زندگی ایک نوٹ بک
ازقلم ایلاف
قسط اوّل — پہلا صفحہ
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر زندگی واقعی ایک نوٹ بک ہوتی، تو اس کا پہلا صفحہ کیسا ہوتا؟
شاید بالکل خاموش۔
نہ کوئی لفظ، نہ کوئی دستخط، نہ کوئی انتخاب۔
بس ایک وجود۔۔۔
جو اچانک اس دنیا کی کتاب میں درج کر دیا گیا۔
ہم میں سے کسی نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ کب پیدا ہونا ہے، کہاں پیدا ہونا ہے، کن لوگوں کے درمیان آنکھ کھولنی ہے، کون سا نام ملنا ہے، کون سے حالات ہمارا استقبال کریں گے۔
پھر بھی ہماری کہانی کا پہلا صفحہ لکھ دیا گیا۔
اور شاید زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ بھی یہی ہے کہ کتاب کا آغاز ہمارے اختیار میں نہیں تھا، مگر درمیان کے صفحات ہمیں لکھنے کے لیے دے دیے گئے۔
بچپن میں ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایک کہانی کا حصہ ہیں۔
ہم مٹی سے گھر بناتے ہیں،
کھلونوں سے دنیا آباد کرتے ہیں،
چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہوتے ہیں،
اور سمجھتے ہیں کہ زندگی ہمیشہ ایسی ہی رہے گی۔
پھر ایک دن۔۔۔
زندگی ہمارے ہاتھ سے کھلونا لے کر پہلی بار پوچھتی ہے:
"اب؟"
اور یہ "اب" ہی شاید شعور کی ابتدا ہے۔
ہمیں پہلی بار معلوم ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں ہماری مرضی سے نہیں ہوتیں۔
کچھ لوگ جنہیں ہم ہمیشہ اپنے پاس دیکھنا چاہتے ہیں، دور ہو جاتے ہیں۔
کچھ خواب جنہیں ہم اپنی آنکھوں میں برسوں سنبھالتے ہیں، حقیقت نہیں بنتے۔
کچھ دروازے پوری شدت سے کھٹکھٹانے کے باوجود نہیں کھلتے۔
اور کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر ہم چلنا ہی نہیں چاہتے، مگر زندگی ہمیں وہیں لے جاتی ہے۔
تب ہمیں لگتا ہے کہ ہماری کہانی ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔
مگر شاید مسئلہ یہ نہیں کہ کہانی ہمارے ہاتھ سے نکل گئی؛
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اختیار اور اپنے اختیار سے باہر کی چیزوں میں فرق کرنا نہیں سیکھا۔
ہم ہر واقعے کو اپنی مرضی سے ترتیب دینا چاہتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ خوشی آئے تو ہماری مرضی کے وقت آئے،
رشتے ہماری مرضی کے مطابق چلیں،
دعائیں ہماری مرضی کے مطابق قبول ہوں،
اور جدائیاں ہماری زندگی کی کتاب میں کبھی درج ہی نہ ہوں۔
مگر زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے تمام جملے ہم نہیں لکھتے۔
کچھ سطریں وقت لکھتا ہے،
کچھ حالات،
کچھ لوگ،
اور کچھ ایسی حقیقتیں جنہیں سمجھنے میں ہمیں برسوں لگ جاتے ہیں۔
شاید اسی لیے انسان کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ اس کی زندگی میں کیا لکھا گیا؛
اصل آزمائش یہ ہے کہ جو لکھا جا چکا، وہ اسے پڑھ کر آگے کیا لکھتا ہے۔
ایک ہی واقعہ دو انسانوں کی زندگی میں آ سکتا ہے،
مگر دونوں کے اگلے صفحات ایک جیسے نہیں ہوتے۔
ایک شخص شکست کے بعد خود کو ختم سمجھ لیتا ہے،
دوسرا اسی شکست سے اپنے اندر ایک نئی بصیرت پیدا کر لیتا ہے۔
ایک شخص جدائی کو صرف محرومی سمجھتا ہے،
دوسرا اسی جدائی میں اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔
ایک شخص دعا کے دیر سے قبول ہونے کو خاموشی سمجھتا ہے،
دوسرا انتظار کے دوران اپنے اندر پیدا ہونے والی تبدیلی کو پہچان لیتا ہے۔
شاید یہی فرق انسان کو صرف واقعات کا شکار ہونے سے بچاتا ہے۔
کیونکہ زندگی میں ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں،
لیکن ہر واقعے کے بعد ہمارا رویہ ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔
ہم ماضی کا صفحہ پھاڑ نہیں سکتے۔
جو ہو گیا، وہ دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا۔
کاش ایسا ممکن ہوتا کہ انسان اپنی زندگی کی کچھ سطریں مٹا دیتا۔۔۔
کسی غلط فیصلے کو،
کسی تلخ لفظ کو،
کسی بےاحتیاطی کو،
کسی ایسی رات کو جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی دل بوجھل ہو جاتا ہے۔
مگر نوٹ بک کی طرح زندگی بھی شاید یہی سکھاتی ہے کہ ہر صفحہ مٹانے کے لیے نہیں ہوتا۔
کچھ صفحات سبق بننے کے لیے ہوتے ہیں۔
کچھ غلطیاں ہمیں ہماری کمزوری دکھاتی ہیں۔
کچھ محرومیاں ہمیں اپنی حقیقت سے ملاتی ہیں۔
کچھ لوگ ہمیں محبت کا مطلب سکھا کر چلے جاتے ہیں۔
اور کچھ جدائیاں ہمیں یہ سمجھا دیتی ہیں کہ دنیا میں کسی چیز کو ہمیشہ کے لیے اپنا سمجھ لینا شاید انسان کی سب سے بڑی بھول ہے۔
پھر آہستہ آہستہ انسان کو ایک اور حقیقت سمجھ آتی ہے:
ہم زندگی کو کنٹرول نہیں کر سکتے، مگر زندگی ہمیں کس انسان میں بدل دے، اس سفر میں ہمارا کردار ضرور ہے۔
یہیں سے اللہ سے تعلق کی ایک نئی سمجھ پیدا ہوتی ہے۔
اللہ سے محبت شاید صرف اس وقت نہیں ہوتی جب زندگی ہماری خواہش کے مطابق چل رہی ہو۔
کبھی محبت اس وقت بھی سیکھنی پڑتی ہے جب جواب دیر سے آئے۔
جب دعا کے بعد بھی انتظار باقی رہے۔
جب دل کسی چیز کو چاہے اور قسمت میں کچھ اور لکھا ہو۔
جب انسان کے پاس سوال بہت ہوں اور جواب کم۔
تب ایمان شاید یہ نہیں کہ انسان کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہو؛
بلکہ یہ اعتماد ہے کہ ہر جواب فوراً سمجھ میں آنا ضروری نہیں۔
ہم وقت کو دیکھتے ہیں،
اللہ کی حکمت کا پورا احاطہ نہیں کر سکتے۔
ہم ایک صفحہ دیکھتے ہیں،
جبکہ ہماری نظر پوری کتاب تک نہیں پہنچتی۔
اسی لیے کبھی کبھی جو واقعہ ہمیں اپنی کہانی کا سب سے تاریک صفحہ لگتا ہے، وقت گزرنے کے بعد وہی صفحہ کسی بڑے سبق کا آغاز بن جاتا ہے۔
لیکن یہ سمجھ فوراً نہیں آتی۔
اس کے لیے وقت چاہیے۔
خاموش راتیں چاہیے۔
اپنے آپ سے سوال چاہیے۔
اور کبھی کبھی بہت سی ایسی دعائیں چاہیے جن کا جواب ہماری توقع کے مطابق نہیں آتا۔
انسان جلد باز ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ آج مانگے اور آج ہی مل جائے۔
آج روئے اور آج ہی سکون آ جائے۔
آج ٹوٹے اور کل تک مکمل ہو جائے۔
مگر انسان کا اندر کوئی بٹن نہیں کہ دبا اور سب کچھ بدل گیا۔
سنبھلنا ایک عمل ہے۔
اور شاید روحانی سفر بھی۔
ہم ایک دن میں اپنے رب کے قریب نہیں ہوتے۔
ہم کئی چھوٹی چھوٹی واپسیوں سے گزرتے ہیں۔
کبھی نماز میں دل لگتا ہے،
کبھی صرف الفاظ ادا ہوتے ہیں۔
کبھی دعا میں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں،
کبھی ہونٹ خاموش رہتے ہیں۔
کبھی انسان کو اپنے رب کی قربت بہت محسوس ہوتی ہے،
کبھی وہ خود کو بہت دور پاتا ہے۔
مگر شاید واپسی کا حسن یہی ہے کہ دروازہ بند محسوس ہو تب بھی انسان دستک دینا نہیں چھوڑتا۔
زندگی کی نوٹ بک کا پہلا صفحہ ہمیں ملا نہیں تھا؛
وہ ہمیں دیا گیا تھا۔
اور آخری صفحہ بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہوگا۔
اختیار صرف ان صفحات پر ہے جو ان دونوں کے درمیان ہیں۔
یہی چند صفحات ہماری ذمہ داری ہیں۔
یہیں ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ شکست ہمیں تلخ بنائے گی یا بالغ۔
یہیں ہم طے کرتے ہیں کہ محرومی ہمیں شاکی بنائے گی یا شاکر۔
یہیں ہم سیکھتے ہیں کہ محبت صرف پانے کا نام نہیں، کبھی چھوڑ دینے کا حوصلہ بھی ہے۔
یہیں ہم جانتے ہیں کہ معافی دوسروں کو آزاد کرنے سے پہلے ہمارے اپنے دل کو آزاد کرتی ہے۔
اور یہیں کہیں، زندگی کے شور سے بہت دور، انسان اپنے آپ سے ایک سوال کرتا ہے
اگر میرے پاس پوری کتاب لکھنے کا اختیار نہیں، تو کم از کم جو صفحات میرے اختیار میں ہیں، میں ان پر کیا لکھ رہا ہوں؟
شاید یہی سوال زندگی کی اصل ابتدا ہے۔
پہلا صفحہ پیدائش تھا۔
مگر اپنی کہانی کو سمجھنا شاید شعور کا پہلا صفحہ ہے۔
ابھی کتاب کھلی ہے۔
قلم ابھی ہاتھ میں ہے۔
کچھ صفحات لکھے جا چکے ہیں،
کچھ پر داغ ہیں،
کچھ پر آنسوؤں کے نشان،
کچھ پر خوشیوں کی روشنائی۔
مگر چند صفحات۔۔۔
ابھی بھی خالی ہیں۔
اور شاید یہی خالی صفحات ہماری سب سے بڑی امید ہیں۔
کیونکہ جب تک اگلا صفحہ خالی ہے، کہانی ختم نہیں ہوئی۔
جاری ہے۔۔۔

ایک خوبصورت سلسلہ نوٹ بک
جواب دیںحذف کریں