از قلم ایلاف
دورِ جدید کے خانہ بدوش
"ہم سفر تو بہت کرتے ہیں،
مگر کیا کبھی اپنے اندر بھی اترتے ہیں؟"
رات کافی گزر چکی تھی۔
رمشا کئی بار اپنا فون دیکھ چکی تھی۔ سیمر کا کوئی پیغام نہیں آیا تھا۔
عام طور پر وہ چاہے کتنا ہی مصروف ہو، دوستوں کے گروپ میں کوئی نہ کوئی بات ضرور کر دیتا تھا۔ کبھی احمر سے بے مقصد بحث، کبھی زویا کی کسی بات پر طنز، اور کبھی رمشا کو صرف ایک لفظ بھیج دیتا:
"جاگ رہی ہو؟"
مگر آج عجیب خاموشی تھی۔
رمشا نے دوبارہ چیٹ کھولی۔ سیمر آن لائن تھا۔ اس نے فوراً کال ملا دی۔ کافی دیر بعد فون اٹھا۔
"ہیلو؟"
"کہاں ہو؟"
"گھر پر۔"
"پتا ہے۔"
سیمر خاموش ہو گیا۔
"تم ٹھیک ہو؟"
"ہاں۔"
"سیمر... یہ 'ہاں' والی آواز تمہاری نہیں ہے۔"
دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔
"احمر بھی تمہیں کال کر رہا تھا۔ زویا نے بھی پوچھا کہ اتنے دنوں سے گروپ میں خاموش کیوں ہو۔ سب کو فکر ہو رہی ہے۔"
"سب کو میری اتنی فکر کیوں ہے؟"
رمشا نے فوراً جواب نہیں دیا، پھر بولی:
"کیونکہ تم ہمارے دوست ہو۔ اور دوستوں کو کبھی کبھی وجہ نہیں چاہیے ہوتی۔"
سیمر نے آنکھیں بند کر لیں۔
وہ واقعی کچھ دنوں سے خود کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے فون اٹھاتا، نوٹیفیکیشنز، میسجز، اپڈیٹس۔ ابھی بستر سے اٹھا بھی نہیں ہوتا کہ ذہن پہلے ہی دس جگہ بٹ چکا ہوتا۔
دن گزرتا تو ماضی کی کوئی بات ذہن میں آ جاتی۔ رات ہوتی تو لگتا کہ سارا دن کچھ کیے بغیر گزر گیا، حالانکہ اسکرین ٹائم بتاتا تھا کہ گھنٹوں مصروف رہا تھا۔
موبائل کھولتا تو دوسروں کی زندگیاں سامنے ہوتیں۔
کوئی نئی نوکری کی خوشخبری دے رہا تھا، کوئی کسی نئے شہر کی تصویر لگا رہا تھا، کوئی "بیسٹ لائف" کیپشن کے ساتھ ہنس رہا تھا۔
اور وہ؟
وہ صرف دیکھ رہا تھا۔
"سیمر؟"
"ہاں۔"
"کہاں کھو گئے؟"
"پتا نہیں، رمشا۔ شاید خود سے بہت دور نکل گیا ہوں۔"
رمشا خاموش ہو گئی۔
اسی وقت سیمر کے فون پر احمر کا پیغام آیا:
"بھائی، زندہ ہو یا پھر فلسفی بن گئے ہو؟"
سیمر بے اختیار مسکرا دیا۔
پھر زویا کا پیغام:
"کل مل رہے ہیں۔ بہانے نہیں چلیں گے۔"
اگلے دن چاروں ایک خاموش سے کیفے میں بیٹھے تھے۔ باہر شام ڈھل رہی تھی، اور اندر ہلکی موسیقی کے علاوہ کچھ دیر تک کوئی نہیں بولا۔
احمر نے سیمر کو غور سے دیکھا۔
"تو جناب! آخر مسئلہ کیا ہے؟"
"کچھ نہیں۔"
"یہی تو مسئلہ ہے،" زویا فوراً بولی۔
سیمر نے نظریں اٹھائیں۔
"تم کہتے ہو کچھ نہیں، مگر تمہاری خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔"
رمشا نے آہستہ سے کہا:
"تم ہر وقت کہیں نہ کہیں جانے کی بات کرتے ہو۔ کبھی نیا شہر، کبھی نئی جاب، کبھی نئی زندگی۔"
وہ رکی۔
"مگر سیمر، تمہیں کبھی خیال آیا کہ شاید تمہیں کہیں جانے کی نہیں، کچھ دیر ٹھہرنے کی ضرورت ہے؟"
احمر نے کافی کا کپ گھماتے ہوئے کہا:
"ہماری نانی بتاتی تھیں کہ ان کے گاؤں میں کچھ لوگ خانہ بدوش ہوتے تھے۔ نہ گھر، نہ زمین، بس اونٹ اور خیمہ، اور جہاں دل چاہا، وہیں ڈیرہ ڈال دیا۔ ہر چند مہینے بعد نیا ٹھکانہ، نیا آسمان۔"
"اور ہم؟" زویا نے پوچھا۔
سیمر نے دھیرے سے جواب دیا:
"ہم خیالات کے خانہ بدوش ہیں۔"
"رشتوں کے بھی،" رمشا نے جوڑا۔
احمر مسکرایا:
"اور نوکریوں کے تو سب سے زیادہ۔ چھ مہینے میں دل بھر جاتا ہے، لگتا ہے 'گروتھ' رک گئی ہے، اور بندہ نئی جگہ CV بھیج دیتا ہے۔"
"ریلیشن شپس میں بھی وہی حال ہے،" زویا نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ "تین مہینے 'situationship'، پھر گھبراہٹ، پھر بلاک۔ کوئی commitment کی بات کرے تو ایسے لگتا ہے جیسے سانس رک جائے گی۔"
سب ہنس پڑے۔
مگر ہنسی کے پیچھے ایک سچائی چھپی تھی جسے کوئی کہنا نہیں چاہتا تھا۔
سیمر نے کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا:
"شاید ہماری نسل کا المیہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ہر وقت آگے بڑھنے کا کہا گیا، مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کبھی کبھی ٹھہرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔"
احمر نے پوچھا:
"اور یہ خانہ بدوشی کہاں سے آئی؟"
سیمر نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا:
"شاید یہ ہم سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔"
سب نے اسے دیکھا۔
"پہلے لوگ انٹرنیٹ پر جانے کے لیے کمپیوٹر آن کرتے تھے۔"
زویا مسکرائی۔
"Yahoo؟"
"Yahoo۔"
احمر فوراً بولا:
"MSN Messenger!"
رمشا ہنس پڑی:
"اور پھر Google۔"
سیمر بھی مسکرایا۔
"ہاں، Google۔ کسی چیز کا جواب چاہیے ہوتا تو ہم سرچ کرتے تھے۔ کسی کا آن لائن آنا انتظار بن جاتا تھا۔ کبھی Yahoo کی دنیا تھی، کبھی MSN کی چھوٹی سی چیٹ ونڈو، کبھی Google کے سرچ باکس میں کوئی سوال۔"
وہ چند لمحے رکا۔
"تب انٹرنیٹ ہماری زندگی کا ایک حصہ تھا، پوری زندگی نہیں۔"
احمر نے کہا:
"پھر Facebook آیا۔"
"ہاں۔"
سیمر نے سر ہلایا۔
"Facebook نے دوستوں کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ تصویریں، status، comments، likes... پھر آہستہ آہستہ ہمیں اپنی زندگی صرف جینے کے بجائے دکھانے کی عادت بھی ہونے لگی۔"
زویا نے بات آگے بڑھائی:
"پھر Instagram آیا، تو زندگی تصویروں میں بدل گئی۔"
"Snapchat نے لمحوں کو عارضی کر دیا،" رمشا نے کہا۔
"اور TikTok اور Reels نے توجہ کو چند سیکنڈز میں بانٹ دیا،" احمر نے ہنستے ہوئے کہا۔
سیمر نے موبائل کی طرف دیکھا۔
"اور اب AI ہے۔"
چند لمحے سب خاموش رہے۔
"یعنی؟" زویا نے پوچھا۔
"یعنی ہم صرف دنیا سے جواب نہیں مانگ رہے، اب مشینوں سے بھی سوال کر رہے ہیں۔"
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
"دیکھو تو سہی، سفر کتنا بدل گیا۔"
"پہلے ہم انٹرنیٹ پر جاتے تھے،" رمشا نے آہستہ سے کہا۔
"اب انٹرنیٹ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔"
سیمر نے بات مکمل کی۔
"اور شاید یہی اصل فرق ہے۔"
پرانے وقتوں کے خانہ بدوش زمین کے مسافر تھے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکتے تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ زمین بنجر ہو جاتی تو نیا چراگاہ ڈھونڈنا پڑتا۔
"اور ہم؟" زویا نے پوچھا۔
سیمر نے دھیرے سے جواب دیا:
"ہم بھی سفر میں ہیں۔ بس ہماری زمین ڈیجیٹل ہے۔"
"اور ہماری چراگاہ؟" احمر نے پوچھا۔
سیمر مسکرایا:
"اگلی چیز۔"
سب اسے دیکھنے لگے۔
"اگلی جاب، اگلا شہر، اگلا رشتہ، اگلی ویڈیو، اگلی notification، اگلا update۔"
وہ رکا۔
"ہماری خانہ بدوشی شاید مجبوری سے نہیں، بے چینی سے ہے۔"
"کیونکہ آپشنز ہی مسئلہ ہیں،" احمر بولا۔
"ایک جاب پسند نہیں آئی تو دس اور موجود ہیں سکرین پر۔ ایک بندہ بور کر دے تو نیا میچ ایک سوائپ کی دوری پر ہے۔ ہمیں کبھی 'کمی' کا سامنا ہی نہیں ہوتا، اس لیے کبھی 'کافی ہے' کا احساس بھی نہیں ہوتا۔"
زویا نے کافی کا کپ نیچے رکھا۔
"میں جب بھی Instagram کھولتی ہوں، لگتا ہے سب کی زندگی مجھ سے آگے ہے۔ کوئی سفر کر رہا ہے، کوئی پروموشن لے رہا ہے، کوئی 'perfect' رشتے میں ہے۔ اور میں سوچنے لگتی ہوں میں پیچھے کیوں ہوں؟ حالانکہ عقل کہتی ہے کہ یہ صرف ہائی لائٹس ہیں، پوری کہانی نہیں۔"
"مگر دل عقل کی نہیں سنتا،" رمشا نے کہا۔
"ہم جانتے ہوئے بھی موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ اور جب موازنہ رکتا نہیں، تو سکون بھی نہیں ملتا۔ بس اگلی چیز، اگلی جگہ، اگلا 'اپڈیٹ'۔ ہم بس چلتے رہتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ منزل کیا ہے۔"
احمر نے میز پر انگلی سے ہلکی سی لکیر بناتے ہوئے کہا:
"اور یہ سفر صرف Gen-Z تک بھی نہیں ہے۔"
زویا نے اسے دیکھا۔
"ہم سے پہلے والوں کا اپنا ڈیجیٹل سفر تھا۔ Yahoo، MSN، Google، پھر Facebook۔"
وہ سیمر کی طرف دیکھ کر بولا:
"ہم نے Instagram، Snapchat، TikTok اور Reels دیکھے۔"
پھر اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔
"اور ہمارے بعد والے؟"
"Gen Alpha،" زویا نے کہا۔
"ہاں، مگر شاید کہانی وہاں بھی نہیں رکتی۔"
سیمر نے جواب دیا۔
"Gen Alpha ایسی دنیا میں بڑی ہو رہی ہے جہاں اسکرین کوئی نئی چیز نہیں۔ ہم نے ٹیکنالوجی کو اپنایا تھا، انہوں نے اسے معمول کے طور پر دیکھا۔ اور ان کے بعد آنے والے شاید ایسی دنیا میں ہوں گے جہاں آج کی ہماری بہت سی حیرت انگیز چیزیں بھی پرانی لگیں گی۔"
رمشا نے پوچھا:
"تو کیا ہر نسل خانہ بدوش ہے؟"
سیمر نے کچھ سوچ کر کہا:
"شاید۔"
"بس خیمے بدلتے رہتے ہیں۔"
احمر نے مسکرا کر کہا۔
"پہلے خیمہ کپڑے کا ہوتا تھا، پھر کمپیوٹر کی اسکرین بنی، پھر موبائل کی اسکرین۔"
زویا نے کہا:
"اور کل؟"
سیمر نے کندھے اچکائے۔
"پتا نہیں۔ شاید اس سے بھی آگے کوئی ایسی دنیا ہو جہاں ہمیں اپنی جیب میں فون رکھنے کی بھی ضرورت نہ رہے۔"
وہ ہنسا۔
"مگر اگر انسان نے خود کو نہ سمجھا تو خیمہ چاہے کپڑے کا ہو یا کسی نئی ٹیکنالوجی کا، خانہ بدوشی ختم نہیں ہوگی۔"
رمشا نے آہستہ سے کہا:
"اور شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم سب اپنے راستے کھو دیتے ہیں۔ ہر بار کوئی نئی چیز کھلتی ہے، اور ہم دوبارہ اسی موازنے میں الجھ جاتے ہیں۔"
"کیونکہ ہم دوسروں کی منزل دیکھ کر اپنی سمت بدل لیتے ہیں۔"
سیمر نے کہا۔
سیمر نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔
لوگ آ جا رہے تھے، ہر کوئی کہیں نہ کہیں پہنچنے کی جلدی میں۔
سڑک کے پار ایک لڑکی فون پر کوئی ریلز اسکرول کر رہی تھی، دوسری طرف ایک لڑکا اکیلے بیٹھا مسلسل نوٹیفیکیشنز چیک کر رہا تھا۔
ایک بچہ اپنے والد کے فون پر کچھ دیکھ رہا تھا۔
اور ایک شخص اپنے فون پر کسی AI سے سوال پوچھ رہا تھا۔
سیمر نے دھیرے سے کہا:
"شاید دورِ جدید کا خانہ بدوش وہ نہیں جو شہر بدلتا ہے۔"
سب خاموش ہو گئے۔
"وہ ہے جو ہر وقت اسکرول کرتا رہتا ہے، اگلی خوشی کی تلاش میں، اگلے 'اپڈیٹ' کی تلاش میں، اگلی مصروفیت کی تلاش میں۔"
وہ رکا۔
"ہم بھٹکتے نہیں، بس... سوائپ کرتے ہیں۔"
احمر مسکرایا۔
سیمر نے بات مکمل کی:
"اور فرق یہ ہے کہ پرانے خانہ بدوش کو پتا ہوتا تھا وہ کیوں چل رہا ہے۔ رزق کی تلاش میں، پانی کی تلاش میں۔ ہمیں یہ بھی نہیں پتا کہ ہم کس چیز کی تلاش میں ہیں۔"
"اور خود سے؟" رمشا نے پوچھا۔
سیمر خاموش ہو گیا۔
"خود سے دور،" زویا نے جواب دیا۔
"کیونکہ اپنے آپ کے ساتھ اکیلے بیٹھنا سب سے مشکل کام لگتا ہے۔ خاموشی میں وہ سوالات اٹھتے ہیں جن کے جواب ہمارے پاس نہیں۔ اس لیے ہم مصروف رہتے ہیں۔ کسی نہ کسی چیز میں۔ نوٹیفیکیشن، ریلز، نئی پلاننگ، نئی چیٹس، نئی منزل... بس کچھ بھی، تاکہ خاموشی نہ آئے۔"
احمر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"شاید اسی لیے ہم چاروں یہاں بیٹھے ہیں۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ایک دوسرے کے سامنے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔"
سیمر نے پہلی بار تینوں کو غور سے دیکھا۔
کسی نے اسے نصیحت نہیں کی تھی۔
بس بات ہوئی تھی۔
سادہ، بغیر کسی فیصلے کے، بغیر کسی حل کے۔
اور شاید یہی کافی تھا۔
اس دن سیمر نے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا۔
بس ایک چھوٹا سا کام کیا۔
گھر جا کر اس نے فون ایک طرف رکھا، کھڑکی کھولی، اور کافی دیر خاموش بیٹھا رہا۔
نہ کسی کی زندگی دیکھی، نہ اپنی زندگی کسی کو دکھائی۔
پہلے پہل عجیب سا لگا۔
ہاتھ خود بخود فون کی طرف بڑھتے، ذہن کسی نئی مصروفیت کی تلاش میں بھٹکتا۔
مگر وہ بیٹھا رہا۔
بس خود سے ایک سوال کیا:
"میں آخر کہاں جا رہا ہوں؟"
جواب کسی شہر میں نہیں تھا۔
کسی نئی نوکری، نئے رشتے یا نئی اسکرین میں بھی نہیں۔
اور شاید کسی نئی ٹیکنالوجی میں بھی نہیں۔
شاید ہماری نسل، دورِ جدید کی Gen-Z کی، یا ہمارے بعد آنے والی Gen Alpha کی، یا ان کے بعد آنے والی کسی بھی نسل کی...
اصل کہانی ایک ہی ہے۔
دنیا بدلتی رہے گی۔
نام بدلتے رہیں گے۔
ایپس بدلتی رہیں گی۔
Yahoo سے Google تک، MSN سے Facebook تک، Facebook سے Instagram تک، Instagram سے Snapchat، TikTok اور Reels تک، اور وہاں سے AI اور ان ٹیکنالوجیز تک جن کے نام شاید آج ہمیں معلوم بھی نہیں۔
ہر دور اپنے ساتھ ایک نیا راستہ لے کر آئے گا۔
ہر نسل اپنا نیا خیمہ بنائے گی۔
اور شاید ہر نئی نسل خود کو پچھلی نسل سے زیادہ آزاد سمجھے گی۔
مگر سوال وہی رہے گا۔
"میں آخر کہاں جا رہا ہوں؟"
پرانے خانہ بدوش زمین کے مسافر تھے۔
ہم اسکرینوں کے۔
وہ خیمہ اٹھا کر چلتے تھے۔
ہم فون اٹھا کر۔
وہ نئی چراگاہ تلاش کرتے تھے۔
ہم نئی مصروفیت۔
وہ پانی تلاش کرتے تھے۔
ہم اگلی notification۔
وہ راستہ جانتے تھے۔
ہم اکثر صرف سمت بدلتے رہتے ہیں۔
اور شاید یہی دورِ جدید کی اصل خانہ بدوشی ہے۔
دنیا بھر کی اپڈیٹس دیکھ کر بھی خود اپنے اندر واپس آنے کا راستہ بھول جانا۔
ہر چیز تک رسائی کے باوجود، اپنے آپ تک رسائی کھو دینا۔
اور شاید یہ سفر یہاں بھی ختم نہیں ہوگا۔
کل کی نسل کے پاس آج سے مختلف دنیا ہوگی۔
نئی ٹیکنالوجی ہوگی۔
نئے پلیٹ فارم ہوں گے۔
نئے طریقے ہوں گے۔
شاید رابطے مزید آسان ہوں گے۔
شاید فاصلے مزید کم ہوں گے۔
شاید انسان اپنے آس پاس کی دنیا سے پہلے سے زیادہ جڑا ہوگا۔
مگر اگر وہ اپنے اندر سے کٹا رہا...
تو وہ پھر بھی خانہ بدوش ہوگا۔
کیونکہ خانہ بدوشی ہمیشہ جگہ بدلنے کا نام نہیں۔
کبھی کبھی یہ اپنی ذات سے دور ہوتے جانے کا نام بھی ہے۔
اور شاید اصل سفر وہ لمحہ ہے، جب فون ایک طرف رکھ کر، کوئی پہلی بار اپنے اندر اترنے کے لیے رک جائے۔
نہ کسی نئی جگہ کی تلاش میں۔
نہ کسی نئے شخص کی طرف۔
نہ کسی نئی اسکرین کے پیچھے۔
بلکہ بس...
اپنے آپ کی طرف۔
کیونکہ گھر شاید کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
گھر ایک فیصلہ ہوتا ہے۔
ٹھہرنے کا فیصلہ۔
اور شاید دورِ جدید کے ان تمام خانہ بدوشوں کو، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتے ہوں، ایک دن یہی سمجھنا ہوگا:
خیمے بدلتے رہیں گے۔
راستے بدلتے رہیں گے۔
دنیا بدلتی رہے گی۔
مگر انسان کے اندر ایک سوال ہمیشہ وہیں کھڑا رہے گا—
"میں کہاں جا رہا ہوں؟"
اور شاید اس سوال کا سب سے سچا جواب کسی نقشے، کسی ایپ، کسی سرچ انجن، کسی الگورتھم یا کسی AI کے پاس نہیں۔
شاید وہ جواب
انسان کو خود اپنے اندر اتر کر تلاش کرنا ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں