہیں۔

شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں
کہ کسی کا ہماری زندگی میں آنا
ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا
کہ وہ ہماری زندگی میں ہمیشہ رہے گا۔

کچھ لوگ منزل نہیں ہوتے،
راستے کا ایک ضروری موڑ ہوتے ہیں۔

وہ ہمیں کچھ دے کر جاتے ہیں۔

کبھی ایک سبق،
کبھی ایک یاد،
کبھی ایک زخم،
اور کبھی اپنے اندر جھانکنے کی وہ وجہ
جو ان کے بغیر شاید کبھی پیدا نہ ہوتی۔

اور عجیب بات یہ ہے
کہ جب کوئی شخص چلا جاتا ہے
تو صرف وہ نہیں جاتا۔

اس کے ساتھ ہماری زندگی کا ایک پرانا روپ بھی چلا جاتا ہے۔

وہ انسان
جو ہم اس شخص کے ساتھ ہوا کرتے تھے،
وہ ہنسی،
وہ انتظار،
وہ عادتیں،
وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں…
سب ایک پرانے صفحے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

پھر ایک دن
ہم وہی کتاب کھولتے ہیں
اور محسوس کرتے ہیں
کہ کردار تو جا چکا ہے،
مگر اس کے چھوڑے ہوئے الفاظ
اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔

یاد رکھنا اور واپس چاہنا

تب شاید ہمیں سمجھ آتا ہے
کہ ہر جدائی مٹانے کے لیے نہیں ہوتی۔

کچھ جدائیاں
صرف یہ سکھانے آتی ہیں
کہ یاد رکھنا اور واپس چاہنا
ایک ہی بات نہیں۔

کسی کو یاد کیا جا سکتا ہے
بغیر اس کے لوٹنے کی خواہش کے۔

کسی کے لیے دعا کی جا سکتی ہے
بغیر دوبارہ اس کا حصہ بنے۔

اور کسی کو دل میں عزت سے رکھا جا سکتا ہے
بغیر اپنی زندگی کو
اسی ایک صفحے پر روکے۔

کیونکہ زندگی ایک نوٹ بک ہے۔

اور اگر ہم ہر اس کردار کے جانے کے بعد
قلم رکھ دیں
جو ہمیں عزیز تھا،
تو ہماری کتاب کبھی آگے نہیں بڑھے گی۔

شاید اللہ نے کچھ لوگوں کو
ہماری کتاب میں ہمیشہ کے لیے نہیں،
بلکہ ہمیں بدلنے کے لیے لکھا تھا۔

اختیار کی بات

ہمیں یہ اختیار نہیں
کہ کون کب آئے گا،
کون کب جائے گا،
اور کون آخری صفحے تک ہمارے ساتھ رہے گا۔

مگر ہمارے پاس ایک اختیار ضرور ہے—

کہ کسی کے چلے جانے کے بعد
ہم اپنے اندر کیا باقی رکھتے ہیں۔

تلخی؟
یا سبق؟

شکایت؟
یا شکر؟

خالی پن؟
یا ایک نئی سمجھ؟

شاید ہر جانے والا شخص
ہماری کہانی کا نقصان نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ
ہماری کہانی کے وہ صفحات ہوتے ہیں
جنہیں ہم کبھی دوبارہ نہیں لکھ سکتے،
مگر جن کے بغیر
ہم وہ انسان بھی نہیں بن سکتے
جو بعد کے صفحات پر نظر آتا ہے۔

اور شاید زندگی کا ایک گہرا راز یہ ہے
کہ ہمیں ہر کردار کا اختتام سمجھنا ضروری نہیں۔

کچھ لوگ کیوں آئے؟
کچھ کیوں چلے گئے؟
کچھ اتنے قریب آ کر اجنبی کیوں ہو گئے؟

ہو سکتا ہے
ان سب سوالوں کے جواب
ہمیں اسی کتاب کے اندر نہ ملیں۔

کچھ جواب
وقت کے پاس ہوتے ہیں،
اور کچھ صرف اللہ کے پاس۔

ہم صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں،
وہ پوری کتاب جانتا ہے۔

اس لیے شاید کسی کے چلے جانے کو
اپنی پوری کہانی کا اختتام سمجھ لینا
انصاف نہیں۔

وہ شخص جا چکا ہے،
مگر کتاب ابھی باقی ہے۔

ایک کردار ختم ہوا ہے،
کہانی نہیں۔

کتاب کے آخری صفحات

اور شاید کسی دن
جب ہم اپنی کتاب کے آخری صفحات پلٹیں گے،
تو پیچھے مڑ کر دیکھیں گے
اور سمجھیں گے کہ

کچھ لوگ ہمارے ساتھ چلنے کے لیے نہیں آئے تھے،
وہ ہمیں کچھ دور تک چلنا سکھانے آئے تھے۔

کچھ نے ہاتھ تھاما،
کچھ نے ہاتھ چھوڑ دیا،
اور کچھ نے ہمیں یہ سکھایا
کہ ہر ہاتھ ہمیشہ تھاما نہیں رہتا۔

مگر زندگی کا کمال شاید یہی ہے
کہ جانے والوں کے بعد بھی
انسان قلم نہیں چھوڑتا۔

وہ آنکھیں پونچھتا ہے،
پرانی سطروں کو قبول کرتا ہے،
اور اگلے خالی صفحے پر
ایک نئی سطر لکھ دیتا ہے۔

کیونکہ ہر وہ شخص
جو ہماری زندگی سے چلا گیا،
ہماری کتاب سے بھی نہیں مٹا۔

وہ کہیں نہ کہیں
ہماری شخصیت کے کسی جملے میں،
کسی خاموشی میں،
کسی دعا میں،
یا کسی سبق میں
اب بھی موجود ہے۔

شاید کچھ کردار چند صفحات بعد اس لیے چلے جاتے ہیں
کہ ہمیں یہ سمجھ آ سکے—
کتاب خوبصورت صرف کرداروں کے رہنے سے نہیں بنتی،
بلکہ ان کے جانے کے بعد بھی
کہانی کو سچائی سے آگے بڑھانے سے بنتی ہے۔

اور شاید…
کچھ لوگ ہماری زندگی کے لیے نہیں،
ہماری زندگی کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں۔

• • •

جو ہم نے ڈھونڈا، اور جو ہمیں ملا

شاید ہم زندگی بھر
ان لوگوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں
جو ہمیں چھوڑ گئے،
اور یہ سمجھنے میں دیر کر دیتے ہیں
کہ کچھ لوگ واپس آنے کے لیے نہیں،
ہمیں آگے بڑھنا سکھانے کے لیے جاتے ہیں۔

ہر جدائی کا مطلب یہ نہیں
کہ محبت ختم ہو گئی۔

کبھی کبھی محبت اپنی آخری شکل میں
صرف ایک دعا بن جاتی ہے—
ایسی دعا
جس میں واپسی کی خواہش نہیں ہوتی،
صرف خیر کی خواہش ہوتی ہے۔

اور شاید یہی پختگی ہے؛
کسی کو کھونے کے بعد بھی
اس کے خلاف دل میں عدالت نہ لگانا۔

کیونکہ آخرکار
ہمیں یہ فیصلہ نہیں کرنا ہوتا
کہ وہ شخص ہماری زندگی میں کیوں آیا تھا۔

کچھ سوال
انسان کے لیے نہیں ہوتے۔

کچھ کردار
اللہ کی حکمت میں لکھے جاتے ہیں،
ہماری سمجھ میں نہیں۔

ہم نے ایک صفحہ دیکھا،
وہ پوری کتاب جانتا تھا۔

ہم نے جدائی دیکھی،
وہ شاید اس کے بعد کے صفحات بھی دیکھ رہا تھا۔

اس لیے ممکن ہے
جسے ہم اپنی کہانی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ رہے ہوں،
وہ ہماری کتاب کا وہ موڑ ہو
جہاں سے ہم پہلی بار
اپنے آپ کو سمجھنا شروع کریں۔

کچھ لوگ ہمیں چھوڑ کر نہیں جاتے،
وہ ہماری ذات میں اپنا ایک صفحہ چھوڑ جاتے ہیں۔

پھر وقت گزرتا ہے،
ہم کتاب آگے بڑھاتے ہیں،
اور ایک دن اچانک محسوس ہوتا ہے—

ہم انہیں بھولے نہیں تھے،
ہم صرف ان کے بغیر جینا سیکھ گئے تھے۔

تب سمجھ آتا ہے
کہ ہر تعلق کی آخری منزل
ساتھ رہنا نہیں ہوتی۔

کچھ لوگ
ہماری زندگی میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں،
ہماری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدلنے آتے ہیں۔

اور شاید انسان کی پوری زندگی بھی ایسی ہی ہے—

کچھ چہرے آتے ہیں،
کچھ چہرے چلے جاتے ہیں،
کچھ نام وقت کے ساتھ دھندلے ہو جاتے ہیں،
مگر ہر شخص
ہماری کتاب میں
اپنی ایک سطر چھوڑ جاتا ہے۔

آخر میں
کتاب بند ہو جائے گی۔

تمام کردار اپنے اپنے مقام پر رک جائیں گے۔

تب شاید ہم یہ نہیں گنیں گے
کہ کتنے لوگ ہمارے ساتھ رہے،
بلکہ یہ دیکھیں گے
کہ جنہیں اللہ نے ہماری کتاب کے چند صفحات میں رکھا،
ہم نے ان کے ساتھ کیا لکھا۔

کیونکہ شاید زندگی کا اصل فلسفہ
لوگوں کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا نہیں،
بلکہ ان کے گزر جانے کے بعد بھی
اپنے دل کو انسان رکھنا ہے۔

اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے—

کچھ لوگ ہماری کہانی کا اختتام نہیں ہوتے،
وہ صرف وہ صفحہ ہوتے ہیں
جس کے بعد ہم
پہلی بار اپنی کہانی کو
اپنی آنکھوں سے پڑھنا شروع کرتے ہیں۔

جاری ہے…

فقط
ایلاف

بدھ، 30 ستمبر، 2026

زندگی ایک نوٹ بک: قسط ۳ کچھ صفحات ہمارے نہیں ہوتے

زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر لکھنے سے پہلے ہی سیاہی پھیل چکی ہوتی ہے۔

ہم قلم ہاتھ میں لیے بیٹھے ہوتے ہیں،
مگر اچانک کوئی واقعہ آتا ہے…
اور ہماری انگلیوں سے قلم چھین کر
ہماری کہانی میں ایک ایسا جملہ لکھ دیتا ہے
جسے ہم کبھی لکھنا نہیں چاہتے تھے۔

کسی کی جدائی۔

کسی خواب کا ٹوٹ جانا۔

کسی اپنے کا بدل جانا۔

کسی راستے کا اچانک بند ہو جانا۔

یا کبھی ایسا موڑ
جہاں انسان کے پاس سوال تو بہت ہوتے ہیں،
مگر جواب ایک بھی نہیں۔

ہم ان صفحات کو دیکھ کر اکثر کہتے ہیں:

“یہ میرے ساتھ کیوں ہوا؟”

مگر شاید زندگی کا ہر واقعہ اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم اسے سمجھ سکیں۔

کچھ واقعات صرف گزرنے کے لیے آتے ہیں،
کچھ ہمیں بدلنے کے لیے،
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کا مطلب
ہمیں اسی وقت نہیں،
بہت برس بعد سمجھ آتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ زندگی ہماری مرضی سے چلے۔

جسے چاہیں وہ ہمارے ساتھ رہے،
جس خواب کو چاہیں وہ پورا ہو،
جس راستے کو چنیں وہ منزل تک پہنچے۔

مگر زندگی ہمیں بہت جلد یہ سکھا دیتی ہے کہ
چاہنا اور ہونا، دو مختلف حقیقتیں ہیں۔

ہم کسی کو اپنی پوری محبت دے سکتے ہیں،
مگر اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے اپنی جگہ نہیں لکھ سکتے۔

ہم کسی خواب کے لیے پوری محنت کر سکتے ہیں،
مگر اس کے نتیجے کی ضمانت نہیں لے سکتے۔

ہم کسی رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر سکتے ہیں،
مگر کسی دوسرے انسان کے فیصلے اپنے ہاتھ میں نہیں رکھ سکتے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے
جہاں انسان کو پہلی بار اختیار اور تقدیر کے درمیان فرق سمجھ آتا ہے۔

کچھ صفحات ہمارے ہوتے ہیں۔

ہم ان پر کیا لکھیں گے،
یہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔

مگر کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں
جن پر واقعہ پہلے لکھا جاتا ہے
اور ہمیں بعد میں صرف یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے
کہ اس کے نیچے اپنی اگلی سطر کیا لکھنی ہے۔

یہی زندگی کی سب سے خاموش آزمائش ہے۔

واقعہ ہمارے اختیار میں نہیں،
مگر واقعے کے بعد ہمارا وجود کس طرف جائے گا،
یہ فیصلہ کہیں نہ کہیں ہمارا ہوتا ہے۔

ایک شخص چلا گیا۔

یہ صفحہ شاید ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔

مگر اس کے جانے کے بعد
ہم اپنے اندر نفرت لکھیں گے یا دعا،
تلخی لکھیں گے یا قبولیت،
یہ اگلی سطر شاید ہمارے ہاتھ میں ہے۔

ایک خواب ٹوٹ گیا۔

یہ شاید ہمارے اختیار سے باہر تھا۔

مگر ہم اس ٹوٹے ہوئے خواب کو
اپنی پوری زندگی کا ماتم بنا دیں گے
یا اسی کے ملبے سے کوئی نئی سمت تلاش کریں گے،
یہ فیصلہ ہمارے پاس باقی رہتا ہے۔

شاید اسی لیے ہر دکھ کو سزا سمجھ لینا بھی درست نہیں۔

کبھی دکھ صرف دکھ ہوتا ہے۔

نہ فوراً اس میں کوئی خوبصورت حکمت نظر آتی ہے،
نہ ہر زخم کا مطلب اسی وقت سمجھ میں آتا ہے۔

کچھ درد بس برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

کچھ سوالوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔

اور کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں
جنہیں پڑھتے ہوئے انسان صرف اتنا کہہ پاتا ہے:

“یا اللہ، مجھے سمجھ نہیں آ رہا…
مگر مجھے سنبھال لے۔”

شاید یہ بھی ایمان کی ایک شکل ہے۔

ہر چیز کو سمجھ لینا ایمان نہیں۔
کبھی کبھی نہ سمجھ آنے کے باوجود اپنے رب پر بھروسا رکھنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے۔

ہم ایک صفحہ دیکھتے ہیں،
اللہ پوری کتاب جانتا ہے۔

ہم ایک لمحے میں کھڑے ہوتے ہیں،
وہ ہمارے کل، آج اور آنے والے تمام موڑ جانتا ہے۔

ہم کسی بند دروازے کو دیکھ کر کہتے ہیں:

“میرا راستہ ختم ہو گیا۔”

اور شاید کتاب ابھی صرف صفحہ پلٹ رہی ہوتی ہے۔

کبھی ہمیں لگتا ہے کہ کسی شخص کا ہماری زندگی سے نکل جانا ہماری کہانی کا اختتام ہے،
مگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک باب تھا۔

کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ایک خواب کا ٹوٹ جانا ہماری شکست ہے،
مگر برسوں بعد وہی شکست ہمیں اس راستے تک لے آتی ہے
جس کا تصور بھی ہم نے نہیں کیا تھا۔

اور کبھی…
کبھی کوئی واقعہ اتنا گہرا نشان چھوڑ جاتا ہے
کہ انسان پہلے جیسا رہ ہی نہیں پاتا۔

مگر شاید ہر تبدیلی بری نہیں ہوتی۔

کچھ صفحات ہمیں توڑتے نہیں،
ہماری پرانی شکل توڑتے ہیں۔

اور پھر انہی ٹوٹے ہوئے حصوں سے
ایک ایسا انسان نکلتا ہے
جو پہلے سے زیادہ خاموش،
زیادہ سمجھ دار،
اور اپنے رب کے سامنے زیادہ جھکا ہوا ہوتا ہے۔

ہم زندگی سے اکثر پوچھتے ہیں:

“میرے ساتھ ہی کیوں؟”

شاید ایک دن یہی سوال بدل کر ہو جائے:

“میرے ساتھ جو ہوا،
اس کے بعد مجھے کیا بننا ہے؟”

یہی تبدیلی شفا کی ابتدا ہے۔

کیونکہ جو ہو چکا،
اسے دوبارہ لکھنا ہمارے اختیار میں نہیں۔

گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔

لوگ ہمیشہ نہیں رہتے۔

ہر دعا ہماری خواہش کے مطابق پوری نہیں ہوتی۔

ہر دروازہ ہمارے لیے نہیں کھلتا۔

اور ہر خالی کرسی دوبارہ کسی کے آنے سے نہیں بھرتی۔

لیکن زندگی کی کتاب میں ایک عجیب خوبصورتی ہے:

ایک صفحہ ختم ہونے کے بعد دوسرا صفحہ پھر بھی کھل جاتا ہے۔

اور ہمیں ہر صفحے کا مطلب جاننا ضروری نہیں۔

کچھ صفحات کو صرف قبول کرنا ہوتا ہے۔

کچھ کو آنسوؤں کے ساتھ پڑھنا ہوتا ہے۔

کچھ کو دعا کے ساتھ بند کرنا ہوتا ہے۔

اور کچھ کو…
خاموشی سے پیچھے چھوڑ دینا ہوتا ہے۔

کیونکہ ہر چیز کو ساتھ لے کر چلنے والا انسان
کبھی ہلکا نہیں ہو سکتا۔

کچھ یادیں رہیں گی،
مگر ہمیں ان میں رہنا ضروری نہیں۔

کچھ لوگ دل میں رہیں گے،
مگر زندگی میں نہیں۔

کچھ خواب یاد رہیں گے،
مگر ان کے پیچھے چلنا ضروری نہیں۔

اور کچھ صفحات ہمیشہ ہماری کتاب کا حصہ رہیں گے،
مگر ان کا مطلب ہماری پوری زندگی نہیں ہوگا۔

پختگی یہی ہے کہ انسان ماضی کو مٹانے کی کوشش چھوڑ دے
اور اسے سمجھ کر آگے بڑھنا سیکھ لے۔

کیونکہ زندگی کی نوٹ بک میں
ہر صفحہ ہماری مرضی سے نہیں لکھا جاتا۔

کچھ صفحات وقت لکھتا ہے،
کچھ حالات،
کچھ لوگ،
اور کچھ… تقدیر۔

مگر اگلی سطر اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہو سکتی ہے۔

اس لیے اگر آج زندگی نے ہمارے سامنے کوئی ایسا صفحہ کھول دیا ہے
جسے ہم نے کبھی لکھنا نہیں چاہا تھا،
تو اسے اپنی پوری کتاب سمجھ لینا درست نہیں۔

یہ صرف ایک صفحہ ہے۔

دردناک ہو سکتا ہے…
مگر آخری نہیں۔

کیونکہ بعض اوقات زندگی ہماری پسند کا صفحہ نہیں لکھتی،
مگر اسی صفحے کے بعد
ہمیں وہ انسان بنا دیتی ہے
جس کا وجود ہماری اپنی پسند سے کبھی پیدا نہ ہوتا۔

زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ شاید یہی ہے کہ ہم ہر اس صفحے کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں جسے ہم نے خود نہیں لکھا۔

کچھ واقعات کا مطلب وقت بتاتا ہے، کچھ کا خاموشی، اور کچھ کا مطلب کبھی نہیں ملتا۔

ہر سوال کا جواب مل جانا ضروری بھی نہیں۔
کچھ سوال انسان کو جواب دینے کے لیے نہیں، بدلنے کے لیے ملتے ہیں۔

ہم اپنی کتاب کے ہر صفحے کے مصنف نہیں،
مگر ہر صفحے کے بعد بننے والے انسان کے ذمہ دار ضرور ہیں۔

جو صفحہ ہماری مرضی کے بغیر لکھ دیا گیا،
ہم اسے اپنی پوری کہانی نہ سمجھیں۔
ہو سکتا ہے وہ ہماری پسند کا نہ ہو،
مگر اس کے بعد لکھی جانے والی سطر میں ہمارا اصل وجود چھپا ہو۔

اور ایک دن، جب پوری کتاب بند ہو جائے گی،
ہمیں یہ نہیں سوچنا ہوگا کہ کون سا صفحہ ہمارے اختیار میں تھا اور کون سا نہیں،
بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ
جو کچھ ہمارے اختیار میں تھا، ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا۔

کیونکہ تقدیر نے کچھ صفحات لکھے تھے،
مگر ان صفحات کے درمیان انسان بننا اب بھی ہمارا انتخاب تھا۔

جاری ہے…

فقط
ایلاف

منگل، 22 ستمبر، 2026

Note book by Elaf


زندگی ایک نوٹ بک

قسط دوم

"خالی صفحات"

کچھ عمر تک انسان کو لگتا ہے کہ زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات کوئی اور پلٹ رہا ہے۔

بچپن میں فیصلے ہمارے لیے کیے جاتے ہیں

کیا پہننا ہے، کہاں جانا ہے، کس وقت واپس آنا ہے، کس سے بات کرنی ہے، کس سے نہیں۔

ہمیں صرف جینا ہوتا ہے، سوچنا نہیں۔

پھر ایک عمر آتی ہے۔۔۔

جب اچانک زندگی ہمارے سامنے ایک خالی صفحہ رکھ دیتی ہے۔

نہ اس پر کوئی جملہ لکھا ہوتا ہے

نہ کوئی سمت نشان زد ہوتی ہے

نہ یہ بتایا جاتا ہے کہ اگلی سطر کہاں سے شروع کرنی ہے۔

بس ایک خاموش سوال ہوتا ہے

اب تم کیا لکھو گے؟


شاید یہی وہ عمر ہے جہاں انسان پہلی بار اپنے وجود کی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔

اس سے پہلے تک جو کچھ تھا، وہ بہت حد تک دوسروں کے فیصلوں کا حصہ تھا

پھر آہستہ آہستہ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کے انتخاب ہی اس کی شناخت بنیں گے۔

کس خواب کے پیچھے جانا ہے

کس راستے سے واپس آنا ہے

کس شخص کو اپنی کہانی میں جگہ دینی ہے

کس تعلق کو صرف ایک سبق سمجھ کر چھوڑ دینا ہے

کس درد کو اپنے اندر زہر بننے دینا ہے اور کس درد کو حکمت۔

خالی صفحہ خوبصورت بھی ہوتا ہے اور خوفناک بھی۔

خوبصورت اس لیے کہ اس پر ابھی کچھ خراب نہیں لکھا گیا۔

اور خوفناک اس لیے کہ اب غلطی کا الزام کسی اور پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

ہم اکثر زندگی میں اس مقام پر کھڑے ہو کر ڈر جاتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کوئی ہمیں بتا دے کہ صحیح کیا ہے۔

کوئی پہلے سے لکھا ہوا نقشہ ہمارے ہاتھ میں تھما دے۔

کوئی کہہ دے کہ یہ راستہ خوشی تک جاتا ہے

یہ شخص تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا

یہ خواب ضرور پورا ہوگا

یہ فیصلہ کبھی غلط ثابت نہیں ہوگا۔

مگر زندگی ایسی ضمانتیں نہیں دیتی۔

وہ صرف صفحات دیتی ہے۔

اور قلم ہمارے ہاتھ میں رکھ دیتی ہے۔

پھر ہم لکھتے ہیں۔

کبھی جلدی میں

کبھی جذبات میں

کبھی دوسروں کو خوش کرنے کے لیے

کبھی خود کو ثابت کرنے کے لیے۔

کبھی ایک ایسا فیصلہ کر بیٹھتے ہیں جسے برسوں بعد پڑھ کر سوچتے ہیں


"کاش میں نے یہ سطر نہ لکھی ہوتی"


مگر وقت کی کتاب میں "کاش" کے لیے الگ صفحہ نہیں ہوتا۔

جو لکھ دیا، وہ لکھ دیا۔

البتہ ایک چیز ہمیشہ باقی رہتی ہے

"اگلا صفحہ"

شاید زندگی کا سب سے بڑا رحم یہی ہے کہ انسان کو ہر غلطی کے بعد ایک نیا صفحہ ملتا ہے۔

ہم اپنے ایک غلط باب کو پوری کتاب سمجھ لیتے ہیں۔

ایک ناکامی ہوتی ہے اور ہم خود کو ناکام سمجھ لیتے ہیں۔

ایک رشتہ ختم ہوتا ہے اور ہمیں لگتا ہے محبت ختم ہوگئی۔

ایک خواب بکھرتا ہے اور ہمیں لگتا ہے ہمارے اندر خواب دیکھنے کی صلاحیت بھی مر گئی۔

ایک دعا پوری نہیں ہوتی اور ہم سمجھتے ہیں شاید ہماری دعا کی کوئی قدر نہیں۔

حالانکہ وہ صرف ایک صفحہ تھا۔

پوری کتاب نہیں۔

زندگی کے خالی صفحات ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہر چیز پہلے سے لکھی ہوئی محسوس ہونے کے باوجود ہمارے پاس انتخاب باقی رہتا ہے۔

ہم حالات کا انتخاب ہمیشہ نہیں کر سکتے

مگر اپنے ردِعمل کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

ہم یہ طے نہیں کر سکتے کہ کون ہمارے ساتھ رہے گا،

مگر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کسی کے چلے جانے کے بعد ہم اپنے اندر کیا باقی رکھیں گے۔

ہم یہ نہیں طے کر سکتے کہ کون سا خواب ٹوٹے گا،

مگر یہ ضرور طے کر سکتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے خواب کے ملبے پر بیٹھے رہنا ہے یا اسی سے کوئی نئی بنیاد بنانی ہے۔

اور شاید یہی بلوغت ہے۔

زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق لکھنا نہیں

بلکہ جو صفحہ ملے، اسے سمجھ داری سے مکمل کرنا۔

کبھی کبھی خالی صفحات ہمیں تنہائی دیتے ہیں۔

وہ وقت جب انسان کے پاس نہ کوئی واضح منزل ہوتی ہے، نہ کوئی ایسا شخص جس سے اپنے سارے سوال پوچھ سکے۔

وہ راتیں جب انسان اپنے ہی خیالات کے ساتھ بیٹھا رہتا ہے۔


اپنے مستقبل کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے

میں آخر بنوں گا کیا؟


میری زندگی کا مطلب کیا ہے؟

میں جو کر رہا ہوں، کیا واقعی یہی میرا راستہ ہے؟

شاید ہمیں ان سوالوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

کیونکہ ہر خالی صفحہ فوراً جواب مانگنے کے لیے نہیں ہوتا۔

کچھ صفحات صرف سوچنے کے لیے ہوتے ہیں۔

کچھ خاموشیاں انسان کو اپنے اندر کی آواز سنانے کے لیے آتی ہیں۔

اور کبھی کبھی جب دنیا کے سارے شور خاموش ہو جاتے ہیں، تب انسان پہلی بار اپنے رب کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے


یا اللّٰه ! میں اپنی زندگی میں کیا لکھوں؟

شاید یہ سوال خود ایک دعا ہے۔

کیونکہ جب انسان اپنی مرضی کی کہانی لکھنے سے آگے بڑھ کر اپنے رب سے سمت مانگتا ہے، تو خالی صفحہ اتنا خوفناک نہیں رہتا۔

پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر سطر کا نتیجہ جاننا ضروری نہیں

ضروری یہ ہے کہ نیت درست ہو، قدم درست سمت میں ہو، اور دل اپنے رب سے جڑا رہے۔

ہم اکثر اپنی زندگی کا بہترین صفحہ لکھنے کے چکر میں رہتے ہیں۔

مگر شاید زندگی ہم سے بہترین صفحہ نہیں مانگتی۔

وہ صرف سچا صفحہ مانگتی ہے۔

ایسا صفحہ جس پر ہماری اپنی خوشی ہو، ہماری اپنی غلطی ہو، ہماری اپنی توبہ ہو، ہماری اپنی کوشش ہو۔

ایسا صفحہ جسے پڑھتے ہوئے ہمیں یہ نہ کہنا پڑے

یہ زندگی تو میں نے دوسروں کی خواہش پر گزاری تھی۔

کیونکہ سب سے بڑا افسوس شاید ناکام ہونے کا نہیں ہوگا

سب سے بڑا افسوس یہ ہوگا کہ

ہمیں صفحات تو اپنے ملے تھے، مگر ہم نے پوری کتاب دوسروں کے ہاتھ میں دے دی۔

اس لیے اگر آج زندگی کا کوئی صفحہ خالی ہے تو اسے دیکھ کر پریشان مت ہوں۔

خالی ہونا ہمیشہ ادھورا ہونا نہیں ہوتا۔

کبھی خالی صفحہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ

کہانی ابھی باقی ہے۔

ابھی ایک خواب لکھا جا سکتا ہے۔

ابھی ایک معافی لکھی جا سکتی ہے۔

ابھی ایک دعا لکھی جا سکتی ہے۔

ابھی ایک نئی ابتدا ممکن ہے۔

اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ

کل کے صفحات جیسے بھی تھے

آج کا صفحہ ابھی آپ کے سامنے ہے۔

قلم اٹھائیے.....


مگر اس بار جلدی نہ کیجیے.....


سوچ کر لکھیے.....


کیونکہ زندگی کی نوٹ بک میں ہر صفحہ دوبارہ نہیں ملتا۔

اور شاید خالی صفحات ہمیں اس لیے نہیں دیے گئے کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی لکھیں

بلکہ اس لیے کہ ہم اپنے اختیار کو پہچان سکیں۔

زندگی کا کمال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے خوبصورت صفحات لکھے

بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے حصے کے اندھیروں میں بھی کیا لکھا۔

آخرکار کتاب بند ہو جائے گی

صفحات پلٹنا رک جائیں گے

اور ہمارے ہاتھ سے قلم بھی چھوٹ جائے گا۔

اس لیے جو صفحہ آج ہمارے سامنے ہے

اسے اتنا سچا لکھیں کہ کل اسے پڑھتے ہوئے

ہمیں اپنے آپ سے نظریں نہ چرانا پڑیں۔


جاری ہے

بدھ، 16 ستمبر، 2026

دورِ جدید کے خانہ بدوش


از قلم ایلاف

دورِ جدید کے خانہ بدوش

"ہم سفر تو بہت کرتے ہیں،

مگر کیا کبھی اپنے اندر بھی اترتے ہیں؟"

رات کافی گزر چکی تھی۔

رمشا کئی بار اپنا فون دیکھ چکی تھی۔ سیمر کا کوئی پیغام نہیں آیا تھا۔

عام طور پر وہ چاہے کتنا ہی مصروف ہو، دوستوں کے گروپ میں کوئی نہ کوئی بات ضرور کر دیتا تھا۔ کبھی احمر سے بے مقصد بحث، کبھی زویا کی کسی بات پر طنز، اور کبھی رمشا کو صرف ایک لفظ بھیج دیتا:

"جاگ رہی ہو؟"

مگر آج عجیب خاموشی تھی۔

رمشا نے دوبارہ چیٹ کھولی۔ سیمر آن لائن تھا۔ اس نے فوراً کال ملا دی۔ کافی دیر بعد فون اٹھا۔

"ہیلو؟"

"کہاں ہو؟"

"گھر پر۔"

"پتا ہے۔"

سیمر خاموش ہو گیا۔

"تم ٹھیک ہو؟"

"ہاں۔"

"سیمر... یہ 'ہاں' والی آواز تمہاری نہیں ہے۔"

دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔

"احمر بھی تمہیں کال کر رہا تھا۔ زویا نے بھی پوچھا کہ اتنے دنوں سے گروپ میں خاموش کیوں ہو۔ سب کو فکر ہو رہی ہے۔"

"سب کو میری اتنی فکر کیوں ہے؟"

رمشا نے فوراً جواب نہیں دیا، پھر بولی:

"کیونکہ تم ہمارے دوست ہو۔ اور دوستوں کو کبھی کبھی وجہ نہیں چاہیے ہوتی۔"

سیمر نے آنکھیں بند کر لیں۔

وہ واقعی کچھ دنوں سے خود کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے فون اٹھاتا، نوٹیفیکیشنز، میسجز، اپڈیٹس۔ ابھی بستر سے اٹھا بھی نہیں ہوتا کہ ذہن پہلے ہی دس جگہ بٹ چکا ہوتا۔

دن گزرتا تو ماضی کی کوئی بات ذہن میں آ جاتی۔ رات ہوتی تو لگتا کہ سارا دن کچھ کیے بغیر گزر گیا، حالانکہ اسکرین ٹائم بتاتا تھا کہ گھنٹوں مصروف رہا تھا۔

موبائل کھولتا تو دوسروں کی زندگیاں سامنے ہوتیں۔

کوئی نئی نوکری کی خوشخبری دے رہا تھا، کوئی کسی نئے شہر کی تصویر لگا رہا تھا، کوئی "بیسٹ لائف" کیپشن کے ساتھ ہنس رہا تھا۔

اور وہ؟

وہ صرف دیکھ رہا تھا۔

"سیمر؟"

"ہاں۔"

"کہاں کھو گئے؟"

"پتا نہیں، رمشا۔ شاید خود سے بہت دور نکل گیا ہوں۔"

رمشا خاموش ہو گئی۔

اسی وقت سیمر کے فون پر احمر کا پیغام آیا:

"بھائی، زندہ ہو یا پھر فلسفی بن گئے ہو؟"

سیمر بے اختیار مسکرا دیا۔

پھر زویا کا پیغام:

"کل مل رہے ہیں۔ بہانے نہیں چلیں گے۔"

اگلے دن چاروں ایک خاموش سے کیفے میں بیٹھے تھے۔ باہر شام ڈھل رہی تھی، اور اندر ہلکی موسیقی کے علاوہ کچھ دیر تک کوئی نہیں بولا۔

احمر نے سیمر کو غور سے دیکھا۔

"تو جناب! آخر مسئلہ کیا ہے؟"

"کچھ نہیں۔"

"یہی تو مسئلہ ہے،" زویا فوراً بولی۔

سیمر نے نظریں اٹھائیں۔

"تم کہتے ہو کچھ نہیں، مگر تمہاری خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔"

رمشا نے آہستہ سے کہا:

"تم ہر وقت کہیں نہ کہیں جانے کی بات کرتے ہو۔ کبھی نیا شہر، کبھی نئی جاب، کبھی نئی زندگی۔"

وہ رکی۔

"مگر سیمر، تمہیں کبھی خیال آیا کہ شاید تمہیں کہیں جانے کی نہیں، کچھ دیر ٹھہرنے کی ضرورت ہے؟"

احمر نے کافی کا کپ گھماتے ہوئے کہا:

"ہماری نانی بتاتی تھیں کہ ان کے گاؤں میں کچھ لوگ خانہ بدوش ہوتے تھے۔ نہ گھر، نہ زمین، بس اونٹ اور خیمہ، اور جہاں دل چاہا، وہیں ڈیرہ ڈال دیا۔ ہر چند مہینے بعد نیا ٹھکانہ، نیا آسمان۔"

"اور ہم؟" زویا نے پوچھا۔

سیمر نے دھیرے سے جواب دیا:

"ہم خیالات کے خانہ بدوش ہیں۔"

"رشتوں کے بھی،" رمشا نے جوڑا۔

احمر مسکرایا:

"اور نوکریوں کے تو سب سے زیادہ۔ چھ مہینے میں دل بھر جاتا ہے، لگتا ہے 'گروتھ' رک گئی ہے، اور بندہ نئی جگہ CV بھیج دیتا ہے۔"

"ریلیشن شپس میں بھی وہی حال ہے،" زویا نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ "تین مہینے 'situationship'، پھر گھبراہٹ، پھر بلاک۔ کوئی commitment کی بات کرے تو ایسے لگتا ہے جیسے سانس رک جائے گی۔"

سب ہنس پڑے۔

مگر ہنسی کے پیچھے ایک سچائی چھپی تھی جسے کوئی کہنا نہیں چاہتا تھا۔

سیمر نے کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا:

"شاید ہماری نسل کا المیہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ہر وقت آگے بڑھنے کا کہا گیا، مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کبھی کبھی ٹھہرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔"

احمر نے پوچھا:

"اور یہ خانہ بدوشی کہاں سے آئی؟"

سیمر نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا:

"شاید یہ ہم سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔"

سب نے اسے دیکھا۔

"پہلے لوگ انٹرنیٹ پر جانے کے لیے کمپیوٹر آن کرتے تھے۔"

زویا مسکرائی۔

"Yahoo؟"

"Yahoo۔"

احمر فوراً بولا:

"MSN Messenger!"

رمشا ہنس پڑی:

"اور پھر Google۔"

سیمر بھی مسکرایا۔

"ہاں، Google۔ کسی چیز کا جواب چاہیے ہوتا تو ہم سرچ کرتے تھے۔ کسی کا آن لائن آنا انتظار بن جاتا تھا۔ کبھی Yahoo کی دنیا تھی، کبھی MSN کی چھوٹی سی چیٹ ونڈو، کبھی Google کے سرچ باکس میں کوئی سوال۔"

وہ چند لمحے رکا۔

"تب انٹرنیٹ ہماری زندگی کا ایک حصہ تھا، پوری زندگی نہیں۔"

احمر نے کہا:

"پھر Facebook آیا۔"

"ہاں۔"

سیمر نے سر ہلایا۔

"Facebook نے دوستوں کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ تصویریں، status، comments، likes... پھر آہستہ آہستہ ہمیں اپنی زندگی صرف جینے کے بجائے دکھانے کی عادت بھی ہونے لگی۔"

زویا نے بات آگے بڑھائی:

"پھر Instagram آیا، تو زندگی تصویروں میں بدل گئی۔"

"Snapchat نے لمحوں کو عارضی کر دیا،" رمشا نے کہا۔

"اور TikTok اور Reels نے توجہ کو چند سیکنڈز میں بانٹ دیا،" احمر نے ہنستے ہوئے کہا۔

سیمر نے موبائل کی طرف دیکھا۔

"اور اب AI ہے۔"

چند لمحے سب خاموش رہے۔

"یعنی؟" زویا نے پوچھا۔

"یعنی ہم صرف دنیا سے جواب نہیں مانگ رہے، اب مشینوں سے بھی سوال کر رہے ہیں۔"

وہ ہلکا سا مسکرایا۔

"دیکھو تو سہی، سفر کتنا بدل گیا۔"

"پہلے ہم انٹرنیٹ پر جاتے تھے،" رمشا نے آہستہ سے کہا۔

"اب انٹرنیٹ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔"

سیمر نے بات مکمل کی۔

"اور شاید یہی اصل فرق ہے۔"

پرانے وقتوں کے خانہ بدوش زمین کے مسافر تھے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکتے تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ زمین بنجر ہو جاتی تو نیا چراگاہ ڈھونڈنا پڑتا۔

"اور ہم؟" زویا نے پوچھا۔

سیمر نے دھیرے سے جواب دیا:

"ہم بھی سفر میں ہیں۔ بس ہماری زمین ڈیجیٹل ہے۔"

"اور ہماری چراگاہ؟" احمر نے پوچھا۔

سیمر مسکرایا:

"اگلی چیز۔"

سب اسے دیکھنے لگے۔

"اگلی جاب، اگلا شہر، اگلا رشتہ، اگلی ویڈیو، اگلی notification، اگلا update۔"

وہ رکا۔

"ہماری خانہ بدوشی شاید مجبوری سے نہیں، بے چینی سے ہے۔"

"کیونکہ آپشنز ہی مسئلہ ہیں،" احمر بولا۔

"ایک جاب پسند نہیں آئی تو دس اور موجود ہیں سکرین پر۔ ایک بندہ بور کر دے تو نیا میچ ایک سوائپ کی دوری پر ہے۔ ہمیں کبھی 'کمی' کا سامنا ہی نہیں ہوتا، اس لیے کبھی 'کافی ہے' کا احساس بھی نہیں ہوتا۔"

زویا نے کافی کا کپ نیچے رکھا۔

"میں جب بھی Instagram کھولتی ہوں، لگتا ہے سب کی زندگی مجھ سے آگے ہے۔ کوئی سفر کر رہا ہے، کوئی پروموشن لے رہا ہے، کوئی 'perfect' رشتے میں ہے۔ اور میں سوچنے لگتی ہوں میں پیچھے کیوں ہوں؟ حالانکہ عقل کہتی ہے کہ یہ صرف ہائی لائٹس ہیں، پوری کہانی نہیں۔"

"مگر دل عقل کی نہیں سنتا،" رمشا نے کہا۔

"ہم جانتے ہوئے بھی موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ اور جب موازنہ رکتا نہیں، تو سکون بھی نہیں ملتا۔ بس اگلی چیز، اگلی جگہ، اگلا 'اپڈیٹ'۔ ہم بس چلتے رہتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ منزل کیا ہے۔"

احمر نے میز پر انگلی سے ہلکی سی لکیر بناتے ہوئے کہا:

"اور یہ سفر صرف Gen-Z تک بھی نہیں ہے۔"

زویا نے اسے دیکھا۔

"ہم سے پہلے والوں کا اپنا ڈیجیٹل سفر تھا۔ Yahoo، MSN، Google، پھر Facebook۔"

وہ سیمر کی طرف دیکھ کر بولا:

"ہم نے Instagram، Snapchat، TikTok اور Reels دیکھے۔"

پھر اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔

"اور ہمارے بعد والے؟"

"Gen Alpha،" زویا نے کہا۔

"ہاں، مگر شاید کہانی وہاں بھی نہیں رکتی۔"

سیمر نے جواب دیا۔

"Gen Alpha ایسی دنیا میں بڑی ہو رہی ہے جہاں اسکرین کوئی نئی چیز نہیں۔ ہم نے ٹیکنالوجی کو اپنایا تھا، انہوں نے اسے معمول کے طور پر دیکھا۔ اور ان کے بعد آنے والے شاید ایسی دنیا میں ہوں گے جہاں آج کی ہماری بہت سی حیرت انگیز چیزیں بھی پرانی لگیں گی۔"

رمشا نے پوچھا:

"تو کیا ہر نسل خانہ بدوش ہے؟"

سیمر نے کچھ سوچ کر کہا:

"شاید۔"

"بس خیمے بدلتے رہتے ہیں۔"

احمر نے مسکرا کر کہا۔

"پہلے خیمہ کپڑے کا ہوتا تھا، پھر کمپیوٹر کی اسکرین بنی، پھر موبائل کی اسکرین۔"

زویا نے کہا:

"اور کل؟"

سیمر نے کندھے اچکائے۔

"پتا نہیں۔ شاید اس سے بھی آگے کوئی ایسی دنیا ہو جہاں ہمیں اپنی جیب میں فون رکھنے کی بھی ضرورت نہ رہے۔"

وہ ہنسا۔

"مگر اگر انسان نے خود کو نہ سمجھا تو خیمہ چاہے کپڑے کا ہو یا کسی نئی ٹیکنالوجی کا، خانہ بدوشی ختم نہیں ہوگی۔"

رمشا نے آہستہ سے کہا:

"اور شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم سب اپنے راستے کھو دیتے ہیں۔ ہر بار کوئی نئی چیز کھلتی ہے، اور ہم دوبارہ اسی موازنے میں الجھ جاتے ہیں۔"

"کیونکہ ہم دوسروں کی منزل دیکھ کر اپنی سمت بدل لیتے ہیں۔"

سیمر نے کہا۔

سیمر نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔

لوگ آ جا رہے تھے، ہر کوئی کہیں نہ کہیں پہنچنے کی جلدی میں۔

سڑک کے پار ایک لڑکی فون پر کوئی ریلز اسکرول کر رہی تھی، دوسری طرف ایک لڑکا اکیلے بیٹھا مسلسل نوٹیفیکیشنز چیک کر رہا تھا۔

ایک بچہ اپنے والد کے فون پر کچھ دیکھ رہا تھا۔

اور ایک شخص اپنے فون پر کسی AI سے سوال پوچھ رہا تھا۔

سیمر نے دھیرے سے کہا:

"شاید دورِ جدید کا خانہ بدوش وہ نہیں جو شہر بدلتا ہے۔"

سب خاموش ہو گئے۔

"وہ ہے جو ہر وقت اسکرول کرتا رہتا ہے، اگلی خوشی کی تلاش میں، اگلے 'اپڈیٹ' کی تلاش میں، اگلی مصروفیت کی تلاش میں۔"

وہ رکا۔

"ہم بھٹکتے نہیں، بس... سوائپ کرتے ہیں۔"

احمر مسکرایا۔

سیمر نے بات مکمل کی:

"اور فرق یہ ہے کہ پرانے خانہ بدوش کو پتا ہوتا تھا وہ کیوں چل رہا ہے۔ رزق کی تلاش میں، پانی کی تلاش میں۔ ہمیں یہ بھی نہیں پتا کہ ہم کس چیز کی تلاش میں ہیں۔"

"اور خود سے؟" رمشا نے پوچھا۔

سیمر خاموش ہو گیا۔

"خود سے دور،" زویا نے جواب دیا۔

"کیونکہ اپنے آپ کے ساتھ اکیلے بیٹھنا سب سے مشکل کام لگتا ہے۔ خاموشی میں وہ سوالات اٹھتے ہیں جن کے جواب ہمارے پاس نہیں۔ اس لیے ہم مصروف رہتے ہیں۔ کسی نہ کسی چیز میں۔ نوٹیفیکیشن، ریلز، نئی پلاننگ، نئی چیٹس، نئی منزل... بس کچھ بھی، تاکہ خاموشی نہ آئے۔"

احمر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

"شاید اسی لیے ہم چاروں یہاں بیٹھے ہیں۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ایک دوسرے کے سامنے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔"

سیمر نے پہلی بار تینوں کو غور سے دیکھا۔

کسی نے اسے نصیحت نہیں کی تھی۔

بس بات ہوئی تھی۔

سادہ، بغیر کسی فیصلے کے، بغیر کسی حل کے۔

اور شاید یہی کافی تھا۔

اس دن سیمر نے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا۔

بس ایک چھوٹا سا کام کیا۔

گھر جا کر اس نے فون ایک طرف رکھا، کھڑکی کھولی، اور کافی دیر خاموش بیٹھا رہا۔

نہ کسی کی زندگی دیکھی، نہ اپنی زندگی کسی کو دکھائی۔

پہلے پہل عجیب سا لگا۔

ہاتھ خود بخود فون کی طرف بڑھتے، ذہن کسی نئی مصروفیت کی تلاش میں بھٹکتا۔

مگر وہ بیٹھا رہا۔

بس خود سے ایک سوال کیا:

"میں آخر کہاں جا رہا ہوں؟"

جواب کسی شہر میں نہیں تھا۔

کسی نئی نوکری، نئے رشتے یا نئی اسکرین میں بھی نہیں۔

اور شاید کسی نئی ٹیکنالوجی میں بھی نہیں۔

شاید ہماری نسل، دورِ جدید کی Gen-Z کی، یا ہمارے بعد آنے والی Gen Alpha کی، یا ان کے بعد آنے والی کسی بھی نسل کی...

اصل کہانی ایک ہی ہے۔

دنیا بدلتی رہے گی۔

نام بدلتے رہیں گے۔

ایپس بدلتی رہیں گی۔

Yahoo سے Google تک، MSN سے Facebook تک، Facebook سے Instagram تک، Instagram سے Snapchat، TikTok اور Reels تک، اور وہاں سے AI اور ان ٹیکنالوجیز تک جن کے نام شاید آج ہمیں معلوم بھی نہیں۔

ہر دور اپنے ساتھ ایک نیا راستہ لے کر آئے گا۔

ہر نسل اپنا نیا خیمہ بنائے گی۔

اور شاید ہر نئی نسل خود کو پچھلی نسل سے زیادہ آزاد سمجھے گی۔

مگر سوال وہی رہے گا۔

"میں آخر کہاں جا رہا ہوں؟"

پرانے خانہ بدوش زمین کے مسافر تھے۔

ہم اسکرینوں کے۔

وہ خیمہ اٹھا کر چلتے تھے۔

ہم فون اٹھا کر۔

وہ نئی چراگاہ تلاش کرتے تھے۔

ہم نئی مصروفیت۔

وہ پانی تلاش کرتے تھے۔

ہم اگلی notification۔

وہ راستہ جانتے تھے۔

ہم اکثر صرف سمت بدلتے رہتے ہیں۔

اور شاید یہی دورِ جدید کی اصل خانہ بدوشی ہے۔

دنیا بھر کی اپڈیٹس دیکھ کر بھی خود اپنے اندر واپس آنے کا راستہ بھول جانا۔

ہر چیز تک رسائی کے باوجود، اپنے آپ تک رسائی کھو دینا۔

اور شاید یہ سفر یہاں بھی ختم نہیں ہوگا۔

کل کی نسل کے پاس آج سے مختلف دنیا ہوگی۔

نئی ٹیکنالوجی ہوگی۔

نئے پلیٹ فارم ہوں گے۔

نئے طریقے ہوں گے۔

شاید رابطے مزید آسان ہوں گے۔

شاید فاصلے مزید کم ہوں گے۔

شاید انسان اپنے آس پاس کی دنیا سے پہلے سے زیادہ جڑا ہوگا۔

مگر اگر وہ اپنے اندر سے کٹا رہا...

تو وہ پھر بھی خانہ بدوش ہوگا۔

کیونکہ خانہ بدوشی ہمیشہ جگہ بدلنے کا نام نہیں۔

کبھی کبھی یہ اپنی ذات سے دور ہوتے جانے کا نام بھی ہے۔

اور شاید اصل سفر وہ لمحہ ہے، جب فون ایک طرف رکھ کر، کوئی پہلی بار اپنے اندر اترنے کے لیے رک جائے۔

نہ کسی نئی جگہ کی تلاش میں۔

نہ کسی نئے شخص کی طرف۔

نہ کسی نئی اسکرین کے پیچھے۔

بلکہ بس...

اپنے آپ کی طرف۔

کیونکہ گھر شاید کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

گھر ایک فیصلہ ہوتا ہے۔

ٹھہرنے کا فیصلہ۔

اور شاید دورِ جدید کے ان تمام خانہ بدوشوں کو، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتے ہوں، ایک دن یہی سمجھنا ہوگا:

خیمے بدلتے رہیں گے۔

راستے بدلتے رہیں گے۔

دنیا بدلتی رہے گی۔

مگر انسان کے اندر ایک سوال ہمیشہ وہیں کھڑا رہے گا—

"میں کہاں جا رہا ہوں؟"

اور شاید اس سوال کا سب سے سچا جواب کسی نقشے، کسی ایپ، کسی سرچ انجن، کسی الگورتھم یا کسی AI کے پاس نہیں۔

شاید وہ جواب

انسان کو خود اپنے اندر اتر کر تلاش کرنا ہوگا۔

زندگی ایک نوٹ بک


زندگی ایک نوٹ بک

ازقلم ایلاف

قسط اوّل — پہلا صفحہ


کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر زندگی واقعی ایک نوٹ بک ہوتی، تو اس کا پہلا صفحہ کیسا ہوتا؟

شاید بالکل خاموش۔

نہ کوئی لفظ، نہ کوئی دستخط، نہ کوئی انتخاب۔

بس ایک وجود۔۔۔

جو اچانک اس دنیا کی کتاب میں درج کر دیا گیا۔

ہم میں سے کسی نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ کب پیدا ہونا ہے، کہاں پیدا ہونا ہے، کن لوگوں کے درمیان آنکھ کھولنی ہے، کون سا نام ملنا ہے، کون سے حالات ہمارا استقبال کریں گے۔

پھر بھی ہماری کہانی کا پہلا صفحہ لکھ دیا گیا۔

اور شاید زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ بھی یہی ہے کہ کتاب کا آغاز ہمارے اختیار میں نہیں تھا، مگر درمیان کے صفحات ہمیں لکھنے کے لیے دے دیے گئے۔

بچپن میں ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایک کہانی کا حصہ ہیں۔

ہم مٹی سے گھر بناتے ہیں،

کھلونوں سے دنیا آباد کرتے ہیں،

چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہوتے ہیں،

اور سمجھتے ہیں کہ زندگی ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔

پھر ایک دن۔۔۔

زندگی ہمارے ہاتھ سے کھلونا لے کر پہلی بار پوچھتی ہے:

"اب؟"

اور یہ "اب" ہی شاید شعور کی ابتدا ہے۔

ہمیں پہلی بار معلوم ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں ہماری مرضی سے نہیں ہوتیں۔

کچھ لوگ جنہیں ہم ہمیشہ اپنے پاس دیکھنا چاہتے ہیں، دور ہو جاتے ہیں۔

کچھ خواب جنہیں ہم اپنی آنکھوں میں برسوں سنبھالتے ہیں، حقیقت نہیں بنتے۔

کچھ دروازے پوری شدت سے کھٹکھٹانے کے باوجود نہیں کھلتے۔

اور کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر ہم چلنا ہی نہیں چاہتے، مگر زندگی ہمیں وہیں لے جاتی ہے۔

تب ہمیں لگتا ہے کہ ہماری کہانی ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔

مگر شاید مسئلہ یہ نہیں کہ کہانی ہمارے ہاتھ سے نکل گئی؛

مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اختیار اور اپنے اختیار سے باہر کی چیزوں میں فرق کرنا نہیں سیکھا۔

ہم ہر واقعے کو اپنی مرضی سے ترتیب دینا چاہتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ خوشی آئے تو ہماری مرضی کے وقت آئے،

رشتے ہماری مرضی کے مطابق چلیں،

دعائیں ہماری مرضی کے مطابق قبول ہوں،

اور جدائیاں ہماری زندگی کی کتاب میں کبھی درج ہی نہ ہوں۔

مگر زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے تمام جملے ہم نہیں لکھتے۔

کچھ سطریں وقت لکھتا ہے،

کچھ حالات،

کچھ لوگ،

اور کچھ ایسی حقیقتیں جنہیں سمجھنے میں ہمیں برسوں لگ جاتے ہیں۔

شاید اسی لیے انسان کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ اس کی زندگی میں کیا لکھا گیا؛

اصل آزمائش یہ ہے کہ جو لکھا جا چکا، وہ اسے پڑھ کر آگے کیا لکھتا ہے۔

ایک ہی واقعہ دو انسانوں کی زندگی میں آ سکتا ہے،

مگر دونوں کے اگلے صفحات ایک جیسے نہیں ہوتے۔

ایک شخص شکست کے بعد خود کو ختم سمجھ لیتا ہے،

دوسرا اسی شکست سے اپنے اندر ایک نئی بصیرت پیدا کر لیتا ہے۔

ایک شخص جدائی کو صرف محرومی سمجھتا ہے،

دوسرا اسی جدائی میں اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔

ایک شخص دعا کے دیر سے قبول ہونے کو خاموشی سمجھتا ہے،

دوسرا انتظار کے دوران اپنے اندر پیدا ہونے والی تبدیلی کو پہچان لیتا ہے۔

شاید یہی فرق انسان کو صرف واقعات کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔

کیونکہ زندگی میں ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں،

لیکن ہر واقعے کے بعد ہمارا رویہ ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔

ہم ماضی کا صفحہ پھاڑ نہیں سکتے۔

جو ہو گیا، وہ دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا۔

کاش ایسا ممکن ہوتا کہ انسان اپنی زندگی کی کچھ سطریں مٹا دیتا۔۔۔

کسی غلط فیصلے کو،

کسی تلخ لفظ کو،

کسی بےاحتیاطی کو،

کسی ایسی رات کو جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی دل بوجھل ہو جاتا ہے۔

مگر نوٹ بک کی طرح زندگی بھی شاید یہی سکھاتی ہے کہ ہر صفحہ مٹانے کے لیے نہیں ہوتا۔

کچھ صفحات سبق بننے کے لیے ہوتے ہیں۔

کچھ غلطیاں ہمیں ہماری کمزوری دکھاتی ہیں۔

کچھ محرومیاں ہمیں اپنی حقیقت سے ملاتی ہیں۔

کچھ لوگ ہمیں محبت کا مطلب سکھا کر چلے جاتے ہیں۔

اور کچھ جدائیاں ہمیں یہ سمجھا دیتی ہیں کہ دنیا میں کسی چیز کو ہمیشہ کے لیے اپنا سمجھ لینا شاید انسان کی سب سے بڑی بھول ہے۔

پھر آہستہ آہستہ انسان کو ایک اور حقیقت سمجھ آتی ہے:

ہم زندگی کو کنٹرول نہیں کر سکتے، مگر زندگی ہمیں کس انسان میں بدل دے، اس سفر میں ہمارا کردار ضرور ہے۔

یہیں سے اللہ سے تعلق کی ایک نئی سمجھ پیدا ہوتی ہے۔

اللہ سے محبت شاید صرف اس وقت نہیں ہوتی جب زندگی ہماری خواہش کے مطابق چل رہی ہو۔

کبھی محبت اس وقت بھی سیکھنی پڑتی ہے جب جواب دیر سے آئے۔

جب دعا کے بعد بھی انتظار باقی رہے۔

جب دل کسی چیز کو چاہے اور قسمت میں کچھ اور لکھا ہو۔

جب انسان کے پاس سوال بہت ہوں اور جواب کم۔

تب ایمان شاید یہ نہیں کہ انسان کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہو؛

بلکہ یہ اعتماد ہے کہ ہر جواب فوراً سمجھ میں آنا ضروری نہیں۔

ہم وقت کو دیکھتے ہیں،

اللہ کی حکمت کا پورا احاطہ نہیں کر سکتے۔

ہم ایک صفحہ دیکھتے ہیں،

جبکہ ہماری نظر پوری کتاب تک نہیں پہنچتی۔

اسی لیے کبھی کبھی جو واقعہ ہمیں اپنی کہانی کا سب سے تاریک صفحہ لگتا ہے، وقت گزرنے کے بعد وہی صفحہ کسی بڑے سبق کا آغاز بن جاتا ہے۔

لیکن یہ سمجھ فوراً نہیں آتی۔

اس کے لیے وقت چاہیے۔

خاموش راتیں چاہیے۔

اپنے آپ سے سوال چاہیے۔

اور کبھی کبھی بہت سی ایسی دعائیں چاہیے جن کا جواب ہماری توقع کے مطابق نہیں آتا۔

انسان جلد باز ہے۔

وہ چاہتا ہے کہ آج مانگے اور آج ہی مل جائے۔

آج روئے اور آج ہی سکون آ جائے۔

آج ٹوٹے اور کل تک مکمل ہو جائے۔

مگر انسان کا اندر کوئی بٹن نہیں کہ دبا اور سب کچھ بدل گیا۔

سنبھلنا ایک عمل ہے۔

اور شاید روحانی سفر بھی۔

ہم ایک دن میں اپنے رب کے قریب نہیں ہوتے۔

ہم کئی چھوٹی چھوٹی واپسیوں سے گزرتے ہیں۔

کبھی نماز میں دل لگتا ہے،

کبھی صرف الفاظ ادا ہوتے ہیں۔

کبھی دعا میں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں،

کبھی ہونٹ خاموش رہتے ہیں۔

کبھی انسان کو اپنے رب کی قربت بہت محسوس ہوتی ہے،

کبھی وہ خود کو بہت دور پاتا ہے۔

مگر شاید واپسی کا حسن یہی ہے کہ دروازہ بند محسوس ہو تب بھی انسان دستک دینا نہیں چھوڑتا۔

زندگی کی نوٹ بک کا پہلا صفحہ ہمیں ملا نہیں تھا؛

وہ ہمیں دیا گیا تھا۔

اور آخری صفحہ بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہوگا۔

اختیار صرف ان صفحات پر ہے جو ان دونوں کے درمیان ہیں۔

یہی چند صفحات ہماری ذمہ داری ہیں۔

یہیں ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ شکست ہمیں تلخ بنائے گی یا بالغ۔

یہیں ہم طے کرتے ہیں کہ محرومی ہمیں شاکی بنائے گی یا شاکر۔

یہیں ہم سیکھتے ہیں کہ محبت صرف پانے کا نام نہیں، کبھی چھوڑ دینے کا حوصلہ بھی ہے۔

یہیں ہم جانتے ہیں کہ معافی دوسروں کو آزاد کرنے سے پہلے ہمارے اپنے دل کو آزاد کرتی ہے۔

اور یہیں کہیں، زندگی کے شور سے بہت دور، انسان اپنے آپ سے ایک سوال کرتا ہے

اگر میرے پاس پوری کتاب لکھنے کا اختیار نہیں، تو کم از کم جو صفحات میرے اختیار میں ہیں، میں ان پر کیا لکھ رہا ہوں؟

شاید یہی سوال زندگی کی اصل ابتدا ہے۔

پہلا صفحہ پیدائش تھا۔

مگر اپنی کہانی کو سمجھنا شاید شعور کا پہلا صفحہ ہے۔

ابھی کتاب کھلی ہے۔

قلم ابھی ہاتھ میں ہے۔

کچھ صفحات لکھے جا چکے ہیں،

کچھ پر داغ ہیں،

کچھ پر آنسوؤں کے نشان،

کچھ پر خوشیوں کی روشنائی۔

مگر چند صفحات۔۔۔

ابھی بھی خالی ہیں۔

اور شاید یہی خالی صفحات ہماری سب سے بڑی امید ہیں۔

کیونکہ جب تک اگلا صفحہ خالی ہے، کہانی ختم نہیں ہوئی۔

جاری ہے۔۔۔




بدھ، 9 ستمبر، 2026

خیمہ گاہ


دل ایک خیمہ گاہ اور اس کے مسافر



ازقلم ✍️ Elaf (ایلاف)


دل ایک خیمہ گاہ ہے۔یہاں لوگ ہمیشہ کے لیے بسیرا کرنے نہیں آتے، بلکہ ہمارے وجود میں کوئی نہ کوئی تبدیلی چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کوئی امید کا چراغ جلا جاتا ہے، کوئی یقین کی چادر تار تار کر دیتا ہے، کوئی دعا بن کر ٹھہرتا ہے اور کوئی آزمائش بن کر آیا اور گزر گیا۔ آخر میں جب سب خیمے اکھڑ جاتے ہیں تو انسان خود اپنے دل کا واحد مکین رہ جاتا ہے۔


عنبر اپنے کمرے میں، پرانی الماری کے سامنے بیٹھی تھی۔ باہر شام ڈھل رہی تھی اور کھڑکی سے آتی نارنجی روشنی کمرے میں پھیل رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹی ہوئی گھڑی تھی، کسی گزرے ہوئے رشتے کی آخری نشانی۔ الماری میں بکھری پرانی تصویریں، خط، اور ایک سوکھا ہوا پھول بھی پڑا تھا۔ عنبر نے گھڑی کو ہاتھ میں گھماتے ہوئے، آہستہ سے کہا: "تم نے تو وقت بدلنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن تم خود وقت کے ساتھ بدل گئے۔ کتنی عجیب بات ہے میرا دل تو بس ایک عارضی پڑاؤ تھا، اور تم نے اسے اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھ لیا تھا۔"

دروازہ ہلکا سا کھلا۔ اس کی دوست زویہ، جو برسوں سے اس کے ہر دکھ سکھ میں ساتھ رہی تھی، اندر داخل ہوئی۔ عنبر! پھر وہی پرانی چیزیں لیے بیٹھی ہو؟ زویہ نے پوچھا۔ کیوں خود کو انہی یادوں میں الجھائے رکھتی ہو؟ جس نے جانا تھا، وہ چلا گیا۔ خیمہ تو کب کا اکھڑ چکا، پھر اس خالی جگہ کو دیکھ کر کیوں اداس ہوتی ہو؟

عنبر مسکرا دی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ اداس نہیں ہوں زویہ۔ بس دیکھ رہی ہوں کہ اس خیمے میں کتنے مسافر آئے۔ کسی نے یہاں امید کے دیپ جلائے، کسی نے بے یقینی کا اندھیرا بکھیرا، اور کوئی ایک آزمائش بن کر آیا۔ لیکن ہر بار جب خیمہ اکھڑا، میں نے خود کو پہلے سے ذرا مضبوط پایا۔

مضبوط؟ زویہ نے حیرت سے پوچھا۔ یہ کیسی مضبوطی ہے جو ہر بار ٹوٹ کر ملتی ہے؟

عنبر نے سنجیدگی سے جواب دیا: دیکھو زویہ، جب کوئی خیمہ لگانے آتا ہے، تو جاتے وقت کچھ چیزیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی ہنسنا سکھا جاتا ہے، تو کوئی خاموشی کا مفہوم سکھا جاتا ہے۔ اگر میں ہر جانے والے کے بعد خیمہ نہ اکھاڑوں، تو نیا مسافر کہاں ٹھہرے گا؟ زندگی رکنے کا نام نہیں۔ میرا دل ایک خیمہ گاہ ہے، یہ کسی ایک کا مستقل ٹھکانہ نہیں ہو سکتا۔

اسی وقت کمرے کا دروازہ پھر کھلا۔ عنبر کی چھوٹی بہن، ارحہ، جو ابھی کالج میں پڑھتی تھی، اندر آئی۔ اس کے چہرے پر بھی الجھن تھی۔ آپی، میں نے آپ دونوں کی باتیں سن لیں، ارحہ نے آہستہ سے کہا۔ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ جو لوگ چلے جاتے ہیں، وہ ہمیشہ کے لیے کچھ خالی کر جاتے ہیں۔ کیا واقعی وہ خالی جگہ کبھی بھر پاتی ہے؟"

عنبر ارحہ کے قریب بیٹھ گئی اور نرمی سے سمجھایا, ارحہ، خالی جگہ بھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بس اسے قبول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر خالی جگہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم کتنے مضبوط ہو چکے ہیں۔ جو لوگ خیمہ گاہ میں آتے ہیں، وہ ہمیں مکمل کرنے نہیں آتے، ہمیں ہماری اپنی پہچان سے ملا جاتے ہیں۔

کچھ توقف کے بعد زویہ نے آہستہ سے پوچھا: کیا تمہیں کبھی یہ ڈر نہیں لگتا کہ ایک دن جب سارے خیمے اکھڑ جائیں گے، تو تم بالکل اکیلی رہ جاؤ گی؟

عنبر نے کھڑکی سے باہر، ڈوبتے سورج کی طرف دیکھا۔ یہی تو اصل کامیابی ہے زویہ۔ جس دن سب خیمے اکھڑ جائیں گے، اس دن میں تنہا نہیں ہوں گی, میں اپنی ذات کے ساتھ مکمل ہوں گی۔ لوگ ہمیں بدلنے آتے ہیں، اور میں نے ہر بدلتے موسم میں خود کو نئے سرے سے پہچانا ہے۔ اب میرا دل کسی کے ہونے یا نہ ہونے کا محتاج نہیں رہا۔ اب یہ صرف میرا گھر ہے۔

ارحہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔  تو آپی، کیا آپ اب کسی کو اپنے دل میں جگہ نہیں دیں گی؟

عنبر مسکرائی۔ دوں گی ارحہ، ضرور دوں گی۔ مگر اب فرق یہ ہے کہ میں جانتی ہوں کہ ہر خیمہ عارضی ہوتا ہے۔ میں کسی کو اپنے دل کا مالک نہیں بناؤں گی، بس مہمان بنا کر رکھوں گی, عزت سے، محبت سے ... مگر اس یقین کے ساتھ کہ اس کا اصل مالک تو وہی ہے جس نے اسے دھڑکن عطا کی ہے۔ جو ٹھہرے گا، اس کا شکریہ۔ جو چلا جائے گا، اسے دعا کے ساتھ رخصت کروں گی۔ اور جو باقی رہے گا، وہ صرف میں ہوں گی، اپنے دل کی خیمہ گاہ کے ساتھ، مکمل اور مطمئن۔

عنبر نے ٹوٹی گھڑی کو نرمی سے الماری میں واپس رکھا، دروازہ بند کیا اور مسکرا دی۔ اس کے قدموں میں اب وہ لرزش نہیں تھی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ زویہ اور ارحہ نے ایک دوسرے کو دیکھا، اور دونوں کے چہروں پر بھی سکون کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔ کھڑکی سے آخری کرن غائب ہو چکی تھی، کمرے میں ایک نئی روشنی اتر آئی تھی , وہ روشنی جو باہر سے نہیں، اندر سے آتی ہے۔

عنبر نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا، جیسے کسی نے اس کے کان میں سرگوشی کی ہو کہ ہر خیمے کے اکھڑنے کے پیچھے بھی ایک حکمت پوشیدہ ہوتی ہے، جسے سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ دل کی خیمہ گاہ میں ہر آنے والے کو جگہ دینا آسان ہے، مگر ہر جانے والے کے بعد اسے دوبارہ آباد کرنا اصل ہنر ہے۔ عنبر جان چکی تھی کہ خیمہ گاہ کی اصل خوبصورتی اس کے مکینوں میں نہیں، بلکہ خود اپنے وجود کی مضبوطی میں ہوتی ہے۔ اسے احساس ہوا کہ یہ سبق تو صدیوں سے تاریخ کے اوراق پر رقم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خیمہ گاہ صرف رہائش کا نام نہیں، بلکہ صبر، استقامت اور یقین کی علامت بھی رہی ہے۔ اسی لیے خیمہ گاہ کا ذکر ہوتے ہی ذہن بے اختیار کربلا کی جانب سفر کرنے لگتا ہے۔ شاید یہی وہ سبق ہے جو صدیوں پہلے کربلا کی خیمہ گاہ نے دنیا کو سکھایا تھا کہ خیمے اکھڑ سکتے ہیں، آگ لگ سکتی ہے، سامان لٹ سکتا ہے، مگر جو دل اللہ کی رضا پر جما رہے، اسے کوئی طوفان نہیں ہلا سکتا۔ کربلا کے خیموں میں بسنے والوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے خیمے جلتے، اپنے پیارے بچھڑتے اور اپنی دنیا بکھرتی دیکھی، مگر ان کا یقین نہیں اکھڑا، کیونکہ ان کی اصل خیمہ گاہ دل میں تھی، ریت پر نہیں۔


رات ڈھلتی گئی اور خیمہ گاہ کی دھول میں وہ سب کہانیاں دفن ہوتی گئیں جنہیں تاریخ نے صدیوں بعد بھی زندہ رکھا۔ آج بھی، دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں کوئی خیمہ گاہ آباد ہے — کہیں جنگ سے بھاگے لوگوں کی، کہیں بے گھروں کی، کہیں ان کی جو صرف زندہ رہنے کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ اور شاید یہی وہ سبق ہے جو تاریخ ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے: عمارتیں گر جاتی ہیں، دیواریں ڈھے جاتی ہیں، مگر جو صبر خیمے کے کپڑے میں پناہ لیتا ہے، وہ کبھی نہیں گرتا۔ خیمہ گاہ ہر دور میں بدلتی رہی، مگر اس کا پیغام آج بھی وہی ہے: استقامت کو گھر کی ضرورت نہیں ہوتی، بس ایک ثابت قدم دل کافی ہوتا ہے۔

دل خیمہ گاہ ضرور ہے، مگر اس کی اصل امانت اسی ذات کی ہے جس نے اسے دھڑکن عطا کی , وہ ذات جو ہر آنے اور جانے والے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ لوگ خیمے لگاتے اور اکھاڑتے رہیں گے، رشتے بنتے اور بکھرتے رہیں گے، مگر جو دل اللہ کی یاد کو اپنا مستقل مکین بنا لیتا ہے، اس کی خیمہ گاہ کبھی ویران نہیں ہوتی۔ کیونکہ اصل سکون کسی مسافر کے ٹھہرنے میں نہیں، بلکہ اس یقین میں ہے کہ خیمہ گاہ کا اصل مالک وہی ہے جو کبھی رخصت نہیں ہوتا، جو دلوں کو دھڑکن دیتا ہے، جو ہر خالی جگہ کو اپنے قرب سے بھر دیتا ہے۔ اور جس طرح کربلا کی خیمہ گاہ آج بھی صبر اور استقامت کی علامت ہے، اسی طرح ہر وہ دل بھی امر ہو جاتا ہے جو اپنے خیمے اکھڑنے کے باوجود اپنے رب سے وابستگی نہیں چھوڑتا

زندگی ایک نوٹ بک — قسط 5: ادھوری دعائیں

  قسط 5 — ادھوری دعائیں وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔ زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ...