قسط 5 — ادھوری دعائیں
وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔
زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں جن پر ہم اپنی خواہشیں لکھتے ہیں، اور پھر ان کے سامنے بیٹھ کر انتظار کرنے لگتے ہیں۔
ہمیں لگتا ہے کہ اگر دل سے مانگا ہے تو مل بھی جائے گا۔ اگر آنکھیں نم ہوئی ہیں تو دعا قبول ہو جائے گی۔ اگر راتوں کی خاموشی میں کسی خواہش کو بار بار اللہ کے سامنے رکھا ہے تو ایک دن وہ خواہش حقیقت بن کر ہمارے سامنے آ کھڑی ہوگی۔
مگر زندگی ہمیشہ ہماری امیدوں کے مطابق نہیں لکھتی۔
کبھی ہم بہت مانگتے ہیں، مگر انتظار ختم نہیں ہوتا۔ کبھی دروازہ کھلتا ہی نہیں۔ اور کبھی وہ چیز مل جاتی ہے جس کے لیے ہم نے دعا نہیں کی ہوتی، جب کہ جسے ہم نے اپنی زندگی کا سب سے ضروری حصہ سمجھا تھا، وہ ہماری دسترس سے باہر رہتا ہے۔
تب انسان کے اندر ایک خاموش سوال جنم لیتا ہے:
"یا اللہ، میں نے تو یہی مانگا تھا، پھر مجھے یہ کیوں نہیں ملا؟"
یہ سوال ہمیشہ بے یقینی سے پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ ایک تھکے ہوئے دل کی آواز ہوتا ہے، جو سمجھ نہیں پاتا کہ جس چیز کو اس نے اپنے لیے خیر سمجھا، وہ اس کے حصے میں کیوں نہیں آئی۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ کوئی رشتہ قائم رہے، کوئی اپنا واپس آ جائے، کوئی خواب پورا ہو جائے، کسی مشکل کا خاتمہ ہو، یا زندگی کا کوئی بند دروازہ کھل جائے۔
ہم اپنے ذہن میں جواب کی ایک صورت بنا لیتے ہیں۔
ہم طے کر لیتے ہیں کہ خوشی کیسی دکھائی دے گی، مسئلہ کیسے حل ہوگا، اور ہماری زندگی کس موڑ پر جا کر آسان ہو جائے گی۔
پھر جب جواب ہماری بنائی ہوئی صورت میں نہیں آتا، تو ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہماری دعا ادھوری رہ گئی۔
لیکن کیا واقعی ہر وہ دعا ادھوری ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہماری خواہش جیسا نہ ہو؟
یا ہم نے دعا کے ساتھ ساتھ اس کے جواب کی شکل بھی خود مقرر کر رکھی ہوتی ہے؟
ہم بھول جاتے ہیں کہ دعا اللہ کے سامنے اپنی خواہش رکھنے کا نام ہے، مگر اس کے جواب کی صورت اور وقت ہمارے بس میں نہیں۔
ہم مانگ سکتے ہیں، مگر ہر چیز کو اپنے حق میں طے نہیں کر سکتے۔
ہم چاہ سکتے ہیں، مگر چاہنے سے حقیقت پر ہمارا زور قائم نہیں ہو جاتا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں دعا صرف مانگنے کا عمل نہیں رہتی، بلکہ انسان کو اپنی حد پہچاننے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
کچھ دعائیں وقت کے ساتھ قبولیت کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
کچھ کے جواب ہمیں بہت دیر بعد سمجھ آتے ہیں۔
اور کچھ خواہشوں کے بارے میں ہمیں شاید کبھی معلوم نہ ہو کہ وہ پوری کیوں نہیں ہوئیں۔
انسان کے لیے سب سے مشکل بات صرف انتظار کرنا نہیں، بلکہ انتظار کے دوران اپنے یقین کو سنبھالے رکھنا ہے۔
کیونکہ جب دن مہینوں میں، اور مہینے برسوں میں بدلنے لگیں تو دل سوال کرنے لگتا ہے۔
کیا میری دعا سنی گئی؟
کیا میری خاموشی بے معنی تھی؟
کیا میری امید محض میری اپنی بنائی ہوئی کہانی تھی؟
ایسے لمحوں میں ہمیں اپنے دل کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ دیر سے ملنے یا نہ ملنے والی چیز کے بارے میں بھی ہم مکمل علم نہیں رکھتے، اور نہ ہی ہر محرومی کے پیچھے چھپی حکمت کو فوراً سمجھ سکتے ہیں۔
لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے: دعا کا جواب ہماری خواہش کے مطابق نہ آنا، اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہم اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔
اور کسی مشکل کا برقرار رہنا بھی یہ ثابت نہیں کرتا کہ ہماری دعا بے اثر رہی۔
کبھی انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ بدلنا پڑتا ہے۔ کبھی اسے اپنی خواہش پر دوبارہ غور کرنا پڑتا ہے۔ اور کبھی اسے کسی ایسے سوال کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے جس کا جواب اس وقت اس کے پاس نہیں ہوتا۔
یہ سب آسان نہیں ہوتا۔
ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی سوال نہ کرے، کبھی اداس نہ ہو، یا کبھی انتظار سے تھکے ہی نہ۔
شاید ایمان یہ ہے کہ سوالوں کے باوجود اللہ سے اپنا تعلق قائم رکھا جائے؛ اپنی کمزوری کو بھی اسی کے سامنے رکھا جائے، اور اپنے دل کی الجھن کو چھپانے کے بجائے اسی سے رہنمائی مانگی جائے۔
کیونکہ اللہ سے بات کرنے کے لیے ہر بار مطمئن ہونا ضروری نہیں۔
کبھی انسان صرف اتنا کہہ پاتا ہے:
"یا اللہ، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میرے لیے بہتر کیا ہے۔ میں اپنی خواہش سے آگے نہیں دیکھ پا رہا۔ اگر میں کسی ایسی چیز کے پیچھے ہوں جو میرے حق میں بہتر نہیں، تو مجھے اس سے بہتر راستہ دکھا دے۔ اور اگر یہ انتظار میرے لیے ضروری ہے، تو مجھے اس انتظار میں سنبھال لے۔"
بعض اوقات یہی وہ دعا ہوتی ہے جس میں انسان اپنی خواہش کے ساتھ اپنی بے بسی بھی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔
زندگی ایک نوٹ بک ہے۔
اور اس نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر ہماری دعائیں لکھی ہوتی ہیں، مگر ان کے جواب کے لیے جگہ خالی رہ جاتی ہے۔
ہم اس خالی جگہ کو بار بار دیکھتے ہیں۔
کبھی وہاں امید لکھتے ہیں، کبھی مایوسی، کبھی شکوہ، اور کبھی ایک نیا سوال۔
مگر ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ خالی جگہ ہمیشہ محرومی کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ ہماری محدود سمجھ اور نامعلوم مستقبل کے درمیان موجود فاصلہ ہوتی ہے۔
ہمیں صرف اتنا دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے کیا مانگا تھا اور ہمیں کیا ملا۔
ہم یہ نہیں جانتے کہ اگر ہماری خواہش اسی وقت پوری ہو جاتی تو ہماری زندگی کس سمت جاتی، اور اگر کوئی دوسرا راستہ کھلتا ہے تو اس میں ہمارے لیے کیا امکانات موجود ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر محرومی لازماً کسی بڑی خوشی کی تمہید ہے، یا ہر درد کے پیچھے کوئی ایسا انعام ضرور ہے جسے ہم بعد میں دیکھ لیں گے۔
کچھ دکھ واقعی دکھ ہوتے ہیں۔ کچھ انتظار واقعی تھکا دیتے ہیں۔ اور کچھ سوال انسان کے ساتھ بہت طویل عرصے تک رہتے ہیں۔
مگر زندگی کا سارا مفہوم صرف اس بات میں بھی تو نہیں کہ ہماری ہر خواہش پوری ہو جائے۔
کبھی مفہوم اس میں ہوتا ہے کہ خواہش پوری نہ ہونے کے باوجود ہم اپنے اندر کی نرمی محفوظ رکھیں۔ کبھی اس میں کہ محرومی ہمیں دوسروں کے دکھ سمجھنا سکھا دے۔ اور کبھی اس میں کہ ہم اپنی پوری زندگی کو ایک نامکمل خواہش کے حوالے نہ کر دیں۔
ہر ادھوری دعا کے بعد زندگی ختم نہیں ہو جاتی، مگر بعض اوقات ہم اپنی زندگی کو اسی دعا کے جواب کے انتظار میں روک دیتے ہیں۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس اب بھی کچھ صفحات باقی ہیں۔
کچھ رشتے جنہیں محبت چاہیے، کچھ ذمہ داریاں جنہیں ہماری توجہ درکار ہے، کچھ خوشیاں جو ہماری توقع سے مختلف صورت میں ہمارے سامنے آ سکتی ہیں، اور کچھ راستے جن پر ہم نے صرف اس لیے قدم نہیں رکھا کہ ہماری نظر اب بھی ایک بند دروازے پر جمی ہوئی ہے۔
دعا کرنا امید ہے، مگر زندگی کو صرف ایک نتیجے سے باندھ دینا اپنے لیے بہت تنگ جگہ بنا لینا ہے۔
مانگتے رہیے، کوشش کرتے رہیے، راستے تلاش کرتے رہیے؛ مگر اپنی زندگی کو اس شرط پر معطل نہ کیجیے کہ جب تک وہ ایک خاص دعا پوری نہیں ہوگی، آپ آگے نہیں بڑھیں گے۔
کیونکہ کبھی کبھی ہمیں اپنی خواہش کے لیے کوشش جاری رکھتے ہوئے بھی زندگی کے دوسرے صفحات لکھنے ہوتے ہیں۔
اور پھر ایک دن انسان اپنی نوٹ بک کے پرانے صفحات پلٹتا ہے۔
وہ کچھ دعاؤں کو دیکھتا ہے جن کے جواب اسے مل گئے تھے، کچھ کو جن کے جواب اس کی توقع سے مختلف تھے، اور کچھ کو جن کے بارے میں آج بھی وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
شاید اس وقت اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی صرف ان چیزوں کا مجموعہ نہیں تھی جو اسے مل گئیں۔
وہ ان دنوں سے بھی بنی تھی جن میں اس نے انتظار کیا، ان راستوں سے بھی جنہیں اسے بدلنا پڑا، اور ان فیصلوں سے بھی جن میں اس نے اپنی خواہش کے باوجود حقیقت کو قبول کرنا سیکھا۔
لیکن قبول کرنا، ہار مان لینا نہیں ہوتا۔
قبول کرنا کبھی کبھی یہ سمجھنا ہوتا ہے کہ میں اپنی خواہش کو اہم سمجھ سکتا ہوں، اس کے لیے دعا بھی کر سکتا ہوں، مگر اپنی پوری زندگی کی قدر کو اس کے ملنے یا نہ ملنے سے طے نہیں کروں گا۔
اور دعا کے سفر میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے:
ابتدا میں ہم اللہ سے کہتے ہیں، "مجھے وہ دے دے جو میں چاہتا ہوں۔"
پھر وقت کے ساتھ کبھی ہماری دعا یہ بن جاتی ہے، "یا اللہ، مجھے وہ راستہ دکھا جس میں میرے لیے خیر ہو۔"
اور بعض لمحوں میں ہم صرف اتنا کہہ پاتے ہیں:
"یا اللہ، مجھے ہر جواب سمجھ نہیں آتا، مگر میں تجھ سے رہنمائی مانگتا ہوں۔ میرے لیے آسانی پیدا کر، مجھے درست فیصلہ کرنے کی توفیق دے، اور میرے دل کو مایوسی میں گم ہونے سے بچا۔"
یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں آتی۔
یہ کئی خاموش راتوں، کئی سوالوں اور کئی ایسے صفحات کے بعد آتی ہے جن پر ہم نے اپنی مرضی کا جواب نہیں دیکھا ہوتا۔
مگر پھر بھی ہم قلم اٹھاتے ہیں۔
کیونکہ ہماری نوٹ بک میں ابھی بہت کچھ لکھا جانا باقی ہوتا ہے۔
شاید ادھوری دعا کا سب سے گہرا سوال یہ نہیں کہ اللہ نے ہمیں وہ کیوں نہیں دیا جو ہم مانگتے رہے؛ بلکہ یہ ہے کہ جس چیز کے انتظار میں ہم نے اپنی زندگی کا کتنا حصہ گزار دیا، کیا ہم نے اس انتظار کے دوران زندگی کو جینا بھی یاد رکھا؟
ہماری خواہشیں اہم ہیں، مگر وہ ہماری پوری ذات نہیں۔
ہماری دعائیں قیمتی ہیں، مگر ہماری زندگی صرف ان کے جواب آنے تک محدود نہیں۔
اور بھروسا شاید یہ نہیں کہ ہمیں پہلے سے معلوم ہو کہ انجام کیا ہوگا؛ بلکہ یہ ہے کہ نامعلوم انجام کے باوجود ہم خیر مانگنا، درست کوشش کرنا، اور اپنی زندگی کو بامعنی بنانا نہ چھوڑیں۔
آخرکار، نوٹ بک بند ہونے سے پہلے ہمیں بہت سے صفحات ملیں گے جن پر ہماری خواہشیں پوری ہوئی ہوں گی، اور بہت سے ایسے بھی جن پر سوال باقی رہ گئے ہوں گے۔
تب ہمیں یہ سمجھ آئے گی کہ ہر سوال کا جواب جان لینا ہمارے بس میں نہیں تھا۔
مگر اپنے حصے کی زندگی کو صرف انتظار میں گزار دینا بھی ضروری نہیں تھا۔
کچھ دعائیں ہمیں وہ چیز نہیں دلا سکیں جسے ہم اپنی خوشی سمجھتے تھے؛ مگر ان کے انتظار میں ہمیں یہ سیکھنا تھا کہ خوشی، امید اور جینے کا حوصلہ کسی ایک خواہش کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
اور شاید سب سے اہم بات یہی ہے:
دعا کے جواب کا انتظار ضرور کیجیے، مگر اپنی زندگی کو جواب آنے تک خالی صفحہ مت رہنے دیجیے۔
کچھ صفحات آپ کی خواہش سے لکھے جائیں گے، کچھ آپ کی سمجھ سے باہر ہوں گے، اور کچھ کے معنی شاید آپ کو کبھی پوری طرح معلوم نہ ہوں۔
مگر جب تک قلم آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ کے پاس ایک انتخاب باقی ہے:
آپ انتظار کو اپنی پوری کہانی بناتے ہیں،
یا انتظار کے درمیان بھی
زندگی کی کوئی سچی سطر لکھ دیتے ہیں۔
کیونکہ ہر دعا کا جواب جان لینا شاید ضروری نہ ہو، مگر دعا کرتے ہوئے اپنے رب سے جڑے رہنا، اپنی کوشش جاری رکھنا، اور زندگی کی امانت کو بے معنی نہ ہونے دینا، یہ سب اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
اور ادھوری دعا ہمیشہ ادھوری زندگی کی علامت نہیں ہوتی؛ کبھی وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری زندگی کا مفہوم صرف اس میں نہیں کہ ہمیں کیا ملا، بلکہ اس میں بھی ہے کہ جو نہیں ملا، اس کے باوجود ہم نے اپنے حصے کی زندگی کیسے گزاری۔
جاری ہے…
تحریر
ایلاف






