دل ایک خیمہ گاہ اور اس کے مسافر
ازقلم ✍️ Elaf (ایلاف)
دل ایک خیمہ گاہ ہے۔یہاں لوگ ہمیشہ کے لیے بسیرا کرنے نہیں آتے، بلکہ ہمارے وجود میں کوئی نہ کوئی تبدیلی چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کوئی امید کا چراغ جلا جاتا ہے، کوئی یقین کی چادر تار تار کر دیتا ہے، کوئی دعا بن کر ٹھہرتا ہے اور کوئی آزمائش بن کر آیا اور گزر گیا۔ آخر میں جب سب خیمے اکھڑ جاتے ہیں تو انسان خود اپنے دل کا واحد مکین رہ جاتا ہے۔
عنبر اپنے کمرے میں، پرانی الماری کے سامنے بیٹھی تھی۔ باہر شام ڈھل رہی تھی اور کھڑکی سے آتی نارنجی روشنی کمرے میں پھیل رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹی ہوئی گھڑی تھی، کسی گزرے ہوئے رشتے کی آخری نشانی۔ الماری میں بکھری پرانی تصویریں، خط، اور ایک سوکھا ہوا پھول بھی پڑا تھا۔ عنبر نے گھڑی کو ہاتھ میں گھماتے ہوئے، آہستہ سے کہا: "تم نے تو وقت بدلنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن تم خود وقت کے ساتھ بدل گئے۔ کتنی عجیب بات ہے میرا دل تو بس ایک عارضی پڑاؤ تھا، اور تم نے اسے اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھ لیا تھا۔"
دروازہ ہلکا سا کھلا۔ اس کی دوست زویہ، جو برسوں سے اس کے ہر دکھ سکھ میں ساتھ رہی تھی، اندر داخل ہوئی۔ عنبر! پھر وہی پرانی چیزیں لیے بیٹھی ہو؟ زویہ نے پوچھا۔ کیوں خود کو انہی یادوں میں الجھائے رکھتی ہو؟ جس نے جانا تھا، وہ چلا گیا۔ خیمہ تو کب کا اکھڑ چکا، پھر اس خالی جگہ کو دیکھ کر کیوں اداس ہوتی ہو؟
عنبر مسکرا دی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ اداس نہیں ہوں زویہ۔ بس دیکھ رہی ہوں کہ اس خیمے میں کتنے مسافر آئے۔ کسی نے یہاں امید کے دیپ جلائے، کسی نے بے یقینی کا اندھیرا بکھیرا، اور کوئی ایک آزمائش بن کر آیا۔ لیکن ہر بار جب خیمہ اکھڑا، میں نے خود کو پہلے سے ذرا مضبوط پایا۔
مضبوط؟ زویہ نے حیرت سے پوچھا۔ یہ کیسی مضبوطی ہے جو ہر بار ٹوٹ کر ملتی ہے؟
عنبر نے سنجیدگی سے جواب دیا: دیکھو زویہ، جب کوئی خیمہ لگانے آتا ہے، تو جاتے وقت کچھ چیزیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی ہنسنا سکھا جاتا ہے، تو کوئی خاموشی کا مفہوم سکھا جاتا ہے۔ اگر میں ہر جانے والے کے بعد خیمہ نہ اکھاڑوں، تو نیا مسافر کہاں ٹھہرے گا؟ زندگی رکنے کا نام نہیں۔ میرا دل ایک خیمہ گاہ ہے، یہ کسی ایک کا مستقل ٹھکانہ نہیں ہو سکتا۔
اسی وقت کمرے کا دروازہ پھر کھلا۔ عنبر کی چھوٹی بہن، ارحہ، جو ابھی کالج میں پڑھتی تھی، اندر آئی۔ اس کے چہرے پر بھی الجھن تھی۔ آپی، میں نے آپ دونوں کی باتیں سن لیں، ارحہ نے آہستہ سے کہا۔ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ جو لوگ چلے جاتے ہیں، وہ ہمیشہ کے لیے کچھ خالی کر جاتے ہیں۔ کیا واقعی وہ خالی جگہ کبھی بھر پاتی ہے؟"
عنبر ارحہ کے قریب بیٹھ گئی اور نرمی سے سمجھایا, ارحہ، خالی جگہ بھرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بس اسے قبول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر خالی جگہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم کتنے مضبوط ہو چکے ہیں۔ جو لوگ خیمہ گاہ میں آتے ہیں، وہ ہمیں مکمل کرنے نہیں آتے، ہمیں ہماری اپنی پہچان سے ملا جاتے ہیں۔
کچھ توقف کے بعد زویہ نے آہستہ سے پوچھا: کیا تمہیں کبھی یہ ڈر نہیں لگتا کہ ایک دن جب سارے خیمے اکھڑ جائیں گے، تو تم بالکل اکیلی رہ جاؤ گی؟
عنبر نے کھڑکی سے باہر، ڈوبتے سورج کی طرف دیکھا۔ یہی تو اصل کامیابی ہے زویہ۔ جس دن سب خیمے اکھڑ جائیں گے، اس دن میں تنہا نہیں ہوں گی, میں اپنی ذات کے ساتھ مکمل ہوں گی۔ لوگ ہمیں بدلنے آتے ہیں، اور میں نے ہر بدلتے موسم میں خود کو نئے سرے سے پہچانا ہے۔ اب میرا دل کسی کے ہونے یا نہ ہونے کا محتاج نہیں رہا۔ اب یہ صرف میرا گھر ہے۔
ارحہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ تو آپی، کیا آپ اب کسی کو اپنے دل میں جگہ نہیں دیں گی؟
عنبر مسکرائی۔ دوں گی ارحہ، ضرور دوں گی۔ مگر اب فرق یہ ہے کہ میں جانتی ہوں کہ ہر خیمہ عارضی ہوتا ہے۔ میں کسی کو اپنے دل کا مالک نہیں بناؤں گی، بس مہمان بنا کر رکھوں گی, عزت سے، محبت سے ... مگر اس یقین کے ساتھ کہ اس کا اصل مالک تو وہی ہے جس نے اسے دھڑکن عطا کی ہے۔ جو ٹھہرے گا، اس کا شکریہ۔ جو چلا جائے گا، اسے دعا کے ساتھ رخصت کروں گی۔ اور جو باقی رہے گا، وہ صرف میں ہوں گی، اپنے دل کی خیمہ گاہ کے ساتھ، مکمل اور مطمئن۔
عنبر نے ٹوٹی گھڑی کو نرمی سے الماری میں واپس رکھا، دروازہ بند کیا اور مسکرا دی۔ اس کے قدموں میں اب وہ لرزش نہیں تھی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ زویہ اور ارحہ نے ایک دوسرے کو دیکھا، اور دونوں کے چہروں پر بھی سکون کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔ کھڑکی سے آخری کرن غائب ہو چکی تھی، کمرے میں ایک نئی روشنی اتر آئی تھی , وہ روشنی جو باہر سے نہیں، اندر سے آتی ہے۔
عنبر نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا، جیسے کسی نے اس کے کان میں سرگوشی کی ہو کہ ہر خیمے کے اکھڑنے کے پیچھے بھی ایک حکمت پوشیدہ ہوتی ہے، جسے سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ دل کی خیمہ گاہ میں ہر آنے والے کو جگہ دینا آسان ہے، مگر ہر جانے والے کے بعد اسے دوبارہ آباد کرنا اصل ہنر ہے۔ عنبر جان چکی تھی کہ خیمہ گاہ کی اصل خوبصورتی اس کے مکینوں میں نہیں، بلکہ خود اپنے وجود کی مضبوطی میں ہوتی ہے۔ اسے احساس ہوا کہ یہ سبق تو صدیوں سے تاریخ کے اوراق پر رقم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خیمہ گاہ صرف رہائش کا نام نہیں، بلکہ صبر، استقامت اور یقین کی علامت بھی رہی ہے۔ اسی لیے خیمہ گاہ کا ذکر ہوتے ہی ذہن بے اختیار کربلا کی جانب سفر کرنے لگتا ہے۔ شاید یہی وہ سبق ہے جو صدیوں پہلے کربلا کی خیمہ گاہ نے دنیا کو سکھایا تھا کہ خیمے اکھڑ سکتے ہیں، آگ لگ سکتی ہے، سامان لٹ سکتا ہے، مگر جو دل اللہ کی رضا پر جما رہے، اسے کوئی طوفان نہیں ہلا سکتا۔ کربلا کے خیموں میں بسنے والوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے خیمے جلتے، اپنے پیارے بچھڑتے اور اپنی دنیا بکھرتی دیکھی، مگر ان کا یقین نہیں اکھڑا، کیونکہ ان کی اصل خیمہ گاہ دل میں تھی، ریت پر نہیں۔
رات ڈھلتی گئی اور خیمہ گاہ کی دھول میں وہ سب کہانیاں دفن ہوتی گئیں جنہیں تاریخ نے صدیوں بعد بھی زندہ رکھا۔ آج بھی، دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں کوئی خیمہ گاہ آباد ہے — کہیں جنگ سے بھاگے لوگوں کی، کہیں بے گھروں کی، کہیں ان کی جو صرف زندہ رہنے کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ اور شاید یہی وہ سبق ہے جو تاریخ ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے: عمارتیں گر جاتی ہیں، دیواریں ڈھے جاتی ہیں، مگر جو صبر خیمے کے کپڑے میں پناہ لیتا ہے، وہ کبھی نہیں گرتا۔ خیمہ گاہ ہر دور میں بدلتی رہی، مگر اس کا پیغام آج بھی وہی ہے: استقامت کو گھر کی ضرورت نہیں ہوتی، بس ایک ثابت قدم دل کافی ہوتا ہے۔
دل خیمہ گاہ ضرور ہے، مگر اس کی اصل امانت اسی ذات کی ہے جس نے اسے دھڑکن عطا کی , وہ ذات جو ہر آنے اور جانے والے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ لوگ خیمے لگاتے اور اکھاڑتے رہیں گے، رشتے بنتے اور بکھرتے رہیں گے، مگر جو دل اللہ کی یاد کو اپنا مستقل مکین بنا لیتا ہے، اس کی خیمہ گاہ کبھی ویران نہیں ہوتی۔ کیونکہ اصل سکون کسی مسافر کے ٹھہرنے میں نہیں، بلکہ اس یقین میں ہے کہ خیمہ گاہ کا اصل مالک وہی ہے جو کبھی رخصت نہیں ہوتا، جو دلوں کو دھڑکن دیتا ہے، جو ہر خالی جگہ کو اپنے قرب سے بھر دیتا ہے۔ اور جس طرح کربلا کی خیمہ گاہ آج بھی صبر اور استقامت کی علامت ہے، اسی طرح ہر وہ دل بھی امر ہو جاتا ہے جو اپنے خیمے اکھڑنے کے باوجود اپنے رب سے وابستگی نہیں چھوڑتا
جو احساس دل میں اتر جائیں، جو باتیں لبوں تک نہ آ سکیں، اور جو کہانیاں خاموشی میں جنم لیں انہیں لفظ دینے کی ایک کوشش۔
بدھ، 9 ستمبر، 2026
خیمہ گاہ
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
زندگی ایک نوٹ بک — قسط 5: ادھوری دعائیں
قسط 5 — ادھوری دعائیں وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔ زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ...
-
زندگی ایک نوٹ بک ازقلم ایلاف قسط اوّل — پہلا صفحہ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر زندگی واقعی ایک نوٹ بک ہوتی، تو اس کا پہلا صفحہ کیسا ہوتا؟ شاید ...
-
زندگی ایک نوٹ بک قسط دوم "خالی صفحات" کچھ عمر تک انسان کو لگتا ہے کہ زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات کوئی اور پلٹ رہا ہے۔ بچپن ...
-
قسط 5 — ادھوری دعائیں وہ دعائیں جن کا جواب دیر سے آیا، یا ہماری خواہش کے مطابق نہیں آیا۔ زندگی کی نوٹ بک میں کچھ صفحات ایسے ہوتے ...

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں